Home » سعدحسین رضوی: کیاتحریک لبیک پاکستان کے جوان قائدپارٹی چلاسکتے ہیں؟

سعدحسین رضوی: کیاتحریک لبیک پاکستان کے جوان قائدپارٹی چلاسکتے ہیں؟

by ONENEWS

تحریک لبیک پاکستان صرف 4 سال قبل 2016ء میں وجود میں آئی اور 2018ء کے عام انتخاب میں اس نئی مذہبی سیاسی جماعت نے تقریباً 22 لاکھ ووٹ حاصل کئے، تاہم جس شخصیت کے زیر سایہ اس جماعت نے اتنی کم مدت میں پاکستان میں اتنا اثر و رسوخ حاصل کیا وہ وفات پاچکے ہیں۔

بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے سخت گیر مذہبی رہنماء علامہ خادم حسین رضوی گزشتہ ہفتے 19 نومبر کو انتقال کرگئے تھے اور ان کی جماعت کی قیادت اب ان کے 26 سالہ بیٹے سعد حسین رضوی کے ہاتھوں میں سونپ دی گئی ہے۔

خدام حسین رضوی کا اورج

سال 2015ء سے قبل شاید پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے علامہ خادم حسین رضوی کا نام بھی نہ سنا ہو، لیکن اسی سال انہوں نے تحریک رہائی ممتاز قادری نامی گروہ قائم کیا جس کا مقصد پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ملک ممتاز قادری کو رہا کرانا تھا۔ اس کے بعد یہ گروہ تحریک لبیک پاکستان میں تبدیل ہوگیا اور چند ہی سالوں میں اس کا اثر و رسوخ پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں اتنا بڑھا کہ سیاسی و مذہبی حلقوں میں اس جماعت کو ایک منظم قوت تصور کیا جانے لگا۔ اس جماعت کے منظر عام پر آنے کے بعد ملک میں توہین مذہب کے قانون اور توہین رسالت ﷺ کے نام پر ہونیوالے پرتشدد واقعات میں بھی اضافہ ہوگیا۔

علامہ خادم حسین رضوی کی سربراہی میں اس تنظیم نے کئی بڑے دھرنے اور ریلیاں نکالیں اور ارباب اختیار قوتوں کو بھی ٹکر دینا شروع کردی۔ اسی جماعت نے 2017ء میں فیض آباد کے مقام پر اس وقت کی پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی حکومت کیخلاف 21 روزہ دھرنا دیا اور وجہ تھی پاکستانی ممبران پارلیمان حلف نامے میں تبدیلی تھی، یہی وہ وقت تھا جب اس جماعت کی اسٹریٹ پاور میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

وفات سے دو دن قبل بھی علامہ خادم حسین رضوی فیض آباد کے مقام پر اپنے سینکڑوں کے کارکنان کے ہمراہ دھرنے پر بیٹھے نظر آئے اور اس بار وجہ بنی ایک فرانسیسی میگزین میں چھپنے والے پیغمبر اسلام ﷺ کے توہین آمیز خاکے، لیکن یہ دھرنا صرف دو دن ہی جاری رہا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے 2 سے 3 ماہ میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی حامی بھرلی اور معاہدے میں یہ بھی لکھا گیا کہ حکومت ریاستی سطح پر فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرے گی۔

بریلوی مکتبہ فکر کی سب سے طاقتور جماعت

تحریک لبیک پاکستان کے قیام سے قبل پاکستان میں بریلوی مکتبہ فکر کی نمائندہ دو اور جماعتیں بھی رہی ہیں، پہلی مولانا شاہ احمد نورانی کی جمعیت علمائے پاکستان اور سلیم قادری کی سنی تحریک۔

مذہبی و سیاسی جماعتوں پر گہری نگاہ رکھنے والے صحافی سبوخ سید کے مطابق جمعیت علماء پاکستان اور سنی تحریک بریلوی مکتبہ فکر کی نمائندگی تو کرتی تھیں لیکن ان دونوں جماعتوں نے کبھی تحریک لبیک پاکستان کی طرح کسی بھی انتخابات میں پاکستان بھر سے اپنے امیدوار نہیں کھڑے کئے گئے، یہی وجہ ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کو بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی پہلی مین اسٹریم پارٹی کہا جاسکتا ہے۔

سبوخ سید کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کو ایک مین اسٹریم پارٹی بنانے کا سہرا علامہ خادم رضوی کے سر جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد جماعت اسلامی سمیت پاکستان کی تقریباً تمام ہی مذہبی جماعتوں نے پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ملک ممتاز قادری کو اپنا ’انتخابی نشان‘ بنانے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیاب صرف تحریک لبیک پاکستان رہی۔

سبوخ سید کہتے ہیں کہ ’علامہ خادم حسین رضوی اپنے چاہنے والوں کیلئے ایک طلسماتی شخصیت تھے اور تقاریر کرتے وقت ان کے مزاج کی سخت گیری انہیں محفلوں میں دوسروں سے نمایاں رکھتی تھی‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ علامہ کے صاحبزادے کیلئے اپنے والد والی خصوصیات پر عبور حاصل کرنا ایک مشکل کام ہوگا اور اس میں ناکامی کی صورت میں تحریک لبیک پاکستان اگلے انتخابات میں اپنی حمایت کھوسکتی ہے۔

سعد رضوی کون ہیں؟

علامہ خادم حسین رضوی کے 26 سالہ صاحبزادے سعد حسین رضوی روز اول سے ہی اپنے والد کیساتھ پارٹی کے امور دیکھ رہے ہیں اور پچھلے کچھ سالوں سے جماعت کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ تاہم اپنے والد کی موجودگی میں وہ ہمیشہ ان کے پیچھے ہی رہے لیکن اپنی جماعت کو سوشل میڈیا پر فعال کرنے اور صحافیوں سے روابط قائم کرنے کی ذمہ داری ماضی میں وہی نبھاتے رہے ہیں۔

ان کے قریبی دوست سلمان کے مطابق سعد حسین رضوی اس وقت اپنے والد ہی کے مدرسہ ابو ذر غفاری میں درس نظامی کے درجہ عالیہ کے اسٹوڈنٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سعد ایک انتہائی سمجھدار اور مطالعہ کا شوق رکھنے والے نوجوان ہیں۔

سلمان کہتے ہیں کہ مدرسے کے باقی طالبعلموں کے مقابلے میں سعد دور جدید کے دیگر معاملات میں بھی کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا کی اہمیت کو جانتے ہوئے انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز کو چلانا سیکھا اور اپنے والد کی تقاریر کو بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچایا‘۔

سلمان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان اور اس کے ذمہ داران کے فیس بک پر متعدد اکاؤنٹس موجود تھے لیکن دو سال پہلے تک ٹوئٹر پر ان کی جماعت کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔

ان کے دوست کہتے ہیں کہ سعد کو اندازہ تھا کہ ٹوئٹر پر موجود لوگ سنجیدہ مزاج رکھتے ہیں اور وہاں پر تحریک لبیک پاکستان کی موجودگی پارٹی کے حق میں لوگوں کے دل و دماغ میں ایک مثبت رائے بنانے میں مدد دے گی۔

’سعد نے مختلف مدارس کا دورہ کیا اور وہاں ورکشاپس منعقد کئے اور طالبعلموں کو ٹوئٹر استعمال کرنے کا طریقہ بھی سمجھایا۔ آج آپ دیکھ سکتے ہیں ٹوئٹر پر آپ کو تحریک لبیک پاکستان کے حق میں ٹرینڈز نظر آتے ہیں۔‘

علامہ خادم حسین رضوی کے مینار پاکستان پر جنازے کا منظر

تحریک لبیک پاکستان کا مستقبل کیا ہے؟

تحریک لبیک پاکستان کو بنے ہوئے پانچ سال ہوگئے ہیں اور ان 5 سالوں میں علامہ خادم حسین رضوی کے دو قریبی ساتھی پیر افضل قادری اور آصف اشرف جلالی اپنے دھڑے لے کر الگ ہوچکے ہیں۔ علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد بھی یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ جماعت مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوسکتی ہے۔

تاہم تحریک لبیک پاکستان کے رہنماء مفتی مبارک عباسی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کی شوریٰ نے متفقہ طور پر سعد حسین رضوی کو پارٹی کا امیر مقرر کیا ہے۔

مفتی مبارک عباسی کہتے ہیں کہ ’سعد حسین رضوی ہمارے قائد (علامہ خادم حسین رضوی) کے جانشین ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی کارکن کو ان کی قیادت پر کوئی اعتراض ہوگا۔‘

تاہم سبوخ سید کہتے ہیں کہ سعد حسین رضوی ابھی جوان ہیں اور انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا ابھی تک نہیں منوایا ہے اسی لئے جماعت کے امور شاید تحریک لبیک پاکستان کی شوریٰ ہی سنبھالے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سعد کو پارٹی کا امیر بنانے کی وجہ یہ ہے کہ پارٹی کو اسٹیج پر ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو لوگوں کو علامہ خادم حسین رضوی کی یاد دلاتا رہے۔

تحریک لبیک پاکستان کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، تاہم سبوخ سید کے خیال میں اگر ریاستی ادارے تحریک لبیک پاکستان کی کسی موقع پر حمایت کرتے ہیں اور سعد اپنے والد کی شعلہ بیانی اور تقاریر کے انداز کو اپنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو تحریک لبیک پاکستان کا آگے کا سفر آسان ہوسکتا ہے۔

.

You may also like

Leave a Comment