Home » سینیٹ انتخابات کا ہنگامہ اور وڈیو ڈرامہ

سینیٹ انتخابات کا ہنگامہ اور وڈیو ڈرامہ

by ONENEWS

سینیٹ انتخابات کا ہنگامہ اور وڈیو ڈرامہ

اب اس حقیقت کو بھی تسلیم کر لیا جائے کہ پاکستانی سیاست کا ایک لازمی جزو وڈیوز بھی ہیں۔ یہ وڈیوز دراصل اُس غیبی امداد کا نام ہے، جو سیاسی معاملات کو غلط یا صحیح ثابت کرنے کے لئے درکار ہوتی ہے۔پی ٹی آئی والے پہلے الزام دیتے تھے کہ وڈیوز بنانا اور انہیں اپنے مقاصد کے لئے سامنے لانا مسلم لیگ(ن) کا وطیرہ ہے۔ مرحوم جج ارشد ملک کی وڈیو سامنے آئی تو اُسے مسلم لیگ (ن) کی گھٹیا سیاست قرار دیا گیا، مگر اب ارکانِ اسمبلی کی خرید و فروخت پر مبنی ایک وڈیو اچانک منظرِ عام پر  آ گئی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی تک کسی نے اس وڈیو کو سامنے لانے کا دعویٰ نہیں کیا۔ سب سے پہلے تحقیق تو اِس بات کی ہونی چاہئے کہ تین سال پرانی وڈیو اچانک نمودار کیسے ہو گئی۔کون اسے سامنے لایا اور اس سے فائدہ کسے ہو رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے حکم سے خیبرپختونخوا کے وزیر قانون سلطان محمود سے استعفا لے لیا گیا ہے، کیونکہ وہ بھی اس وڈیو میں نظر آ رہے ہیں۔کیا یہ مقامِ حیرت نہیں کہ اڑھائی سال حکومت میں رکھنے کے بعد اربابِ اقتدار کو یہ علم ہوا کہ وزیر قانون بھی ووٹ بیچنے والوں میں شامل تھا۔ کیا یہی ہے حکومت کی انٹیلی جنس اور حالات پر نظر، کہیں ایسا تو نہیں  کہ ووٹوں کی خرید و فروخت پر اپنا موقف ثابت کرنے کے لئے حکومت نے اپنے صوبائی وزیر قانون کو قربانی کا بکرا بنایا ہو۔ سینیٹ الیکشن کے بعد تحقیقات کے نتیجے میں انہیں بے قصور قرار دے کر بحال کر دیا جائے، جیسا کہ موضوف وزیر خود بھی کہہ کر مستعفی ہوئے ہیں۔

وڈیو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ اسے بڑے منظم طریقے سے خفیہ کیمرے کے ذریعے بنایا گیا ہے، باری باری ایک ہی صوفے پر بٹھا کر ووٹ بیچنے والے ارکانِ اسمبلی کو رقم ادا کی گئی تاکہ اُن کی شکلیں وڈیو میں محفوظ ہو جائیں۔سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف نے اپنے بیس ارکان کو کس ثبوت کی بنیاد پر اسمبلی رکنیت سے فارغ کیا تھا۔ کیا وہ یہی وڈیو تو نہیں تھی جو اُس وقت ہاتھ لگی،لیکن بعدازاں اُسے ایک ثبوت کے طور پر کسی مناسب وقت کے لئے چھپا لیا گیا۔وڈیو کو سامنے لانے کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ یہ سرا سر حکومت کے مفاد میں ہے، جو اس بات کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا چکی ہے کہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ اب کہا جا رہا ہے کہ اس موقع پر وڈیو کو سامنے لانے کے دو مقاصد ہو سکتے ہیں، پہلا مقصد تو یہ ہے کہ عوام میں اس بات کو ایک بڑے سٹنٹ کے طور پر لایا جائے کہ حکومت تو سینیٹ انتخابات میں خرید و فروخت کو روکنا چاہتی ہے، لیکن اپوزیشن روڑے اٹکا رہی ہے، کیونکہ وہ ووٹ خرید کر سینیٹ میں زیادہ نشستیں حاصل کرنا چاہتی ہے۔

دوسرا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان پر مسئلے کی سنگینی ظاہر کی جائے۔کروڑوں روپے میں ضمیر بیچنے والوں کی وڈیو کو سامنے لا کر گویا سپریم کورٹ پر یہ واضح کیا گیا ہے کہ اب اگر سینیٹ میں اوپن بیلٹ کے ذریعے انتخابات نہ ہوئے تو خرید و فروخت کی صورت میں الزام عدالت پر بھی آئے گا۔

اب کل سے پی ٹی آئی کے وزراء اور ترجمانوں کا لاؤڈ سپیکر اس نکتے پر مرکوز ہے کہ دیکھا کپتان ٹھیک ہی کہتے تھے،سینیٹ انتخابات میں کروڑوں روپے کے عوض ووٹ بکتے ہیں، وڈیو اس کا ثبوت ہے۔کیا واقعی اس وڈیو کے سامنے آنے سے یہ راز کھلا ہے کہ سینیٹ کی نشست جیتنے کے لئے پیسہ چلتا ہے۔ کیا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات ہے۔ کیا اس موضوع پر سیاسی جماعتیں ہمیشہ بات نہیں کرتی رہیں۔ ایک کھلی حقیقت کو اچانک وڈیو کے ذریعے اجاگر کرنے کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ  اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جائے اور حکومت ہر قیمت پر اوپن بیلٹ کے ذریعے جو انتخابات چاہتی ہے اُس پر عملدرآمد ہو،لیکن کیا اسے ایک بہتر حکمت عملی کہہ سکتے ہیں۔

تین سال پہلے یہ وڈیو بن گئی تھی تو اُس کے بعد سے لے کر سینیٹ انتخابات کے آنے تک اس کا تدارک کیوں نہیں کیا گیا،جس اوپن بیلٹ کا خیال اب حکومت کو ستا رہا ہے،اس کے لئے اقتدار میں آتے ہی قانون سازی کیوں نہ کی گئی۔ اب اپوزیشن کے اس الزام میں کس حد تک صداقت ہے کہ وزیراعظم اپنے دوستوں کو نوازنے کے لئے یہ آرڈیننس لائے ہیں۔ یہ بھی کیوں کہا جا رہا ہے کہ اسلام آباد کی جس نشست سے وزیراعظم اپنے خاص دوست کو منتخب کرانا چاہتے ہیں،اسے تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی ووٹ دینے کو تیار نہیں،اس نشست سے اگر پی ٹی آئی کا امیدوار ہار گیا تو یہ مطالبہ زور پکڑے گا کہ وزیراعظم قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں،کیونکہ اسی اسمبلی نے اُن کے امیدوار کو مسترد کیا ہے۔ قیاس آرائیوں کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب میں سینیٹ کے انتخابات متنازعہ ہوتے جا رہے ہیں۔ بہتر تو یہ ہوتا کہ حکمران جماعت اپنی پارٹی کے اندر ڈسپلن لانے پر زور دیتی۔ارکانِ اسمبلی سے موثر رابطہ استوار کرتی۔ اگر کہیں گلے شکوے اور ناراضی تھی تو وزیراعظم خود اس کا ازالہ کرتے، مگر اس کی بجائے ایک ایسا راستہ اختیار کیا گیا، جو کانٹوں سے بھرا ہے۔ اب اُسی راستے سے گزرنے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں۔حتیٰ کہ یہ وڈیو بھی لانچ کر دی گئی ہے اور شور مچ گیا ہے، دیکھو ووٹ بکنے کا ثبوت مل گیا، ایسے تو چھانگا مانگا کی بھی کوئی پرانی وڈیو مل جائے گی۔ یہ تو ہر دور کی کہانی ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ ہمارے سیاست دان آئین میں ترمیم کے لئے ایک دوسرے سے ملتے تھے، مذاکرات ہوتے تھے۔ تجاویز لائی اور منوائی جاتی تھیں۔ آئین کے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھتے اور اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ جو بھی ترمیم ہو، وہ آئین کی روح سے متصادم نہ ہو۔اب تو یہ سب کچھ خواب و خیال لگتا ہے۔ پارلیمینٹ عملاً ایک مچھلی منڈی بن گئی ہے،جہاں کوئی دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں۔ مذاکرات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حکومت چوری چھپے آئین میں ترمیم کرنا چاہتی ہے اور اپوزیشن مل بیٹھ کر معاملات سدھارنے کی بجائے احتجاج کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ کبھی سپریم کورٹ کی طرف دیکھا جا رہا ہے اور کبھی مشروط آرڈیننس لا کر اپنی مرضی کو عملی جامہ پہنانے کی سعی ئ لا حاصل کی جا رہی ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود جب بات بنتی نظر نہیں آئی تو درمیان میں وڈیو ڈرامہ بھی شروع کر دیا جاتا ہے۔یہ سب تو مسائل بڑھانے والی باتیں ہیں۔ ایک خرابی کو دور کرنے کے لئے کئی خرابیاں پیدا کرنے کا راستہ اختیار کرنا کہاں کی دانشمندی ہے،مگر اس ہنگامہ پرور دور میں اس پر توجہ دینے کی کس کے پاس فرصت ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment