0

سیاست نہیںعید اور قربانی کی بات ہمارا لڑکپن!

سیاست نہیں،عید اور قربانی کی بات، ہمارا لڑکپن!

لاہور میں مسلم لیگ(ن) کے مرکزی صدر محمد شہباز شریف کے ساتھ مولانا فضل الرحمن اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی الگ الگ ملاقاتوں سے فوری طور پرکوئی مثبت یا منفی نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہو گا، ابھی قطرے کو گوہر ہونے میں کچھ وقت ہے اور راستے میں کوئی کہکشاں بھی نہیں،جو پتھر موجود ہیں، انہی پر چلنا ہو گا،اپوزیشن کی تمام جماعتیں الگ الگ حکومت مخالف قریباً یکساں موقف کی حامل ہیں،لیکن مولانا فضل الرحمن تاحال خود کو نوابزادہ نصر اللہ ثانی ثابت نہیں کر سکے۔ مرحوم نوابزادہ کی تو یہ صفت تھی کہ انہوں نے تحریک استقلال اور پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے علاوہ پاکستان عوامی تحریک اور پیپلزپارٹی کو بھی ایک دوسرے سے تعاون اور اتحاد پر آمادہ کر لیا تھا۔ مولانا عرصہ سے کوشش تو کر رہے ہیں، مگر کامیاب نہیں ہوئے اور اب تو انہوں نے خود بھی اعتراف کر لیا کہ اپوزیشن متحد نہیں ہے۔ بہرحال ابھی میدان کھلا ہے، حزبِ اقتدار بھی حزبِ اختلاف کو کوئی گنجائش دینے پر تیار نہیں، حتیٰ کہ اب تو مخدوم شاہ محمود قریشی بھی اعتدال پسندی کا خول اتار چکے اور قومی اسمبلی میں سخت تر موقف اختیار کر چکے اور ان کی تقریر ہی کے بعد اپوزیش نے مذاکرات سے انکار کیا اور پھر بائیکاٹ بھی ہوا۔ یہ صورتِ حال واضح ہے اور مزید واضح ہو گی،اِس لئے ہمیں انتظار کرنا ہی بہتر محسوس ہوتا ہے کہ لاہور میں ہونے والی ملاقاتیں اور پھر بیانات از خود بہت کچھ بتا رہے ہیں۔ہم بھی اس سلسلے کو عید کے بعد تک ہی اٹھا رکھتے ہیں۔اگرچہ اپنے مولانا فضل الرحمن کو چھیڑنے کو دِل تو مچلتا ہے۔

گذشتہ کالم میں قربانی کے واجب ہونے اور جن کی استطاعت نہیں،ان کو شرمندہ نہ کرنے کی گذارش کی اور ساتھ ہی عرض کیا تھا کہ ذرا ”آتا ہے، یاد مجھ کو وہ گذرا ہوا، زمانہ“ کی بات کریں گے کہ ہمارے اپنے بچپن میں عید ِقربان کیسے گذرتی تھی۔ لاہور سے واقف اور یہاں کے رہنے والے جانتے ہیں کہ پرانا لاہور دو اور سہ منزلہ مکانات پر مشتمل ہے اور بڑی بڑی چند حویلیوں کے علاوہ مجموعی طور پر یہ مکانات ڈیڑھ سے ڈھائی اور تین مرلہ رقبے پر بنے ہوئے ہیں،ہمارے دور والے مکان چھوٹی اینٹ اور لکڑی کے شہتیروں پر ڈالی چھتوں مشتمل ہیں۔ گلیاں بھی علاقوں کی نسبت سے چھوٹی اور بڑی ہیں اور سب کی سب اینٹوں اور ٹائیلوں والی ہیں،ہماری پیدائش اکبری دروازہ کی باغیچی صمدو میں ہوئی۔ یہ معقول چوڑی گلی والا علاقہ ہے اور یہاں بھی مکان چھوٹے رقبہ والے تھے اور اب بھی ہیں، ہمارا گھر بھی قریباً ڈیڑھ سے پونے دو مرلے والے رقبے کا سہ منزلہ تھا، جب ہم بچپن سے لڑکپن کی حدود میں داخل ہوئے اور سکول جانے لگے تو میلے، ٹھیلے اور عید، بقرعید بھی یاد آئی۔ اپنے والدین سے عیدی لینے، روزانہ جیب خرچ اور میلوں پر جا کر گھگھو،گھوڑے لانے کا بوجھ بھی انہی پر ڈالتے تھے۔ ہمارا ہائی سکول اسلامیہ ہائی سکول شیرانوالہ گیٹ ہے،جو انجمن حمایت اسلام کے اہتمام میں چلتا تھا، ہمارے زمانہ طالب علمی میں صبح اسمبلی میں پندرہ منٹ کا درس ہوتا اور مولانا مطیع الرحمن مذظلہ العالی دینی احکام سے آگاہ کرتے تھے، چنانچہ اسلامی تہواروں کے حوالے سے بھی تاریخ بیان ہوتی اور مسائل بتائے جاتے۔ عیدالفطر اور عیدالاضحی کی آمد پر بیان انہی کے حوالے سے ہوتا۔ دوسری طرف ہمارے شہر کے اپنے رسم و رواج بھی تھے۔ یہ مجھے اس عید ِ قربان پر حالیہ رہائش والے محلے کے بچوں کی خوشی اور مسرت دیکھ کر یاد آیا، جو قربانی کے لئے لائے گئے،بکروں کو بہت پیار اور دلار سے لے کر پھر رہے تھے۔

گذرا دور کچھ یوں ہے کہ ہمارے محلوں اور مکانات میں ایسی گنجائش بہت کم گھروں میں تھی کہ قربانی کے لئے بکرے گھروں کے اندر رکھے جا سکیں،جن گھرانوں کے پاس صحت اور دالانوں والے حصے تھے وہ ان کو استعمال کرتے،لیکن بھاری ترین اکثریت گلیوں ہی میں باندھتے تھے۔ آبادی تو آج کے مقابلے میں بہت کم تھی،لیکن جذبہ زیادہ تھا اور دینی تہوار بڑے ہی پُرجوش انداز میں منائے جاتے تھے۔ قربانی بڑے ہی پیار اور محبت سے ہوتی۔ واعظین حضرات ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ایثار، جذبے اور قربانی کی مثالیں دیتے تو جذبہ ایمانی تازہ ہو جاتا۔ہمارے لڑکپن میں اکثر گھرانے مینڈھے اور بکرے پال کر قربان کرتے اور اُن کی پرورش اپنے بچوں کی طرح کرتے۔ ہمیں یاد ہے کہ ہمارے گھر کے باہر دنبہ باندھا جاتا، اسے چارہ اور دال کھلائی جاتی، جو اکثر دودھ میں بھگو کر دی جاتی۔ ان کی صحت کا خیال تو رکھا جاتا،ساتھ ہی صفائی کا اہتمام بھی ہوتا۔ہماری دادی جان تو خود صبح صبح اُٹھ کر گلی صاف کرتی تھیں، بلکہ دھوتی تھیں، جانور کو نہلانے اور ٹہلانے کی ذمہ داری ہماری ہوتی۔ ہم سکول سے آنے کے بعد گلی کی چھوٹی مسجد والے کنوئیں سے ”بوکوں“(چمڑے کے ڈول) کے ذریعے پانی نکال کر یہ ڈیوٹی ادا کرتے تھے، ہم اکیلے نہیں،

ہمارے دوسرے محلے دار بھی ساتھ ہوتے، یوں ہم سب مل کر نہلاتے اور پھر سبھی مل کر ہی سرکلر باغات لے کر جاتے اور ان کو کھیلنے کا موقع دیتے تھے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا کہ یہ سدھا ہوا مینڈا یا دنبہ کسی کو ٹکر مار کر زخمی بھی کر دیتا تھا، اسی پر اکتفا نہ کیا جاتا، بلکہ ان کو مہندی بھی لگائی جاتی،بزرگوں کا یقین تھا کہ اس سے بکرے کو بھی ٹھنڈک ملتی ہے اور پھر بڑا تہوار حج کا روز ہوتا،جس روز مکہ معظمہ کی مسجد نمرہ میں خطبہ حج پڑھا جانا ہوتا اس سے پہلی شام ہم سب مل کر اپنے اپنے بکرے، دنبے یا مینڈے کو خوب اچھی طرح نہلاتے، پھر اسے سجاتے تھے اور ان پر خوبصورت چادر نما دوپٹے ڈالتے اور سب مل کر ان کو حضرت علی ہجویری داتا گنج بخشؒ کے مزار پر سلام کرانے لے جاتے۔ ہمارا سفر سرکلر باغات کے درمیان سے ہوتا، تب تجاوزات نے ان باغات کا بُرا حال نہیں کیا تھا، اس دور میں بھی ہماری اس تقریب کو جسارت پر محمول کر کے بدعت اور شرک بھی کہہ دیا جاتا تھا۔ بہرحال یہ معمول تھا اور جاری رہتا، پھر عید کا روز اور پیار سے پرورش کئے ان جانوروں کی قربانی کا وقت بھی آ جاتا،قصاب اپنا اور ہمارے اجداد اپنا اپنا کام کرتے، ذبیحہ کے وقت ہم بچوں کو وہاں سے ہٹایا جاتا، ہم نہیں مانتے اور پھر جب چھری چلتی اور جانور کی آواز کے ساتھ خون نکلتا تو ہم سب کی آنکھوں سے پانی بہہ جاتا، ہم سب زور زور سے روتے تھے اور پھر یہی گوشت کھاتے بھی تھے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں