Home » سنکیانگ  امور سے متعلق چینی وزارتِ خارجہ کی پریس کانفرنس

سنکیانگ  امور سے متعلق چینی وزارتِ خارجہ کی پریس کانفرنس

by ONENEWS

سنکیانگ  امور سے متعلق چینی وزارتِ خارجہ کی پریس کانفرنس

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک)چین کی وزارت خارجہ نیسنکیانگ ویغور خود اختیارعلاقے کے بارے میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی جس میں سنکیانگ کی مقامی حکومتوں کے اہلکاروں اور عوام نے سنکیانگ کی حقیقی صورتحال پر روشنی ڈالی اور اس حوالے سے پھیلائی گئی افواہوں اور الزامات کو بے نقاب کیا۔نام نہاد “ری ایجوکیشن کیمپس” کے بارے میں ذرائع ابلاغ  کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے سنکیانگ حکومت کے دفترِ اشاعت  کے ترجمان علی جان عنایتی  نے کہا کہ سنکیانگ میں نام نہاد “ری ایجوکیشن کیمپس”موجود نہیں ہیں، جو تعلیمی و تربیتی مراکز قاءَم کیے گئے ہیں وہ ہرگز “ری ایجوکیشن کیمپ” نہیں ہیں۔سنکیانگ میں  تمام قانونی تقاضوں کے تحت قائم کردہ  پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے مراکز  دراصل معاشرے میں سیانتہا پسند نظریات کے خاتمہ کے لیے قائم اسکول ہیں ،جو امریکہ کے  “معاشرتی اصلاحی مراکز “، برطانیہ کے ڈی ڈی پی پروجیکٹ اور فرانس کے “انسداد انتہا پسندی مراکز” کی مانند ہیں۔

یہ سب ادارے بھی انسداد دہشت گردی اور انسداد بنیاد پرستی کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں اور یہ  اقوام متحدہ کی عالمی طور پر دہشت گردی کے خاتمیکی حکمت عملی کے اصول اور اصل مقاصد کے عین مطابق  ہیں۔ووبلی احسان سنکیانگ کی ایک  جامع مسجدسے منسلک ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وبا  کے باوجود، مقامی لوگ تمام تر حفاطتی تدابیر کا خیال رکھتے ہوئے عبادت کے لیے مساجد میں آتے ہیں۔ سنکیانگ میں، مسلمانوں کی معمول کی مذہبی سرگرمیاں جیسے کہ نماز، روزہ اور اسلامی تہوار منانا،ان کی خواہش کے مطابق معمول کے مطابق سرانجام دیئے جاتے ہیں اور قانون کے ذریعہ ان کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ کوئی بھی فرد ان سرگرمیوں میں  مداخلت نہیں  کرتا ہے۔”کچھ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ  سنکیانگ کی مساجد میں مسلمانوں کی نگرانی اور مسلمانوں کو سزا دینے کے لیے  کیمرے لگائے گئے ہیں۔ یہ صریحاً بدنیتی پر مبنی اور گمراہ کن دعوی ہے۔مساجد میں کیمروں کی تنصیب ہماری حفاظت کے لئے اور تشدد یا دہشت گردی کی مجرمانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے ہیں اور ہم ان کی تنصیب سے بالکل متفق ہیں اور اس کی حمایت کرتے ہیں۔ اس قسم کی افواہوں کا مقصد  مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان  اختلافات اور بد گمانیاں پیدا کرنا ہے تاکہ  سنکیانگ میں قائم مذہبی ہم آہنگی اور ہماری پر سکون زندگیوں  کو نقصان پہنچے۔”سنکیانگ  امور سے متعلق چینی وزارتِ خارجہ کی پریس کانفرنس اکیس دسمبر کو  چین کی وزارت خارجہ نیسنکیانگ ویغور خود اختیارعلاقیکے بارے میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی جس میں سنکیانگ کی مقامی حکومتوں کے اہلکاروں اور عوام نے سنکیانگ کی حقیقی صورتحال پر روشنی ڈالی اور اس حوالے سے پھیلائی گئی افواہوں اور الزامات کو بے نقاب کیا۔نام نہاد “ری ایجوکیشن کیمپس” کے بارے میں ذرائع ابلاغ  کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے سنکیانگ حکومت کے دفترِ اشاعت  کے ترجمان علی جان عنایتی  نے کہا کہ سنکیانگ میں نام نہاد “ری ایجوکیشن کیمپس”موجود نہیں ہیں، جو تعلیمی و تربیتی مراکز قاءَم کیے گئے ہیں وہ ہرگز “ری ایجوکیشن کیمپ” نہیں ہیں۔سنکیانگ میں  تمام قانونی تقاضوں کے تحت قائم کردہ  پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے مراکز  دراصل معاشرے میں سیانتہا پسند نظریات کے خاتمہ کے لیے قائم اسکول ہیں ،جو امریکہ کے  “معاشرتی اصلاحی مراکز “، برطانیہ کے ڈی ڈی پی پروجیکٹ اور فرانس کے “انسداد انتہا پسندی مراکز” کی مانند ہیں۔یہ سب ادارے بھی انسداد دہشت گردی اور انسداد بنیاد پرستی کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں اور یہ  اقوام متحدہ کی عالمی طور پر دہشت گردی کے خاتمیکی حکمت عملی کے اصول اور اصل مقاصد کے عین مطابق  ہیں۔ووبلی احسان سنکیانگ کی ایک  جامع مسجدسے منسلک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وبا  کے باوجود، مقامی لوگ تمام تر حفاطتی تدابیر کا خیال رکھتے ہوئے عبادت کے لیے مساجد میں آتے ہیں۔ سنکیانگ میں، مسلمانوں کی معمول کی مذہبی سرگرمیاں جیسے کہ نماز، روزہ اور اسلامی تہوار منانا،ان کی خواہش کے مطابق معمول کے مطابق سرانجام دیئے جاتے ہیں اور قانون کے ذریعہ ان کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ کوئی بھی فرد ان سرگرمیوں میں  مداخلت نہیں  کرتا ہے۔”کچھ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ  سنکیانگ کی مساجد میں مسلمانوں کی نگرانی اور مسلمانوں کو سزا دینے کے لیے  کیمرے لگائے گئے ہیں۔ یہ صریحاً بدنیتی پر مبنی اور گمراہ کن دعوی ہے۔مساجد میں کیمروں کی تنصیب ہماری حفاظت کے لئے اور تشدد یا دہشت گردی کی مجرمانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے ہیں اور ہم ان کی تنصیب سے بالکل متفق ہیں اور اس کی حمایت کرتے ہیں۔ اس قسم کی افواہوں کا مقصد  مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان  اختلافات اور بد گمانیاں پیدا کرنا ہے تاکہ  سنکیانگ میں قائم مذہبی ہم آہنگی اور ہماری پر سکون زندگیوں  کو نقصان پہنچے۔”

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment