Home »  سید یوسف رضا گیلانی اور اقتدار کا ہما

 سید یوسف رضا گیلانی اور اقتدار کا ہما

by ONENEWS

سید یوسف رضا گیلانی اور اقتدار کا ہما

پاکستان میں اقتدار کا ہما کسی وقت بھی پھڑ پھڑاتا ہوا خوش قسمت انسان کے سر پر بیٹھ سکتا ہے۔ماضی میں بھی ہم دیکھتے آئے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسے واقعات ہو سکتے ہیں۔جب سے یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو پیپلزپارٹی سینیٹ کا ٹکٹ دے رہی ہے اور اُنہیں جتوائے گی بھی سندھ اسمبلی کے کوٹے سے، تو مجھے یقین ہو چلا ہے کہ اپنے یہ مخدوم صاحب سینیٹ کے چیئرمین بھی بن سکتے ہیں۔ اب یہ بات فی الوقت تو ایک انہونی لگتی ہے، کیونکہ سینیٹ میں تحریک انصاف کو اکثریت حاصل ہو جائے گی یا دوسرے لفظوں میں وہ اس کے لئے بھرپور کوشش کر رہی ہے اور اوپن بیلٹ کے ذریعے وہ انتخابات کرانے کی اِس لئے بھی سر توڑ کوشش جاری رکھے ہوئے ہے کہ کوئی سیٹ اِدھر اُدھر نہ ہو جائے۔

اب وہ کیسے یہ چاہے گی کہ پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ بن جائیں، مگر صاحبو! ذرا یاد کریں اپنے یہ مخدوم ملتان،یعنی سید یوسف رضا گیلانی ماضی میں کتنے چھپے ر ستم ثابت ہوتے رہے۔ ضیاء الحق بھی ان کے مداح ہوئے اور نواز شریف بھی اُن کے گن گاتے رہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی بھی بن گئے اور پھر بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی کو اقتدار ملا تو ملک کی وزارتِ عظمیٰ بھی انہیں سونپ دی گئی۔کیا پاکستان میں ایسی لاٹری اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر نکلتی ہے، تو پھر کیا  بعید ہے کہ اِس بار سید یوسف رضا گیلانی کے سر پہ چیئرمین سینیٹ کا تاج سج جائے اور جنوبی پنجاب جسے قومی سطح کے مختلف عہدے ماضی میں حاصل رہے ہیں، چیئرمین سینیٹ کا عہدہ بھی اُس کے  نام لکھ دیا جائے۔

سید یوسف رضا گیلانی وطن ِ عزیز کے اُن سیاسی رہنماؤں میں شامل ہیں، جنہوں نے اپنی سیاسی اننگ بڑی دیکھ بھال کے کھیلی ہے۔

ویسے  تو ملتان کے تینوں مخدوم،یعنی شاہ محمود قریشی، جاوید ہاشمی اور سید یوسف رضا گیلانی اپنے اپنے انداز میں ہر فن مولا ثابت ہوئے ہیں، موقع دیکھ کے پارٹیاں بدلی ہیں اور سیاست میں آگے ہی آگے بڑھنے کی راہ نکالی ہے، تاہم سید یوسف رضا گیلانی اِس حوالے سے نمبر ون ہیں کہ انہوں نے ضلع کونسل کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تو پھر اُس کے بعد کبھی مقامی یا صوبائی عہدوں پر نظر نہیں رکھی۔ مرکزی رہنما ہی بنتے رہے،کبھی وفاقی وزیر، کبھی اسپیکر قومی اسمبلی اور کبھی وزیراعظم، دونوں دوسرے مخدوم ملک کا نمبر ون عہدہ کبھی حاصل نہیں کر سکے۔ بے چارے شاہ محمود قریشی کا ہدف تو ہمیشہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ رہی، مگر وہ بھی اُن کے ہاتھ نہ آ سکی۔ سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران بڑی احتیاط سے کام لیا۔

وہ پیپلزپارٹی کے وزیراعظم تھے، مگر انہوں نے یہ بھی خیال رکھنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اُن سے ناراض نہ ہو جائے۔اُن کے لئے سب سے بڑا میچ اُس وقت پڑا تھا جب سپریم کورٹ نے اُنہیں حکم دیا کہ وہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس عدالت کو خط لکھیں۔ انہوں نے وزارتِ عظمیٰ قربان کر دی، لیکن اپنی پارٹی سے غداری نہیں کی۔ان کا یہ ایکٹ جمہوری قوتوں کے لئے ایک بہت بڑی قربانی تھی، وہ پانچ سال کے لئے نااہل ہو گئے اور بظاہر یوں لگتا تھا کہ اُن کی سیاست ختم ہو گئی۔ وہ انتخابات میں حصہ نہ لے سکے۔ اُن کے بیٹے بھی الیکشن جیتنے میں ناکام رہے،لیکن یہ بات غلط ثابت ہوئی کہ اُن کی سیاست ختم ہو گئی۔2018ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کا ریلا ملتان کی سب سیٹیں بہا کر لے گیا اور سوائے ایک صوبائی نشست کے گیلانی خاندان کو کوئی نشست نہ ملی،مگر ایسے حالات میں بھی سید یوسف رضا گیلانی نے پیپلزپارٹی کا دامن نہیں چھوڑا۔

پھر گیلانی خاندان اُس وقت اُبھر کر سامنے آیا جب دو ماہ پہلے پی ڈی ایم کا ملتان میں جلسہ ہونا تھا۔ حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے اور وہ اس جلسے کو ہر قیمت پر ر وکنا چاہتی تھی۔ سید یوسف رضا گیلانی اور اُن کے بیٹوں نے اِس موقع پر کمان سنبھالی۔ قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان ریلی لے کر گیلانی کے بیٹے پہنچے اور تمام رکاوٹیں ہٹا دیں، مقدمہ درج ہوا اور گیلانی کے بیٹوں کو نامزد کر دیا گیا۔ یہ بہت بڑا سیاسی انجکشن تھا،جو پیپلزپارٹی اور گیلانی خاندان کو لگا اور پورے ملک میں اُن کی جرأت مندی، سیاسی جدوجہد اور جمہوریت پسندی کی دھاک بیٹھ گئی۔رکاوٹوں کے باوجود جلسہ ہوا، جس میں آصفہ بھٹو زرداری نے بھی شرکت کی۔ سید یوسف رضا گیلانی نے دھواں دار خطاب کیا، وہ اُس دن صحیح معنوں میں ایک فاتح نظر آ رہے تھے۔ مریم نواز نے بھی دِل کھول کر گیلانی خاندان کی سیاسی جدوجہد اور قربانی کو  خراجِ تحسین پیش کیا۔ دلچسپ بات یہ  ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی نے اس ماحول میں بھی کہ جب مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز اسٹیبلشمنٹ پر شدید تنقید کر رہے تھے،صرف سیاسی باتیں کیں، جمہوریت اور آئین کی بالادستی کا تذکرہ کیا۔

اب اِس پس منظر کے ساتھ سید یوسف رضا گیلانی کو اگر چیئرمین سینیٹ کے لئے میدان میں اتارا گیا تو کیا ہو گا؟ پی ڈی ایم تو اُن کی حمایت کرے گی ہی، کیا بعید کہ تحریک انصاف بھی انہیں اپنا امیدوار بنا لے۔جب صادق سنجرانی کی لاٹری نکل سکتی ہے، جن کا کوئی مضبوط سیاسی پس منظر نہیں تھا تو سید یوسف رضا گیلانی اُن سے بھی بڑے چھپے رستم ہیں اور ماضی میں اس کا ثبوت بھی دیتے رہے ہیں۔مَیں سمجھتا ہوں آصف علی زرداری نے یہ  چال بڑی مہارت سے متعارف کرائی ہے اور ایک وفادار ساتھی کو چیئرمین سینیٹ بنانے کے لئے صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے کی حکمت ِ عملی تیار کر لی ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment