0

سوچ کا ککڑا

ایک طویل عرصہ سے میں مسلسل لکھ رہا ہوں کہ سیکولرازم کا اْردو ترجمہ لادینیت نہیں ہوتا، سیکولرازم کا بالکل موزوں اْردو ترجمہ خیارِ فکر ہے، لفظ خیار عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب خَیَرَ سے ہے، خیار کے لغوی معنی اختیار یا ارادہ کے ہیں اور فکر سے مراد انسان کا علمی یا ایقانی مؤقف ہے چنانچہ خیارِ فکر سے مراد انسان کا وہ خالص انفرادی فکری اختیار ہے جو کسی بھی سیکولر ریاست میں انسان کو آئینی حیثیت سے غیر مشروط طور پر حاصل ہوتا ہے، آپ کسی بھی سیکولر ریاست میں جا کر دیکھ لیں سب سے زیادہ آزادی وہاں آپ کو اپنے مذہب یا فکر کے مطابق عمل کرنے کی ہوتی ہے، ریاست افراد پر مشتمل ہوتی ہے اور ہر فرد ایک مخصوص فکری مرتبہ لیکر باشعور ہوتا ہے یعنی کچھ افراد بہت جذباتی ہوتے ہیں آپ اْنہیں بہتیری کوشش کے باوجود بھی منطق کی طرف نہیں دھکیل سکتے اس کے برعکس کچھ افراد میں زبردست قسم کا منطقی رجحان پایا جاتا ہے اور وہ ایک منظم جستجو کے رسیا ہوتے ہیں، کچھ افراد سرے سے ان معاملات میں دلچسپی ہی نہیں لیتے کہ جذبہ اور منطق میں سے مبنی بر صداقت کیا چیز ہے اور ہمیں کس طرف جانا چاہئے، ایک جوان بیٹا اپنے ضعیف العمر باپ سے فکری اختلاف رکھ سکتا ہے اور اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے اب اس کے بنیادی اسباب میں سے جنریشن گیپ ہو یا کوئی اور سبب بہرحال انتہائی قریبی رشتوں میں بھی فکری اختلاف پایا جاتا ہے چنانچہ ایسی صورت میں ریاست کس جانب رخ کرے گی؟ یہ ہے وہ حقیقی مسئلہ جس نے سیکولرازم جیسی انتظامی حکمتِ عملی کو جنم دیا، ہمارے لئے یہ اَمر بلاشبہ تشویش ناک ہے لیکن آج یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت بھی ہے کہ قریباً آدھی دنیا لادین ہو چکی ہے اور باقی جو دیندار ہیں وہ صرف رسمی طور پر دین سے وابستہ ہیں اْن میں بھی اب وہ حقیقی شمعِ ایقان باقی نہیں رہی، یقیناً یہ ایک افسوس ناک انسانی المیہ ہے کہ انسان تیقّن جیسی حتمی روحانی تسکین سے دور ہو چکا مگر یہ اَمر بھی بدیہی ہے کہ مذہب سے وابستہ علماء  و حکماء نے مذاہب و ادیان کو معقولات کے فوائل پیپر میں لپیٹ کر مذاہب و ادیان کو بھون کر رکھ دیا، میں اکثر و بیشتر یہ مسئلہ بیان کرتا رہتا ہوں کہ مذہب کو اب معقولات کے دائرہ سے باہر نکال کر جذبات کی خوشبودار فضاء  میں سانس لینے دیں کیونکہ روحانی صداقتوں کو آج کا شرر رسیدہ شعور نہیں قبول کر سکتا یہی وجہ ہے کہ اب سوشل میڈیا میں فکری آزادی کے بعد معقولات نے ایسی اْڑان بھری کہ الامان والحفیظ، اب ناقدین کی زبانیں تو چپ نہیں کرائی جا سکتیں سوائے اس کے کہ ان کو موت کے گھاٹ اْتار دیا جائے یا پھر اْنہیں عدالتوں کے سپرد کر دیا جائے، لیکن یہ حق تو کسی کو بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی بھی دوسرے انسان سے جینے کا حق ہی چھین لے پھر وجہ کوئی بھی کیوں نہ ہو، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی خیارِ فکر کی حکمتِ عملی اپنا سکتے ہیں؟ جواب کیلئے میں اثبات یا نفی کا انتخاب نہیں کروں گا، اصحابِ دانش اس مسئلہ پر غور کریں کہ اگر ہم خیارِ فکر کی حکمتِ عملی اپنا لیں تو ہمیں کیا فوائد اور کیا کیا نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا، ہم آبائی لحاظ سے صوفی سلسلہ کے لوگ ہیں اور ہمارے آبائجیسلمیر میں ایک معروف چشتی بزرگ کے ہاتھ پر اسلام کی روشنی سے منور ہوئے تھے چنانچہ ہمارے لئے تو ہمارے بزرگان کے مدافن کی مٹی بھی اکسیرِ لاثانی ہے پس یہی ہمارا عقیدہ بھی ہے لیکن اگر ریاست ہمارے ان اعمال کو شرک و بدعت سے تعبیر کرکے ہمارے والہانہ التفات پر پابندی عائد کر دے گی تو یقیناً ہم جیسے بے ضرر افراد کے پاس بجز ہجرت کے کوئی دوسرا آپشن باقی نہیں رہے گا، یہ وہ بنیادی اور حقیقی مسائل ہیں جن کے سبب اس وقت ریاست زبردست فکری و اخلاقی انتشار کا شکار ہو چکی ہے پس کیا ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماش بین بنے بیٹھے رہیں گے یا اس بنیادی قضیہ کا کوئی حل بھی نکالنے کی جہد کریں گے؟ معلوم نہیں کہ ہم کب منطق اور جذبہ میں جوہری فرق کا ادراک کریں گے پس معلوم نہیں، خدا جو حکمت و دانش کا مرجعِ اوّل ہے اہلِ ایمان کیلئے بلاشبہ ایک جوہری قوت ہے اور کسی بھی اہلِ ایمان کو وہ اس اَمر کی اجازت نہیں دے سکتا ہے کہ وہ کسی انسان کی شخصی آزادی کو حتمی طور پر سلب کر لے پس خدا کی حکمت نے تو خدا کے برگزیدہ فرشتہ عزازیل کی حتمی نافرمانی کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے اْسے اتنی آزادی دیدی کہ وہ اگر چاہے تو خدا کے مخالف افراد کو اپنا دوست بنا لے چنانچہ میرا نہیں خیال کہ تاریخِ عالمِ کون و مکاں میں شخصی آزادی کی اس سے بڑھ کر کوئی حتمی مثال موجود ہو، عزازیل جسے قرآن میں خدا نے ابلیس کہا ہے پیدائشِ آدم سے اَن گنت عرصہ قبل خدا کا برگزیدہ بندہ تھا لیکن خدا نے جب آدم کو پیدا کیا تو ابلیس سے کہا کہ اسے سجدہ کرو، ابلیس نے صاف انکار کر دیا سو اب اصول کے مطابق تو ابلیس خدا کے حتمی عتاب کا موجب ٹھہرتا لیکن خدا نے ابلیس کی شخصی آزادی کا لحاظ کرتے ہوئے اسے کھلا چھوڑ دیا نہ صرف کھلا چھوڑ دیا بلکہ یہ اجازت بھی دیدی کہ اگر وہ چاہے تو اپنے پیچھے انسانیت کو لگا سکتا ہے، یہ ہے وہ خیارِ فکر جس کا مظاہرہ سب سے پہلے خود خدا نے کیا پس خیارِ فکر تو سنت اللہ ہے، وہ فعل جسے خود خدا نے سرانجام نہیں دیا اْس کا حکم وہ اپنے بندوں کو کیسے دے سکتا ہے؟ پس یہ تو مسلّمات کے بھی خلاف ہے، خدا کے ماننے والوں کیلئے پس اتنا تو لازمی ہونا چاہئے کہ وہ خدا کی اسکیم کو سمجھنے کی کوشش کریں، جذبہ کی صداقت پر کوئی بحث نہیں اور نہ ہی یہ معاملہ منطق کی گرفت میں آ سکتا ہے وہ برگزیدہ ہستیاں جن پر ہمارا ایمان ہوتا ہے اْن کے متعلق کسی قسم کی انتہائی معمولی بد تہذیبی بھی قابلِ قبول نہیں ہو سکتی اور نہ ہی یہ علاقہِ جذبات کیلئے متحمل معاملہ ہے لیکن بہرصورت ہم نے معاشرہ میں ہی رہنا ہوتا ہے جہاں پر ہر فکر سے وابستہ افراد موجود ہوتے ہیں اور ان کی فکری و شخصی آزادی کا لحاظ بھی ہمیں خدائی صفات سے ملا ہے پس ہمیں ایسا لائحہِ عمل اپنانا ہو گا جس میں ہم اپنے عقائد و جذبات کی بھی پوری آزادی کے ساتھ مشق کر سکیں اور اپنے سے مختلف افکار رکھنے والے افراد کی بھی فکری و شخصی آزادی کا لحاظ رکھ سکیں، پس ایسا لائحہِ عمل اب تک مجرب دانش کے مطابق صرف سیکولرازم یا خیارِ فکر ہی ہے جس کو کم از کم صرف ایک بار ہم اپنا کر دیکھ سکتے ہیں آخر انسان ہمیشہ اپنے تجربات ہی سے تو سیکھتا رہتا ہے، افراد، معاشرے اور اقوام جب تک گوناگوں تجربات کی بھٹی سے نہیں گزرتے تب تک وہ ناقص الفہم اور خام الخلق رہتے ہیں آج وہ اقوام جو معاشی و اخلاقی لحاظ سے اوجِ ثریا پر براجمان ہیں مسلسل تجربات کی بھٹی سے گزر کر یہاں تک پہنچے ہیں پس اگر ہم یہ انتہائی اہم حکمت آج اپنا لیتے ہیں تو آنے والے وقتوں میں ہر قسم کی آسودگی ہمارا مقدر ٹھہرے گی ورنہ جس طرح ستر سال ہم نے خوابِ غفلت میں گزار دیئے ایسے ہی آنے والا لامحدود وقت بھی بغیر کسی غیر معمولی بہتری کے گزرتا جائے گا، آخر میں ایک مستند حوالہ کے طور میں بانیِ پاکستان کی 11 اگست 1947 کو پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کا ایک مختصر اقتباس پیش کرتا ہوں جو خیارِ فکر کی عین ترجمانی کر رہا ہے، آپ نے فرمایا تھا کہ آپ آزاد ہیں، آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کیلئے، آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کیلئے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کیلئے، آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو، ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں.”

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں