0

سوک سینٹر فائرنگ کا مقدمہ تھانہ نیو ٹاؤن میں درج

CIVIC CENTER KARACHI

کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں واقعہ سوک سینٹر فائرنگ کا مقدمہ تھانہ نیو ٹاؤن میں درج کرلیا گیا ہے۔

سوک سینٹر میں 2 افسران کے قتل اور ایک کو زخمی کرنے کا مقدمہ وسیم عثمانی کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمہ نمبر 360/20 میں قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ منگل 15 ستمبر کی شام سوک سینٹر میں ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے 2 افسران کو کے ڈی اے کے دفتر میں ماتحت نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ حملے میں جاں بحق افراد کی شناخت ایڈیشنل ڈائریکٹر وسیم رضا اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر وسیم عثمانی کے ناموں سے کی گئی۔ مبینہ حملہ آور کلرک حفیظ الحسن خود اپنی ہی گولی لگنے سے زخمی بھی ہوا، جسے اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

فائرنگ کا واقعہ بلڈنگ کے تیسرے فلور پر کے ڈی اے لینڈ ڈیپارٹمنٹ میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ ذاتی لڑائی کا نتيجہ لگتا ہے۔ جائے وقوع سے پستول تحويل ميں لے ليا گيا، جب کہ ملزم آفس سپرنٹنڈنٹ عبدالحفيظ کو اسپتال ميں حراست ميں ليا گيا ہے۔

سوک سینٹر میں 14 ماہ پہلے بھی سوک سينٹر ميں فائرنگ سے ملازم جاں بحق ہوا تھا جبکہ گزشتہ سال جولائی ميں ايس بی سی اے کے دفتر ميں فائرنگ ہوئی تھی۔

سماء ڈیجیٹل نے جب اس جھگڑے کی اصل وجوہات جاننے کیلئے کے ڈی اے کے افسران سے بات چیت کی تو ان کے دعووں کی روشنی میں اس بات کا اشارہ ملا کہ اس کے پیچھے مبینہ حملہ آور حفیظ الحسن کا تبادلہ تھا جو افسران کی جانب سے کیا گیا۔ تاہم پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے جس کے بعد ہی حتمی صورت حال سامنے آنے کا امکان ہے۔

ے ڈی اے کے ایک افسر نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ حفیظ کے ڈی اے کی میٹروول سائٹ برانچ میں گزشتہ 15 برس سے تعینات تھا تاہم باوجود ایک 8 گریڈ کے کلرک ہونے کے وہ 16 گریڈ کے سپرینٹنڈینٹ کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ افسر نے بتایا کے ڈی اے کے ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ رضا محمد قائم خانی نے اپنا چارج سنبھالنے کے بعد محکمے سے بے ضابتگیوں کے خاتمے کی کوششیں کیں اور اسی حوالے سے انہوں نے متعدد افسران کے تبادلے اور تقرریاں بھی کیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ کو حفیظ الحسن کے خلاف مبینہ کرپشن کی متعدد شکایات موصول ہوئیں جس پر انہوں نے اسے اپنی کلرک کی اصل پوسٹ پر کام کرنے کے احکامات جاری کیے اور یہ فیصلہ انہوں نے ایڈشنل ڈائریکٹر وسیم رضا اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر وسیم عثمانی کی سفارش پر کیا۔

وسیم رضا کے ایک کزن جو خود بھی کے ڈی اے کے اسٹیٹ اینڈ اینفورسمنٹ سیل میں تعینات ہیں نے بھی سماء ڈییجیٹل سے گفتگو کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ اس خون خرابے کا تعلق حفیظ الحسن کے سپرینٹینڈنٹ سے کلرک کی پوسٹ پر حالیہ تبادلے سے ہے۔ گزشتہ ہفتے حفیظ الحسن نے ایک اور ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد قاسم سے رابطہ کر کے سپرینڈینٹنٹ کی پوسٹ پر دوبارہ تعیناطی میں مدد چاہی تاہم محمد قاسم نے اس حوالے سے ڈائریکٹر لینڈ سے کسی قسم کی سفارش کرنے سے انکار کردیا تھا۔

کے ڈی اے افسر نے اس بات کی تصدیق کی کہ منگل کو وقوعے کے روز حفیظ الحسن وسیم عثمانی کے کمرے میں گیا اور ان سے وسیم رضا کو وہیں بلانے کو کہا۔ وسیم رضا کے آنے پر حفیظ الحسن نے وسیم رضا، وسیم عثمانی اور سپرینٹینڈنٹ عمران شاہ کے علاوہ دیگر تمام افراد کو کمرے سے جانے کو کہا۔ عمران شاہ نے پولیس کو اپنے ابتدائی بیان میں بتایا کہ وہ اس وقت وسیم عثمانی کے کمرے ہی میں موجود تھے جب حفیظ الحسن غصے میں آپے سے باہر ہوئے اور بہت اونچی آواز میں بول رہے تھے۔

عمران شاہ کا مزید کہنا تھا کہ جب وہ کچھ دیر بعد کمرے سے باہر نکلے تو انہوں نے کمرے میں گولیاں چلنے کی آواز سنی۔ اس واقعے کے نتیجے میں زخمی ہونے کے بعد وسیم عثمانی اسپتال کے راستے میں دوران دم توڑ گئے جبکہ وسیم رضا دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ جبکہ حفیظ الحسن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی ہی چلائی گئی گولی سے زخمی ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں