0

سول سرونٹس رولز 2020ء پر فوری عمل درآمد

سول سرونٹس رولز 2020ء پر فوری عمل درآمد

سول سرونٹس کی استعداد یعنی صلاحیت اور اس بنیاد پر کارکردگی یعنی کارِ سرکار انجام دینا، کو جانچنے کے لئے حکومت نے سول سرونٹس (سروس سے ڈائریکٹ ریٹائرمنٹ) رولز 2020 وضع کئے اور ان کا نوٹفیکیشن 15اپریل 2020ء کو کیا گیا۔ یہ سارا کام وزیراعظم کے وژن اور احکامات کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنت شہزاد ارباب نے سرانجام دیا ہے۔ یہ نوٹیفکیشن فوری طور پر نافذ العمل بھی ہو چکا ہے، جس کے مطابق 1تا22گریڈ کے تمام افسران اور عہدیداران کی صلاحیت اور کارکردگی کی جانچ کی جائے گی اور اگر اسے تسلی بخش نہ پایا گیا تو انہیں ریٹائر کر دیا جائے گا۔ یہ جانچ و پڑتال کیونکہ 20سال سروس پوری کرنے والوں کی جائے گی اس لئے انہیں ریٹائرمنٹ کے پورے لوازمات کے ساتھ سرکاری ملازمت سے رخصت کیا جائے گا۔

طے کردہ طریقِ کار کے مطابق کیسز ریٹائرمنٹ بورڈز اور کمیٹیوں کے پاس بھیجے جائیں گے وہ تحقیقات کے بعد فیصلہ کریں گی کہ آیا مذکورہ ملازم سرکاری ملازمت کے اہل ہے یا نہیں۔ ڈائریکٹ ریٹائرمنٹ کے طریق کار کو شفاف بنانے کے لئے طے کیا گیا ہے کہ بورڈ / کمیٹی کے فیصلے کے بعد یعنی جب یہ طے ہو جائے گا کہ مذکورہ ملازم محکمے کے لئے اب فائدے مند نہیں ہے تو ریٹائرمنٹ کے لئے شوکاز جاری کیا جائے گا، جس میں فیصلے کی تفصیلات بھی درج ہوں گی، جن کی بنیاد پر اس کی ریٹائرمنت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ ملازم سول سرونٹ اپیل رولز 1977ء کے تحت فیصلے کے خلاف اپیل کر سکے گا، اس کو ذاتی شنوائی کا موقع دیا جائے گا جس میں ملازم اپنی افادیت وغیرہ بارے اپنا نقطہ ء نظر بیان کر سکے گا۔ اگر مجاز اتھارٹی مطمئن ہو کہ عہدیدار کی مزید سروس عوامی مفاد میں نہیں ہے تو افسر / اہلکار اپنی تمام مراعات بشمول پنشن ریٹائر کر دیا جائے گا۔ سردست وفاقی حکومت کے تحت 27 ہزار افسران خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ گریڈ 16اور اس سے نیچے تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ ملازمین کام کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کی کارکردگی کو بڑھانے کے عمل کے لئے قائم کردہ کمیٹی /بورڈ کی پہلی میٹنگ رواں مہینے کے آخر میں متوقع ہے جس میں گریڈ 20تا 22کے 565 افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا یہ افسران پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس اور سیکرٹریٹ گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ گریڈ 17تا 19اور 16اور اس سے نیچے گریڈ کے افسران و اہلکاروں کی کارکردگی کی جانچ کے لئے قائم کمیٹیوں کے اجلاس اگست 2020ء سے شروع ہوں گے۔ بظاہر تو یہ سارا عمل شفاف اور قابل بھروسہ نظر آتا ہے، لیکن اصلیت تو اس وقت پتہ چلے گی جب عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

اس بارے میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارا سرکاری سیٹ اپ مکمل طور پر نہ سہی خاصی حد تک ناکارہ ہو چکا ہے۔ مرکز ہو یا صوبے، ہر جگہ قحط الرجال ہے۔ نظام تو کسی نہ کسی صورت موجود ہے، لیکن اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور اس پر اس کی روح کے مطابق چلنے کا رواج دن بدن ختم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی خدمات مہیا کرنے والے ادارے خواہ وہ صحت سے متعلق ہوں یا تعلیم اور صفائی ستھرائی والے ان کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، جس کے باعث عامۃ الناس میں سرکار کے بارے میں عدم اعتماد پایا جاتا ہے کیونکہ کارِ سرکار کے بارے میں عمومی سوچ منفی ہے اور عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے، اس لئے وہ ٹیکس ادا کرنے پر راضی نہیں ہوتے ہیں، کیونکہ جب ریاست انہیں سہولیات فراہم نہیں کر پا رہی تو وہ ٹیکس کیوں دیں۔

ہمارے پاس وسائل کی اتنی کمی نہیں ہے کہ ہم قومی تعمیر و ترقی کے لئے آگے نہ بڑھ سکیں۔ ہم اگر وفاقی بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگراموں کی تکمیل کے لئے مختص رقم کو دیکھیں تو امید پیدا ہوتی ہے کہ ہمارا ملک تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہے، لیکن سال کے آخر میں اس رقم کے استعمال / خرچ کے اعداد و شمار دیکھیں تو پریشانی ہوتی ہے، کیونکہ دستیاب رقم خرچ ہی نہیں ہو پاتی ہے، جن جن محکموں کے ذمے سالانہ ترقیاتی پروگرام ہوتے ہیں۔ وہ بجٹ کو استعمال کرنے کے لئے درکار تگ و دوہی نہیں کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دستیاب وسائل عوامی فلاح و بہبود پر خرچ ہی نہیں ہو پاتے ہیں۔ ہمارے ایک ٹاپ بیورو کریٹ تھے سعید احمد علوی مرحوم۔ انہوں نے CSS میں ٹاپ کیا اور فیڈرل سیکرٹری کے طور پر ریٹائر ہوئے وہ ایک عرصہ تک ٹیکٹیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) کے سربراہ بھی رہے ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سرکاری افسر کی کارکردگی کا انحصار اس کی طرف سے حاصل کردہ اہداف پر ہوتا ہے یعنی کسی افسر نے کس قدر ٹارگٹس حاصل کئے جو کام اسے سونپے گئے، جو منصوبے اس نے بنائے اور ان کو مکمل کیا وغیرہ وغیرہ، اس کی کارکردگی کہلاتا ہے۔ محکمہ جاتی کارکردگی کی جانچ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ کس محکمے نے کس قدر سالانہ ترقیاتی بجٹ استعمال کیا! یعنی جس قدر بجٹ خرچ کیا وہی اس کی کارکردگی شمار ہو گی“۔ اگر اس معیار پر دیکھیں تو ہمیں محکمہ جاتی اور انفرادی کارکردگی بارے شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری طرف سرکاری محکموں اور ان سے متعلقہ افسران و اہلکاروں کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ یہاں کوئی کام رشوت یا سفارش کے بغیر نہیں ہو سکتا ہے یہ تاثر نہیں بلکہ خاصی حد تک ایک حقیقت ہے کرپشن، بے ایمانی نہ صرف سرکاری محکموں میں بلکہ ہمارے پورے معاشرے میں بے ایمانی و رشوت ستانی کا زہر سرایت کر چکا ہے۔

موجودہ حکومت اسی ناسور کے خاتمے کے مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے اور بجا طور پر کرپشن کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے وہ ایک حد تک کامیاب بھی نظر آ رہی ہے کہ اس نے کرپشن کے خلاف ایک عمومی فضا اور رائے عامہ تشکیل دے دی ہے۔

نیب زور و شور سے بڑی بڑی مچھلیوں کو پکڑ رہا ہے اس پکڑ دھکڑ میں کرپٹ عناصر گھبرائے ہوئے ہیں اور جو ناقابلِ تسخیر گردانے جاتے تھے وہ نیب کے شکنجے میں پریشان نظر آ رہے ہیں لیکن کرپشن سے بھی بڑا ایشو نااہلیت اور ناکارکردگی کا ہے، جس کے باعث بے انتہا قومی وسائل ضائع ہو جاتے ہیں، اس لئے کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ نااہل اور ناکارہ سرکاری افسران اور اہلکاروں کا قلع قمع کرنا بھی ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے دو سالہ تجربے کے بعد اس حقیقت کو پا لیا ہے اور اس کے حل کی سنجیدہ کاوشیں بھی شروع ہو چکی ہیں۔ سول سروس کی کارکردگی اور صلاحیت کی جانچ کے لئے سول سرونٹس رولز2020ء کا اجراء اور اس کے تحت فیڈرل افسران و اہلکاروں کی جانچ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس پر فوری عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔ امیدِ واثق ہے کہ اگر اس پر دیانتداری اور قومی جذبے کے تحت عمل درآمد ہوگیا تو نااہل اور ناکارہ افراد کو گھر بھجوا کر اصل اور باصلاحیت افراد کے لئے آگے بڑھنے اور قومی جذبے کے تحت کام کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے اور قوم حقیقی تبدیلی کے ثمرات سے فائدہ اٹھا سکے گی۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں