0

سید منور حسن اللہ درجات بلند کرے

سید منور حسن، اللہ درجات بلند کرے

سید منور حسن بھی اپنے تمام صالح اعمال کے ساتھ اپنے رب کے حضور پیش ہوگئے۔

اللہ کریم ان کی مغفرت فرمائے

ان کو اپنی رحمت میں ڈھانپ لے اور اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین

سید منور حسن 1941ء میں دہلی میں پیدا ہوئے، پھر ہجرت کر کے پاکستان آئے اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔

انہوں نے طلبہ سیاست کا آغاز NSF (نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن) سے کیا اور کراچی کے صدر رہے۔

جب ایک دفعہ ان سے NSF سے الگ ہونے کی وجہ پوچھی گئی تو فرمانے لگے کہ تنظیم کا اجلاس جاری تھا کہ عصر کی اذان ہو گئی میں اجلاس چھوڑ کر نماز پڑھنے چلا گیا۔ جب واپس آیا تو ساتھی بہت خْشمگیں تھے۔ بحث بڑھ گئی اور پھر میں نے NSF کو خیرآباد کہہ دیا۔ یہ 1959ء کی بات ہے۔

1960ء میں انہوں نے اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں کراچی کے ناظم منتخب ہوئے۔ بعد ازاں 1964ء سے 1967ء تک مسلسل تین دفعہ جمعیت کے مرکزی ناظم اعلی منتخب ہوتے رہے۔ انہوں نے بطور ناظم اعلی طلبہ کی قیادت کا بھرپور حق بھی ادا کیا اور پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ بھی خوب خوب سرانجام دیا۔

خواتین یونیورسٹی کے قیام کیلئے ملک گیر مہم، 1965ء پاک بھارت جنگ میں اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فارم سے شہری دفاع میں خدمات، معاہدہِ تاشقند کے خلاف منظم تحریک، مصر میں سید قطب شہید اور ان کے ساتھیوں کو سزائے موت کے خلاف ملک گیر عوامی احتجاج، عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کی بھرپور حمایت اور ہزاروں کارکنان کا اپنے آپ کو بطور رضاکار پیش کرنا اور طلبہ کے مسائل کے حل کیلئے طلبہ کے ملک گیر نمائندہ کنونشن کے انعقاد کے ذریعے طلبہ قیادت کا حق ادا کیا۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے انگلش اور اسلامیات کے امتحانات پاس کئے۔

تعلیم سے فارغ ہوتے ہی وہ جماعت اسلامی پاکستان میں شامل ہو گئے۔

اسلامک ریسرچ اکیڈیمی کراچی کے سیکریٹری جنرل بنے اور اس طرح اْنہیں ہمہ نوع مطالعے کا خوب موقع ملا۔ بعد ازاں وہ جماعت اسلامی کراچی کے امیر منتخب ہوئے۔ انہوں نے عوام کی فلاح و بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جماعتِ اسلامی کو کراچی کی مقبولِ عام سیاسی و نظریاتی جماعت بنا دیا۔

انتہائی نرم مزاج اور خوش اخلاق سید منور حسن کی عوامی مقبولیت کا اندازہ اس تاریخی حقیقت سے لگا جا سکتا ہے کہ 1977ء کے عام انتخابات میں وہ پاکستان قومی اتحاد کے امیدوار کی حیثیت سے پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے اور لیڈ لے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

سید منور حسن فن خطابت میں ید طولٰی رکھتے تھے۔ تقریر کے دوران ایسے لگتا جیسے الفاظ و تراکیب ہاتھ باندھے ان کے سامنے سرنگوں کھڑے ہوں اور وہ اپنی پسند کے الفاظ چْن چْن کر اپنی تقریر میں سجاتے اور بات کو آگے بڑھاتے۔ دلوں کو موہ لینے اور گداز پیدا کرنے کا فن انکو بخوبی آتا تھا۔

1968ء سے تاحیات 52 سال تک جماعت کی مرکزی مجلسِ شوریٰ اور مجلسِ عاملہ میں شریک ہوتے رہے۔

1988ء میں جب قاضی حسین احمد امیرِ جماعتی منتخب ہوئے تو اْنہوں نے انکو کراچی سے مرکز جماعت میں منتقل کیا اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری سونپی۔

1993ء میں انہوں نے سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری سنبھالی اور پھر اس ذمہ داری پر 16 سال تک قاضی حسین احمد کے شانہ بشانہ اپنے فرائض ادا کرتے رہے۔

2009ء میں ارکانِ جماعتِ اسلامی پاکستان نے انہیں چوتھا امیرِ جماعت منتخب کیا۔ جماعت کی امارت کے پانچ سالوں میں انہوں نے جماعتِ اسلامی کی نظریاتی شناخت کو آگے بڑھانے کی منظم کوشش کی اور پاکستان کی سیاست کو دائیں و بائیں بازو کی بجائے نیکی و بدی اور سچائی و جھوٹ کے مابین کشمکش میں بدل دیا۔ ان کی جدوجہد اور سیاست کا محور ہمیشہ اسلام اور پاکستان رہا۔ انہوں نے 2009ء میں “گو امریکہ گو” تحریک کا آغاز کیا اور پوری قوم کو اس کی پشت پر لا کھڑا کیا۔ اس وقت کچھ عاقبت نااندیشوں نے انکی بات کو غیر سنجیدہ لیا لیکن وقت نے بہت جلد ثابت کر دیا کہ امریکہ کو اس خطے سے بوریا بستر سمیٹنے کے بغیر کو چارا نہیں اور امریکہ کی واپسی کو ناممکن سمجھنے والوں نے دیکھا کہ امریکہ نے قطر میں انہی غیور افغانیوں کے سامنے سرنڈر کر کے اپنی باعزت واپسی کے پروانے پر دستخط کیے جنکو اس نے گرفتار کر کے گوانتانامو بے کے عقوبت خانوں میں قید رکھا تھا۔

آپ عبادات کی ادائیگی میں پورے شوق اور انہماک کی خوبصورت مثال تھے۔ نماز ہمیشہ مسجد میں تکبیر اولی کے ساتھ ادا فرماتے تھے۔ چاہے جو بھی اجلاس ہو، اذان سنتے ہی وقفہ کر دیتے اور بلاتاخیر مسجد کی طرف چل پڑتے۔ میری ان سے شناسائی 1978ء سے تھی جب میں جمعیت میں شامل ہوا۔ جمعیت کے پروگراموں میں ان کی تقاریر سماں باندھ دیتیں اور نوجوان ان کے انداز کو اپنانا قابل فخر سمجھتے۔

جب میں نے جمعیت کی مرکزی شوری اور سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری سنبھالی تو ان سے براہ راست شفقت اور راہنمائی حاصل کی۔ پھر جماعت اسلامی کی صوبائی اور مرکزی ذمہ داریاں ان کی براہ راست قیادت میں ادا کیں۔

متحدہ مجلس عمل اور گو امریکہ گو کی تحریکوں میں ان کے شانہ بشانہ رہنے کا موقع ملا اور ان کے ساتھ سینکڑوں سفر اور پروگرامات میں شرکت کی۔ ان کے ساتھ بے شمار یادگار لمحے اور واقعات ہیں جو کسی اور موقع پر عرض کروں گا۔ ان کی فراغت کے بعد میں جب بھی کراچی گیا، ہمیشہ ان سے ملاقات کیلئے وقت لیا اور انہوں نے بلاتکلف راہنمائی فرمائی۔

سید منور حسن نے آخری سانس تک دین اسلام کی ترویج اور اشاعت میں صرف کی۔ اللہ کریم ان کی سعی و جہد کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی’ مقام عطا فرمائے۔

خدا آپ پر خالص محبت کرنے والوں پر رحم کرے

مزید :

رائےکالم





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں