Home » سیاست کے فطری تقاضے اور ہمارے حکمران

سیاست کے فطری تقاضے اور ہمارے حکمران

by ONENEWS

سیاست کے فطری تقاضے اور ہمارے حکمران

وزیراعظم عمران خان کے بارے میں میڈیا کے اکثر اینکر حضرات کہتے ہیں کہ وہ بہت ایماندار ہیں لیکن ان کے ساتھ وزیروں اور مشیروں کی ٹیم ٹھیک  نہیں ہے۔جب ملک کی سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں لانے والی قوتوں نے عمران خان کو سیاسی لیڈر کے طور پر آگے کرنا شروع کر دیا تو اس سے پہلے الیکشن میں تحریک انصاف کو ملک کے کسی بھی حلقے سے پانچ ہزار سے زائد ووٹ نہیں ملے تھے۔ لیکن قسمت کا کرنا ایسا ہوا کہ لاہور کے ایک ضمنی الیکشن میں ان کے امیدوار ظہیر عباس کھوکھر کو بائیس ہزار ووٹ ملے تو پہلی بار پی ٹی آئی نے پانچ ہزارووٹوں کی حد پار کی۔توعمران خان نے خود کو ایک بڑی پارٹی کا سربراہ سمجھنا شروع کر دیا۔ حالانکہ یہ ووٹ کھوکھر برادری کے ہیں، جو ہر بار کرامت علی کھوکھراور اس کے سیاسی مخالفین ہی کو پڑتے ہیں۔

جہانگیر ترین کو ٹاسک دیا گیا کہ عمران خان کو لیڈر بنایا جائے۔ اس پر ان کا ایک انٹرویو بھی موجو دہے کہ انہوں نے چیئرمین تحریک انصاف سے کہا کہ اصولی سیاست کا نعرہ چھوڑ کر وہ ان امیدواروں پر توجہ دیں جو جیتنے کی پوزیشن میں ہیں۔ انہیں اپنے ساتھ ملائیں۔ ورنہ آپ اقتدار میں نہیں آسکیں گے۔پھر جو کچھ ہوا اور کون کون سے فصلی بٹیرے عمران خان کی پارٹی میں آئے سب کے علم میں ہے۔ اگلے انتخابات میں تحریک انصاف کے رہنما ان منتخب ہونے والے امیدواروں کے پاس پہنچے اور لوگوں نے دھڑا دھڑ عمران خان کی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا شروع کر دی۔ کافی تجربے کے بعد ثابت ہوا ہے کہ مقتدر حلقے اپنی بنائی ہوئی پارٹیوں کو اتنا آزاد نہیں کرتے کہ وہ ایم کیو ایم کی طرح انہیں آنکھیں دکھانا شروع کر دے۔ اسی لئے عمران خان کو پارلیمنٹ میں ایک لولی لنگڑی حکومت بنا کر دی گئی۔ تاکہ وہ ان کا محتاج رہے،پھران لوگوں نے اتحادی جماعتوں کو بھی عمران خان کے ساتھ ملا دیا تاکہ وہ ان کا مرہون منت رہے۔جب چودھر ی پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو بار بار کہا کرتے تھے کہ جنرل پرویز مشرف کو وردی میں دس مرتبہ صدر مملکت بنوائیں گے۔ مسلم لیگ ق اورایم کیو ایم کو جہانگیر ترین نے عمران خان سے ملوایا۔ پرویز الٰہی اپنے انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ اداروں نے مسلم لیگ ق کو توڑ کر پی ٹی آئی کو مضبوط کروایا۔اسی طرح سندھ، پنجاب، بلوچستان سے بھی کئی سیاسی خاندان ان کے ساتھ ملائے گئے۔

پارلیمانی سیاست کی روایت ہے کہ اپوزیشن جماعت کی شیڈو کابینہ ہوتی ہے۔ اس کے مختص لوگ ہر وزارت پر اپنا ہوم ورک کرتے رہتے ہیں۔ عمران خان کو حکومت تو بنوا دی،مگر قابل لوگ نہیں دئیے گئے جبکہ وزیراعظم  نہ صرف  یہ کہ  خود ناتجربہ کار ہیں بلکہ ان کے پاس ٹیم بھی گئی گذر ی ہے، اور دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ نااہلوں کا ٹولہ وزارتوں پر قابض ہے۔ اس لئے کوئی اینکر عمران خان کو نااہل کیوں نہیں کہتا۔ وہ وزیراعظم سے کیوں ڈرتے ہیں؟کیو نکہ جب وہ افراد کا چناو کرتا ہے تو غلط کرتا ہے، اس لئے کہ وہ خود نااہل ہے۔ اس کے سامنے اپنی پارٹی کے مافیاز کی کرپشن آتی ہے تو رک جاتا ہے،کیونکہ وہ سیاست دان نہیں ہے۔ سیاست دان وہ ہوتا ہے جو اپنے ہر فیصلے پر ڈٹ جائے اوراس سے ہونے والے نقصان کو برداشت کرنے کے لئے تیار بھی رہے۔ عمران خان اچھی کرکٹ کھیلتا تھا، یورپ میں رہا انگریزی اچھی بول لیتا ہے لیکن کیا وہ اچھاوزیراعظم اورملک کا چیف ایگزیکٹو بھی ہوسکتا ہے؟میں حیران ہوں کہ کیا وزیراعظم بننے کے لئے اچھی انگریزی جاننا ضروری ہے؟ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ اچھی گیم کھیلنے والے عام فوجی کو  جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی جائے یا اسے آرمی چیف بنا دیا جائے، ایسا نہیں ہوتا،بلکہ اس کی اہلیت فوج کے حوالے سے ہی چیک کی جاتی ہے۔ ایسانہیں ہوتا کہ کسی ایک شعبے میں مہارت یا شہرت رکھنے والا اچھا سیاست دان بھی ہو، لیکن جب عوامی نمائندگی کی بات ہوئی تو مسلط کرنے والی طاقتیں ایک نااہل شخص کو اقتدار میں لے آئی ہیں۔

اب پریشان بھی ہیں اور اسے چھوڑتے بھی نہیں۔ پریشان اس لئے ہیں کہ کوئی کام نہیں ہوا۔ جس سے عوام کی بہتری ہوئی ہو۔ صحت،اقتصادی، داخلہ اور خارجہ پالیسیاں بالکل ناکام ہوچکی ہیں۔ ایف بی آر کے سابق چیرمین شبر زیدی کا انٹرویو سننے کے قابل ہے جس میں اس نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں کوئی ایسا قانون نہیں کہ بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈال کر ان سے انکم ٹیکس لیا جائے۔ وہ اسی دکھ کی وجہ سے عہدہ چھوڑ کر گھر چلا گیا۔ شبر زیدی نااہل نہیں تھا بلکہ وجہ یہ تھی کہ وزیراعظم صاحب کو کچھ پتہ ہی نہیں کہ کرنا کیا ہے؟ معیشت کیسے بہتر ہونی ہے؟عمران خان کسی کا مشورہ بھی تسلیم نہیں کرتے۔اور خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے حکومت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پھر جب دباؤ بڑھتا ہے اور مسائل حل نہیں ہوتے تو وزارتیں تبدیل کردیتے ہیں۔یعنی نااہل وزیر کو دوسری وزارت دے دیتے ہیں اور دوسرے نااہل شخص کو تیسری وزارت دے دیتے ہیں۔ وزیر ہوا بازی میر ے دوست ہیں، مگرپائلٹس کی جعلی ڈگریوں کا الزام ہی ان کی نااہلی اور پی آئی اے کی بربادی کے لئے کافی ثابت ہوا۔یعنی وزیر موصوف کو اندازہ ہی نہیں کہ ان کے بیان سے عالمی سطح پر ہماری کتنی جگ ہنسائی ہوگی۔

ایسا وزیر جب ہوگا تو ادارہ کیسے چلے گا۔ اسی طرح وزیراعظم عمران خان بیرون ملک جاتے ہیں تقریریں کرتے ہیں کہ پاکستان میں بہت کرپشن ہے، میں نہیں چھوڑوں گا۔ کسی کو این آر او نہیں ملے گا۔ بیوروکریسی غلط ہے۔جب ایسی باتیں کی جاتی ہیں تو واضح ہے کہ ملک کسی شخص کی جاگیرنہیں، یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک پاکستان ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اینکر حضرات کایہ کہنا کہ وزیر اعظم کو ٹیم اچھی نہیں ملی،مسئلے کی نشاندہی نہیں،بلکہ اسے اقتدار میں لانے والی قوتیں اپنی غلط مردم شناسی کی غلطی تسلیم کرلیں اور سیاسی عمل کو اس کے فطری تقاضوں کے مطابق آگے بڑھنے دیں۔ وزیراعظم خود مان ر ہے ہیں کہ ان کی تیاری نہیں تھی۔اس لئے عوام پاکستان ہوشیار خبردار، آپ پر ناتجربہ کاری اور نااہلیت کے حوالے سے ایک شخص مسلط ہے۔ پٹرول کی قیمت پھر بڑھ گئی ہے۔ لیکن اینکرزکہہ رہے ہیں کہ عمران خان بہت ایماندار ہے۔ بہت اچھا آدمی ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment