Home » سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

by ONENEWS

سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

اسلام علیکم پارے پارے دوستو سنائیں کیسے ہیں؟ امید ہے کہ اچھے ہی ہوں گے،ہم بھی یقینا اچھے ہی ہیں -جی دوستوں جناب کپتان کا کہنا ہے کہ اب وزراء  کو کارکردگی دکھانا ہو گی پاور سیکٹر میں بہتری اور مہنگائی کا خاتمہ دو بڑے چیلنج ہیں،جب تک وزارتیں پرفارم نہیں کریں گی بہتر گورننس نہیں دے سکتے، اپنے سسٹم کو تبدیل کرنا ہو گا-

امریکہ کی طرح یہاں بھی الیکشن جیتنے والی پارٹی کو حکومت سنبھالنے سے پہلے تیاری کے لئے وقت ملنا چاہئیے تاکہ کوئی حکمت عملی تیار کی جا سکے، پلان ترتیب دئیے جا سکیں، سمجھا جا سکے کہ گورننس کیسے بہتر کی جا سکتی ہے۔ جی دوستوں جناب کپتان کی یہ بات تو ٹھیک ہے کہ وزراء  کی کارکردگی بہتر نہیں ہے، عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیسا جا رہا ہے، پٹرول کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں اور سنا تو یہ بھی ہے کہ نئی گاڑیوں کی خریداری پر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ہے- اور بات کریں سسٹم کی تو سسٹم تو آپ کا دن بدن خراب سے خراب تر ہوتا جا رہا ہے اور شاید اسی سسٹم کو ٹھیک کرنے کے چکر میں ہی آئے دن وزارتیں تبدیل کی جا رہی ہیں، افسران بدلے جا رہے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ افسران و وزیر بدلنے سے سسٹم ٹھیک ہو سکتا ہے لیکن اتنے سالوں سے بگڑا سسٹم ایسے کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے بلکہ مزید بگاڑ کی طرف جا رہا ہے۔ اگر سسٹم کو ٹھیک کرنا ہے تو پھر یقینا انتہائی سخت فیصلے لینے ہوں گے، عوام کو دکھائے گئے سہانے سپنوں کو تعبیر بخشنی ہو گی، عوام کو روزگار دینا ہو گا،وعدے کے مطابق گھر بنا کر دینا ہوں گے اور یقینا روٹی کپڑا مکان کا نعرہ تو ذوالفقار علی بھٹو نے بھی لگایا تھااور اس نعرے کو پورا کرنے کی کوشش بھی کی تھی اور یقینا نئی حکومت نے بھی تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا عوام کو سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا،لیکن تاحال اڑھائی سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا حکومت تاحال کچھ نہیں کر پائی۔

ایک طرف جناب کپتان سسٹم کو نہ سمجھنے کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف اپوزیشن رہنما حکومت کے خلا ف تحریک شروع کر چکے ہیں اور دھڑلے سے جناب کپتان کا استعفی بھی مانگ رہے ہیں۔ اسی لئے اپوزیشن نے شہر شہر جلسے کرنے کے بعد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے- تاہم اپوزیشن رہنما بڑے زور و شور سے اس بات کا اعلان کر رہے تھے کہ دسمبر میں حکومت گھر بیٹھ جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا اور اسی لئے اب اپوزیشن لانگ مارچ کے ساتھ ساتھ جناب کپتان کا استعفی بھی مانگ رہے ہیں – محترمہ مریم نواز اور جناب بلاول کا بھی یہی کہنا ہے کہ پارٹی اراکین کے استعفے ملنے شروع ہو گئے ہیں اور جناب بلاول کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ انکے استعفی حکومت کے لئے ایٹم بم ثابت ہونگے، جناب بلاول کا مزید کہنا ہے کہ جب تک حکومت رخصت نہیں ہو گی لانگ مارچ ختم نہیں ہو گا -جبکہ پی ڈی ایم کے سربراہ جناب مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومت استعفی دے کر الیکشن کا اعلان کرے تو مزاکرات ہو سکتے ہیں –

جناب مولانا فضل الرحمان کا کہنا اپنی جگہ لیکن ہمارے بہت سے دوست تو اس سارے معاملے کو مکافات عمل قرار دیتے ہوئے کہتے نظر آ رہے ہیں، جیسا جناب کپتان نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے(ن)لیگ کی حکومت کے ساتھ کیا اب ویسے ہی کپتان حکومت کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا اور جناب کپتان چار حلقے کھولنے کی بات کرتے رہے لیکن آج تو اپوزیشن پوری حکومت ہی جعلی ہونے کی بات کرتی ہے اور استعفے مانگ کے حکومت کو پریشان کر رہی ہے-اب اس بات کا اندازہ بہت مشکل ہے کہ اپوزیشن کے اس احتجاج کا کیا نتیجہ نکلے گا اور میدان سیاست میں جو کھچڑی پک رہی ہے اسے کون ہضم کر ے گا، کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہے- بہر حال میدان سیاست میں کیا اتار چڑھاؤ پیدا ہو گا کون چت ہو گا کون پٹ اور میدان سیاست میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، یہ بات بھی وقت ہی بتا سکتا ہے جس کا انتظار آپ کو بھی ہے اور ہمیں بھی،لیکن فی الحال ہمیں دیں اجازت دوستوں تو ملتے ہیں جلد آپ سے ایک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment