Home » سینٹ سیاسی کارکنوں کے لئے شجر ممنوعہ کیوں؟

سینٹ سیاسی کارکنوں کے لئے شجر ممنوعہ کیوں؟

by ONENEWS

سینٹ، سیاسی کارکنوں کے لئے شجر ممنوعہ کیوں؟

سیاسی جماعتیں سینٹ کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم میں اپنے کارکنوں کا کتنا خیال رکھتی ہیں، یہ اگلے چند دنوں میں معلوم ہو جائے گا۔ شاید ہی کوئی جماعت ہو جو اپنے کسی سیاسی کارکن کو سینٹ میں لانا چاہے، سب اسی طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو ٹکٹیں دیں گی جو طبقہئ اشرافیہ کہلاتا ہے۔ ویسے تو بڑا شور شرابہ ہے کہ سینٹ انتخابات میں پیسہ چلتا ہے، خرید و فروخت ہوتی ہے، لیکن ٹکٹ بھی صرف انہی کو دیئے جاتے ہیں جو کروڑ پتی بلکہ ارب پتی ہیں سینٹ در حقیقت ہماری ایلیٹ کلاس کا ایک کلب بن کر رہ گیا ہے۔ آئین میں دو ایوان بنانے والوں کی منشاء یہ تھی کہ قومی اسمبلی میں آبادی اور سینٹ میں مساوی نمائندگی کے تناسب سے ایک توازن قائم کیا جائے۔

اس لئے سینٹ میں تمام صوبوں کی نشستیں برابر ہیں آئین بنانے والوں کا منشا  یہ بھی رہا ہوگا کہ سینٹ میں تمام طبقوں کی نمائندگی ہو اور سیاسی جماعتیں ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیں جو پورے معاشرے کی نمائندگی کرتے ہوں تاکہ یہ ایوان صحیح معنوں میں وفاق کا نمائندہ ایوان بن جائے۔ آج اس بارے میں تو ایک طوفان برپا ہے کہ سینٹ انتخابات میں خرید و فروخت کو روکا جائے۔ لیکن کوئی ایک جماعت بھی کسی ایسے شخص کو ٹکٹ دینے پر تیار نہیں جو صرف سیاسی شناخت، سیاسی شعور اور جمہوریت کے لئے قربانیوں کا اثاثہ رکھتا ہو سب چن چن کے کروڑ پتی اور ارب پتی امیدوار تلاش کر رہی ہیں۔ جب آپ خود یہ معیار بنائیں گے کہ صرف مالدار لوگ ہی سینٹ کا ٹکٹ حاصل کر سکتے ہیں تو پھر منتخب ہونے کے لئے وہ پیسے کا استعمال کیوں نہیں کریں گے۔

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا پانچ دس فیصد ٹریک ریکارڈ ہے کہ وہ ایک دو نشستیں عام کارکنوں کو بھی دیتی رہی ہیں، تاہم تحریک انصاف نے ابھی تک یہ ثابت نہیں کیا کہ وہ سینٹ میں اپنے نظریاتی کارکنوں کو بھی لانا چاہتی ہے۔ سینٹ انتخابات کے لئے تحریک انصاف کا سب سے بڑا معیار یہ ہے کہ اس پر کپتان کی نظر کرم ہونی چاہئے اور کپتان کی نظر کرم عام تام بندے پر کب ٹکتی ہے۔ آج وہ سب لوگ جو تحریک انصاف کے آغاز میں کپتان کے ساتھ کھڑے تھے۔ منظر سے غائب ہو چکے ہیں۔ پارٹی پر ایسے پیرا شوٹرز مسلط ہو چکے ہیں، جنہوں نے عمران خان کو کسی نہ کسی طرح رام کر لیا ہے  یا کپتان خود ان کی طرف ملتفت ہو گئے ہیں زلفی بخاری کو ٹکٹ ملے گا تو وہ پرانے ساتھی دلبرداشتہ ہوں گے جنہوں نے کپتان کے ساتھ اس وقت سرد و گرم دیکھے جب اقتدار میں آنے کی کوئی امید بھی نہ تھی۔ کروڑ پتی اور ارب پتی جب سینٹ ٹکٹ سے نوازے جائیں گے تو پرانے کارکن یہ تو ضرور کہیں گے کہ منزل انہیں مل گئی جو شریک سفر ہی نہ تھے۔ عمران خان کے اردگرد اس وقت موقع پرستوں کا ایک حصار موجود ہے۔ جو کسی اور کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتے۔ خود پارٹی اور کابینہ کے اندر سے یہ آوازیں اٹھتی رہی ہیں کہ غیر منتخب افراد حکومت چلا رہے ہیں۔ اب غالباً ان لوگوں کی یہ پوری کوشش ہو گی کہ سینٹ کا ٹکٹ لے کر منتخب ہونے کا لیبل بھی لگوا لیا جائے۔ اب کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کو سب سے زیادہ عدم تحفظ اس بات کا ہے کہ خفیہ رائے شماری سے شاید ان کے خاص لوگ ہار جائیں۔ اگر وہ ہار گئے تو یہ بہت بڑی شکست ہو گی۔

آج یہ صورتِ حال ہے کہ سینٹ انتخابات میں رائے شماری کے طریقہئ، کار پر آئین کو تختہئ مشق بنایا جا رہا ہے۔ ایک واضح طریقہ درج ہونے کے باوجود حکومت مختلف راستے اختیار کئے ہوئے ہے، سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے بعد صدارتی آرڈیننس کا اجرا حکومت کی جلد بازی اور بے تابی کو ظاہر کرتا ہے۔ الیکشن کمشن واضح طور پر اپنی رائے دے چکا ہے کہ آئینی ترمیم کے بغیر خفیہ رائے دہی کا طریقہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اب بہتر تو یہ تھا کہ سپریم کورٹ کی رائے کا انتظار کیا جاتا، مگر عجلت میں ایک آرڈیننس جاری کر کے حکومت نے انتخابات سے پہلے ہی ایک نیا پنڈورا بکس کھول دیا۔ اپوزیشن نے اسے مسترد کر دیا ہے اور اس کے تحت اگر انتخابات ہو بھی گئے تو ایک نیا تنازعہ گلے پڑ جائے گا جو پہلے سے موجود سیاسی بے چینی اور انتشار میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔

مجھے تو لگتا ہے کہ یہ سارا پنڈورا بکس اس لئے کھولا گیا ہے کہ اسی شور شرابے کے دوران اپنے پسندیدہ لوگوں کو ٹکٹ دے کر منتخب کرا لیا جائے۔ تحریک انصاف ہی اس بات کی تاریخ رکھتی ہے کہ اس نے سینٹ انتخابات میں ووٹ نہ دینے پر اپنے خیبرپختونخوا اسمبلی سے تعلق رکھنے والے کئی ارکان کو پارٹی سے نکالا۔ کیا اس بار بھی تحریک انصاف کو ڈر ہے کہ بہت سے ووٹرز اپنا ووٹ بیچ دیں گے۔ اس لئے وہ ہر قیمت پر اوپن بیلٹ کے ذریعے انتخاب چاہتی ہے؟ کیا اپنی ذاتی خرابی دور کرنے کی بجائے آئین کو تختہئ مشق بنانا مناسب بات ہے اس طرح اگر آڈیننسوں کے ذریعے آئین میں تبدیلی کا سلسلہ چل نکلا تو آئین ایک ایسا مظلوم بن جائے گا جس پر حکومت وقت ظلم ڈھاتی ہے اور اپنا مطلب نکال کر آگے بڑھ جاتی ہے۔

سینٹ انتخابات میں خرید و فروخت کے آگے جتنا مرضی بند باندھنے کی کوشش کی جائے، وہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک سیاسی جماعتیں میرٹ پر ٹکٹ جاری نہیں کرتیں جب میرٹ کی بجائے پیسے اور حکمران سے تعلق کو ٹکٹ کا معیار بنا لیا جائے گا تو خرید و فروخت تو پہلے ہی شروع ہو جائے گی۔ اس میں کیا شک ہے کہ سیاسی جماعتیں پارٹی فنڈ کے نام پر کروڑوں روپے ٹکٹ دینے کے عوض مانگتی رہی ہیں جب سیاسی جماعتیں مانگتی ہیں تو ووٹ دینے والے ارکانِ اسمبلی کیوں نہ مانگیں۔ پھر یہ ایسا سرکل ہے کہ جو منتخب ہونے کے بعد ارکانِ سینٹ جاری رکھتے ہیں اربوں روپے کے سرکاری فنڈز حاصل کر کے بغیر کام کرائے ہضم کر جاتے ہیں، کوئی پوچھ گچھ بھی نہیں کر سکتا کیونکہ حکومت کو قانون سازی کے لئے ان کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ ایک ایسا دائرہ ہے  جسے صرف اوپن بیلٹ کا قانون بنانے سے نہیں توڑا جا سکتا بلکہ اس کے لئے سیاسی جماعتوں کو اپنی سوچ بدلنی ہو گی سینٹ ٹکٹوں کی نیلامی کر کے یہ توقع رکھنا  کہ اس کے انتخاب میں پیسہ نہ چلے پرلے درجے کی منافقانہ سوچ ہے۔ اگر سینٹ کو حقیقی نمائندہ جمہوری ادارہ بنانا ہے تو ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت سرمایہ دار طبقے سے تعلق رکھنے کی شرط کو ختم کرنا ہوگی۔ میرٹ پر سیاسی سمجھ بوجھ اور جمہوریت سے کمٹ منٹ رکھنے والوں کو ٹکٹ دینے ہوں گے مگر ایسا کبھی نہیں ہوگا کیونکہ سیاسی جماعتیں بھی یہ منافع بخش ”کاروبار“ ختم نہیں کرنا چاہتیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment