Home » سرکاری خرچ پرباہر پڑھنے والے اسکالرز واپس کیوں نہیں آتے؟

سرکاری خرچ پرباہر پڑھنے والے اسکالرز واپس کیوں نہیں آتے؟

by ONENEWS

فوٹو: اے ایف پی

تحریر: عروج اورنگزیب

خالد فاروق سلامت سن 2007 میں فرانس پڑھنے کے لیے گئے۔ انہیں پیرس دیدیرو یونیورسٹی میں داخلہ ملا جہاں ان کی پڑھائی اور رہائش کے تمام اخراجات پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی نگرانی کرنے والے سرکاری ادارے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ادا کیے۔ اس کے علاوہ کمیشن نے انہیں پیرس آنے جانے کا سفر خرچ، کتابوں کی خریداری پر اٹھنے والے اخراجات، تحقیقی کام کے لئے ضروری مالی وسائل اور علاج معالجے کے لئے درکار رقم بھی فراہم کی۔

لیکن خالد فاروق سلامت نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے کے بعد پاکستان آنے کے بجائے بیرون ملک ہی مزید تعلیم حاصل کرنی شروع کر دی۔ ایک تحقیقی جریدے میں چھپے ہوئے مضمون کے مطابق وہ اس وقت برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے روزلِن انسٹی ٹیوٹ میں ویٹرنری سائنس میں تحقیق کر رہے ہیں۔

ان کے پاکستان نہ آنے پر ہائر ایجوکیشن کمیشن نے انہیں مطلع کیا کہ انہیں وہ تمام رقم واپس کرنی ہوگی جو انہیں وظیفے کے طور پر دی گئی تھی۔ کمیشن کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق ان کے ذمے واجب الادا رقم ایک کروڑ 53 لاکھ روپے ہے۔ لیکن خالد فاروق سلامت کی طرف سے کمیشن کو کوئی جواب موصول نہیں ہوا لہٰذا ان سے رقم کی وصولی کے لیے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔

انہی کی طرح صائمہ اعجاز سن 2008 میں سرکاری وظیفے پر نیوزی لینڈ کی میسی یونیورسٹی میں بزنس مینجمنٹ کے مضمون میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے گئیں لیکن انہوں نے کمیشن کو بتائے بغیر پڑھائی چھوڑ دی۔ اب ان سے 2کڑور روپے واپس لینے کے لیے قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

اس طرح کی کارروائی عباس مقبول کے خلاف بھی کی جا رہی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ان کے ذمے دو کڑور 21لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔ انہیں سن 2007 میں انگلستان کی یارک یونیورسٹی سے بائیو ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے وظیفہ دیا گیا تھا تاہم اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے لندن کی ایک لیبارٹری میں نوکری کر لی ہے۔

کمیشن کی ویب سائٹ پر ایسے 94 مزید لوگوں کا ذکر ہے جنہیں بیرون ملک پی ایچ ڈی کرنے کے لیے وظائف دیے گئے لیکن انہوں نے یا تو اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی، یا مزید تعلیم حاصل کرنی شروع کر دی اور یا پھر تعلیم مکمل کرنے کے بعد بیرون ملک ملازمت کر لی۔

کمیشن کے مطابق ایسے لوگوں کے ذمے کل واجب الادا رقم دو ارب 85کروڑ روپے بنتی ہے جس کی واپسی کے لیے ان سب کے خلاف عدالتی کارروائی کی جا رہی ہے۔

اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ سب لوگ سن 2007 سے سن 2012 کے درمیان بیرون ملک گئے جبکہ اس سے پہلے اور بعد میں بھی سینکڑوں لوگ ہائر ایجوکیشن کے 14 مختلف پروگراموں کے تحت وظائف حاصل کر کے غیر ملکی تعلیمی اداروں میں جا چکے ہیں۔ اب ان میں سے کتنے لوگ پاکستان واپس نہیں آئے اس حوالے سے کوئی حتمی اعداد و شمار دستیاب نہیں۔

دوسری طرف فروری 2018 میں ڈان اخبار میں چھپنے والی ایک خبر کے مطابق کمیشن نے سینیٹ کی ایک اسٹینڈنگ کمیٹی کو بتایا کہ اس نے 5 ہزار 780 طالب علموں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بیرون ملک بھیجا جن میں سے 3 ہزار 807 طالب علم پڑھائی مکمل کر چکے ہیں اور ایک ہزار 537 ابھی پڑھ رہے ہیں جبکہ 428 پاکستان واپس نہیں آئے۔

کمیشن کا یہ بھی کہنا تھا کہ واپس نہ آنے والوں میں سے 55 لوگوں نے وظیفے کی رقم جرمانے سمیت واپس کر دی ہے اور 11 مزید لوگ وظیفے اور جرمانے کی واپسی کے مختلف مراحل سے گزر رہے ہیں جبکہ 116 لوگوں کے خلاف عدالتی کارروائی کی جا رہی ہے۔

کمیشن نے باقی بچنے والے 338 افراد کے خلاف بھی عدالتی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا۔

وطن واپسی کیوں ضروری ہے؟

سرکاری وظیفے پر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بیرون ملک جانے والے افراد ایک اقرار نامے پر دستخط کرتے ہیں جس کے مطابق انہیں ڈگری وصول کرنے کے بعد ایک مہینے کے اندر اندر پاکستان واپس آ کر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے دفتر میں حاضر ہونا ہوتا ہے۔ اس اقرار نامے کے تحت وہ اپنی تعلیم مکمل کر کے کم از کم 5 سال پاکستان میں کام کرنے کے بھی پابند ہوتے ہیں۔ وہ اس بات کا عہد بھی کرتے ہیں کہ ان 5 سالوں میں نہ تو وہ مزید تعلیم حاصل کریں گے اور نہ ہی بیرون ملک ملازمت کریں گے۔

لیکن وظیفہ خواروں کی ایک بڑی تعداد کا پاکستان نہ آنا ظاہر کرتا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اس اقرار نامے کی مکمل تعمیل میں ناکام رہا ہے۔ یہ جاننے کے لیے کہ آیا کمیشن نے اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لیے کوئی اقدامات کیے ہیں سجاگ نے اس کے کئی اہل کاروں سے رابطہ کیا لیکن ان میں سے کسی نے بھی سوالوں کا جواب نہیں دیا حتیٰ کہ کمیشن کی میڈیا ڈائریکٹر عائشہ اکرام کو بھیجی گئی ایک ای میل کا جواب بھی 17 روز گزرنے کے باوجود ابھی تک موصول نہیں ہوا۔

سرکاری وظیفے پر بیرون ملک پڑھنے والے واپس کیوں نہیں آنا چاہتے؟

سرکاری وظیفے پر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے ایک محقق نے بتایا کہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ تقریباً 3 سال پنجاب یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر پڑھاتے رہے لیکن وہ پاکستان میں 2 سال مزید نہیں گزار پائے کیونکہ ان کے بقول ریاستی قدغنوں اور آمریتی اثرات کے باعث یہاں ان کے لیے آزادانہ طور پر تحقیقی کام کرنا مشکل ہوگیا تھا۔

ان کے مطابق ایسے محقق جو پاکستانی ریاست کی پالیسیوں کے بارے میں ایک تنقیدی نقطہ نظر رکھتے ہیں انہیں ان کی تحقیق کے حوالے سے دھمکایا جاتا ہے اور انہیں کہا جاتا ہے کہ وہ ایسی تحقیق نہ کریں جسے ملک دشمن عناصر اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں ان کے پاس دو ہی راستے تھے۔ ایک یہ کہ وہ اپنی مرضی کے موضوعات پر تحقیق کرنا بند کر دیتے اور ریاست کو یہ طے کرنے کا حق دے دیتے کہ کون سے سماجی، سائنسی اور سیاسی سوال اہم ہیں اور کون سے نہیں۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ وہ پاکستان ہی چھوڑ دیتے۔

اعلیٰ تعلیم کے ایک اور پہلو کی نشان دہی کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں سوشل سائینسز اور ادب میں تحقیق کی حوصلہ شکنی کر کے تکنیکی ڈگریوں کی حوصلہ افزائی کی گئی اور تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کے بجائے اس کے حجم میں اضافے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس صورت حال میں ان کے بقول ان کے لیے پاکستان میں کام کرتے رہنا ممکن نہ تھا۔

ان کے مطابق غیر ملکی یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے پاکستانی وہاں کے تعلیمی کلچر، طرزِ زندگی اور صاف آب و ہوا کے عادی ہو جاتے ہیں اس لیے ان کے لیے پاکستان واپس آ کر ایک مختلف قسم کے ماحول میں کام کرنا اور زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی یونیورسٹیوں میں انتظامی سطح پر سیاست کا عمل دخل بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے آپ کو تقرری سے لے کر مستقل عہدہ ملنے تک میرٹ کے بجائے طاقت ور گروپوں کے ساتھ روابط استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ بیرون ملک پڑھنے والے لوگ اس طرح کے ماحول میں واپس آنے کے بجائے وہیں بس جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اس ضمن میں سب سے اہم مسئلہ پاکستان واپس آنے والے لوگوں کے لیے سرکاری نوکری کی فراہمی ہے۔ اکثر اوقات پاکستانی یونیورسٹیوں میں ان کے مضمون سے منسلک آسامیاں یا تو خالی نہیں ہوتیں یا سرے سے موجود ہی نہیں ہوتیں۔

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سن 2009 میں عبوری بھرتی کا ایک پروگرام وضع کیا جس کے تحت بیرون ملک سے واپس آنے والے تحقیق کاروں کو ایک سال کے لیے کسی سرکاری یونیورسٹی میں کمیشن کے خرچے پر ملازمت دی جاتی ہے۔ جبکہ اس عرصے کے دوران انہیں اپنے لیے مستقل سرکاری نوکری کا انتظام کرنا ہوتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں طبیعیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمود حسن کہتے ہیں کہ کہ یہ پروگرام زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوا۔ ان کے مطابق ایک سال ختم ہونے کے بعد ان افراد کو مزید نوکری نہیں ملتی کیونکہ زیادہ تر سرکاری یونیورسٹیاں ان کی ملازمت کے اخراجات اٹھانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ لیکن ایک ایسے وقت میں یونیورسٹیوں کا مزید اخراجات سے بچنا کوئی زیادہ حیران کن بات نہیں جب کچھ یونیورسٹیاں اپنے موجودہ ملازمین کی تنخواہیں بھی نہیں دے پا رہیں جیسا کہ حال ہی میں پشاور یونیورسٹی میں بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

اس مسئلے کا حل کیا ہوسکتا ہے؟

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں معاشیات کے استاد، ماہر تعلیم اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بورڈ کے رکن ڈاکٹر فیصل باری سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کا حل بیرون ملک منتقل ہونے والے تعلیم یافتہ لوگوں پر جرمانے عائد کرنا نہیں بلکہ اس کے بجائے ہمیں اپنی یونیورسٹیوں کے نظام کو اتنا دلکش بنانا چاہیئے کہ ان لوگوں کو پاکستان واپس آنا ایک مجبوری نہ محسوس ہو۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سرکاری وظیفے پر بیرون ملک پڑھنے والا کوئی فرد پی ایچ ڈی کرنے کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے لگے تو اسے وظیفے اور جرمانے کی رقم کی واپسی کے نوٹس بھیجنے کے بجائے قائل کیا جانا چاہیے کہ جب بھی اس کی تعلیم مکمل ہو جائے وہ پاکستان لوٹ آئے اور اپنے اقرار نامے کی شراٰط کے مطابق یہاں نوکری کرے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چئرمین ڈاکٹر طارق بنوری بھی بیرون ملک رہ جانے وظیفہ خواروں پر سختی کرنے کے قائل نہِیں۔ ایک میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا ہے کہ واپس نہ آنے والے تحقیق کاروں کو جرمانے کے خطوط بھیج کر دھمکانے کے بجائے ان سے یہ رقم قسطوں میں واپس لی جانی چاہیے تاکہ اس رقم سے کسی اور طالب علم کو وظیفہ دے کر پڑھایا جا سکے۔

نوٹ: سماء ڈیجیٹل نے یہ رپورٹ سجاوٹ کی اجازت سے شائع کی۔

.

You may also like

Leave a Comment