0

سردار عثمان بزدار کی بلوچستان آمد اور اعلانات

وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت بنی تو پنجاب کے اندر ماضی کے برعکس جنوبی پنجاب سے وزیراعلیٰ نامزد کیا گیا۔ ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے سردار عثمان بزدار وزیراعلیٰ بنائے گئے۔ جو بلوچ قبیلہ بزدار کے سردار ہیں۔ ڈیرہ غازی خان بلوچستان سے متصل ضلع ہے، جہاں بلوچ اقوام کے لوگ سکونت رکھتے ہیں۔ اس بنا عثمان بزدار یقینا بلوچستان سے واقفیت رکھتے ہوں گے۔ لامحالہ نسلی ارتباط کی بنا بلوچستان سے انسیت و محبت بھی ہوگی بلکہ ان احساسات کا انہوں نے بلوچستان کے دورے کے دوران عوامی اجتماعات سے خطاب میں بھی کیا۔

عثمان بزدار 16جولائی کو بلوچستان کے دورے پر آئے۔ لورالائی، پشین، سیاحتی مقام زیارت اسی طرح کوئٹہ بھی آمد ہوئی۔ ان مواقع پر گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال، صوبائی وزراء، سیاسی و قبائلی عمائدین سے ملاقاتیں کیں۔ زیارت دورے کے موقع پر البتہ وہاں کے عوام سیر و تفریح کے لیے جانے والوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک دن پہلے زیارت بازار سیکیورٹی انتظامات کے پیش نظر سیل کردیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب زیارت میں واقع قائداعظم ریذیڈنسی گئے۔ گویا ان کی واپسی کی بعد ہی شہر کھل گیا۔ جون 2013ء میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے شرپسندوں نے قائداعظم ریذیڈنسی تباہ کی۔ تو اس کے بعد زیارت میں فرنٹیئر کور تعینات کردی گئی۔ ریذیڈنسی کا مکمل کنٹرول اب ان کے ہاتھ میں ہے۔ یعنی اس وقت ریذیڈنسی پر سول انتظامیہ کا کنٹرول محض نام کی حد تک ہے۔ 23مارچ اور 14اگست کے ایام کے موقع پر ریذیڈنسی میں تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔ یوں سیکورٹی کے تحت ان مواقع پر بھی شہر بند کرادیا جاتا ہے۔ تا وقتیکہ پروگرامات ختم اور عسکری و سول حکام چلے نہ جائیں۔ زیارت کے اندر مختلف تفریحی پوائنٹس پر بھی شہریوں اورسیر وسیاحت کے لیے آنے والوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ زیارت کی عوام بالخصوص اس رویے پر خفگی کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جون، جولائی اور اگست ہی ان کے کاروبار کا سیزن ہے۔ جس کے بعد موسم سرد ہوجاتا ہے اور سیاح نہیں آتے۔ ان مشکلات کا سامنا صوبے کے مختلف تفریحی مقامات پر عوام کو کرنا پڑرہا ہے۔

کوئٹہ کے تفریحی مقام ہنہ جھیل کا غالب حصہ سول انتظام و انصرام میں نہیں رہا۔ ولی تنگی کا سیاحتی مقام بہت پہلے ہی شہریوں کے لیے عام نہیں رہا۔ وہاں تک رسائی کے لیے خصوصی اجازت لینا پڑتی ہے۔ حال ہی میں بولان کے اندر سیرگاہ ’پیر غائب‘ کا کنٹرول بھی ایف سی نے سنبھال لیا ہے۔ یہاں ایف سی سبی اسکاﺅٹس نے تزئین و آرائش اور سہولیات کے لیے صوبائی حکومت کو پی سی ون دیا جسے منظور کرتے ہوئے کروڑوں روپے جاری کئے جا چکے ہیں۔ وہاں تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ جب بھی سرکاری حکام یا ان کی فیملز تفریح کے لیے جاتے ہیں، تو عام شہریوں کا جانا بند کردیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ حکومتوں، سول اداروں اور محکموں کی نا لائقی، غبن اور ہیرا پھیری کا نتیجہ ہے۔ یہ اہل ہوتے تو کوئی اور کیوں یہ ذمے داریاں ہاتھ میں لیتا۔

بہر کیف وزیراعلیٰ پنجاب نے گوادر اور زیارت میں پنجاب ہاﺅس تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پنجاب اور بلوچستان مل کر وفاق سے اپنی محرومیوں کا خاتمہ کرائیں گے۔ سردار بزدار نے تربت میں پنجاب حکومت کی جانب سے سو بستروں پر مشتمل اسپتال کی تعمیر کے لیے 75کرو ڑ روپے اور پاک ایران سرحدی شہر تفتان میں زائرین کے لئے کمپلیکس کی تعمیر کے لیے 25کرو ڑ روپے کا چیک حکومت بلوچستان کے حوالے کردیا۔ یہ بھی کہا کہ پنجاب حکومت نے تفتان میں زائرین کے لیے کمیونٹی سینٹر کے قیام کے لیے ایک ارب روپے کی گرانٹ منظور کرلی ہے۔

واضح ہوں کہ 2008ء کے عام انتخابات کے بعد پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے کوئٹہ میں پنجاب حکومت کی جانب سے امراض قلب کے اسپتال کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ تب بلوچستان حکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی بعدازاں اسپتال کے لیے شہر کے اندر زمین مختص کی گئی لیکن اندریں کشمکش شروع ہوئی آخر کار اسپتال کا منصوبہ کوئٹہ چھاﺅنی کی حدود میں منتقل کردیا گیا۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر یہ اسپتال تعمیر ہوتا ہے تو اس کے ثمرات سے کوئٹہ کے عوام فی الواقعی مستفید نہ ہوسکیں گے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزردار نے کرونا وبا سے نمٹنے کے لیے اوائل میں بلوچستان کے لیے ایک ارب روپے جاری کئے۔ پنجاب کی جامعات اور کالجوں میں بلوچستان کے طلبہ و طالبات کے لیے نشستوں میں اضافہ کی یقین دہانی بھی کرائی۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی یہ کاوش اور خلوص بلوچستان کے عوام فراموش نہیں کریں گے۔

.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں