Home » سانحہ کرول رنگ روڈ پر موٹروے! الجھاؤ کیوں؟

سانحہ کرول رنگ روڈ پر موٹروے! الجھاؤ کیوں؟

by ONENEWS

سانحہ کرول، رنگ روڈ پر موٹروے! الجھاؤ کیوں؟

جاوید مخفی ہمارے ہمسائے اور سیر صبح کے ساتھی ہیں، انتہائی نفیس ذوق کے مالک شاعر ہیں اور ادب میں بھی حصہ ڈال ہی لیتے ہیں۔یہ قریباً تین ہفتے پہلے کا واقع ہے کہ ان کے داماد جو کرکٹ کنٹرول بورڈ سے وابستہ ہیں، ٹیم کے ساتھ ملک سے باہر تھے، ان کی صاحبزادی ان سے ملنے آئی ہوئی تھی، ایک روز(اتوار) وہ والد کی گاڑی لے کر مصطفےٰ ٹاؤن سے اقبال ٹاؤن گئیں، ان کے ساتھ ان کی بچی تھی، واپسی میں وہ مہران بلاک کی طرف سے آ رہی تھیں کہ عام چلتی سڑک پر ان کی گاڑی کے سامنے ایک موٹر سائیکل کی بریک لگی، اس پر ایک نوجوان کے ساتھ لڑکی بیٹھی ہوئی تھی، مخفی صاحب کی صاحبزادی نے حادثے سے بچانے کے لئے ہنگامی بریک لگا کر کار روکی ابھی وہ استفسار ہی کرنا چاہ رہی تھیں کہ وہ نوجوان اور لڑکی دونوں ان کی طرف لپکے اور موزر نکال کر تان لیا، لڑکی نے بچی کی طرف بھی اشارہ کی، خاتون نے گھبرا کر بچی کو اپنے بازوؤں میں لے لیا، اس راہزن لڑکے نے پرس، موبائل اور پہنے ہوئے زیور اتروا لئے اور وہ دونوں موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے،لٹنے والی خاتون پر سکتہ طاری تھا اسے ذرا ہوش آیا تو شور مچایا،جس پر اردگرد کے گھروں سے لوگ آ گئے اور خواتین نے بچی اور خاتون کو اُتار کو گھر میں بٹھایا اور 15 (ایمرجنسی) پر کال کی، کچھ دیر بعد جب پولیس کی گاڑی آئی تو خاتون سے سوالات شروع کر دیئے گئے، وہاں موجود حضرات نے مشکل سے خاتون کی گلو خلاصی کرائی۔

ایمرجنسی کال کی وجہ سے ڈی ایس پی بھی آ گئے تھے۔ بالآخر جاوید مخفی کے آنے پر یہ طے ہوا کہ اقبال ٹاؤن تھانے میں رپورٹ لکھانے آئیں، پہلے روز کچھ نہ ہوا، جب مخفی صاحب نے اصرار کیا تو ڈی ایس پی صاحب نے ہدایت کر کے جان چھڑائی، ایف آئی آر درج کر لیں۔یہ سلسلہ اگلے روز پر چلا گیا، جب جاوید مخفی رپورٹ لکھوانے گئے تو محترم محرر صاحب نے ان کو سمجھانے میں پچیس منٹ لگائے کہ ایف آئی آر لکھوا کر کیا کریں گے، چھوڑیں جی! بچی کو گاڑی روکنا ہی نہیں چاہئے تھی، میرا 30 سال کا تجربہ ہے رپورٹ سے کچھ نہیں بنتا، مخفی بضد رہے تو ایف آئی آر درج ہوئی، اس کے بعد ان کی حالت دیدنی تھی کہ انوسٹی گیشن والے صاحبزادی اور ان کو تھانے آنے کے لئے کہتے۔ یہ سب وہ ہوا جو سبھی جانتے ہیں، اب مدعی خاموش اور تفتیش رُک چکی کہ ملزم کوئی نئے پڑھے لکھے ہیں۔

میں نے یہ واقع آج اِس لئے لکھا ہے کہ رنگ روڈ، موٹروے حادثے کے حوالے سے بھی ڈائریکٹ حوالدار یاد آ گئے جب نئے سی سی پی او محترم عمر شیخ صاحب نے شامی صاحب کے پروگرام نقطہ نظر میں ریماکس دیئے،اکیلی خاتون کو موٹروے پرجانا ہی نہیں چاہئے تھا، اور اسے چلنے سے قبل پٹرول چیک کر لینا چاہئے تھا، ان کے اس بیان پر جب اعتراض اٹھے تو ان کی صفائی کے لئے وزیراعظم کے معاون ٹو اِن ون بیرسٹر شہزاد اکبر میدان میں آئے وہ نہ صرف احتساب بلکہ داخلہ کے بھی معاونِ خصوصی ہیں اور اب انہی کو سب کچھ جانئے،وہ کہتے ہیں کہ سی سی پی او نے معذرت کر لی ہے۔ اگرچہ سی سی پی او کی طرف سے خود کچھ وضاحت نہیں کی گئی، لیکن ہم محترم شہزاد اکبر کی بات تسلیم کر لیتے ہیں، کہ ایسا ہوا ہو گا، لیکن جو تاثر اُن کے ان ریمارکس سے ہم نے لیا وہ یہی، جو اقبال ٹاؤن تھانہ کے محرر کا تھا کہ خاتون کو گاڑی روکنا نہیں چاہئے تھی اور موٹر سائیکل سواروں کو کچل دینا چاہئے تھا،جیسے خاتون کو موٹر سائیکل سامنے آتے ہی الہام ہو گیا کہ یہ راہزن ہیں اور ان کو کچل دینا چاہئے اور بعد میں خود مقدمے بھگتنا چاہئیں، ایسا ہی کچھ متاثرہ(رنگ روڈ، موٹروے) والی خاتون کو بھی پہلے سے علم ہو جانا چاہئے تھا کہ وہ عوام کی سہولت کے لئے بنایا گیا آسان راستہ اختیار کرنے کی بجائے جی ٹی روڈ سے جائیں جو ٹریفک سے بھرپور ہوتی ہے اور پھر اس پر بھی تو وارداتیں ہوتی ہیں۔

ہم نے اپنے ایک کالم میں اصغر خان(ہلاکو خان) کا حوالہ دینے پر عرض کیا تھا کہ محترم کی تعیناتی ان کی سخت گیری کی وجہ سے ہوئی ہے کہ یہ ”سیاسی بونے“ بہت تنگ کرنے لگے ہیں۔انہوں نے ایک ہی فقرے میں بتا دیا کہ وہ فریاد سننے نہیں، اعتراض کرنے اور عوام کو ہی تنگ کرنے کے لئے تشریف لائے ہیں۔ آگے اللہ خیر کرے گا، اس حوالے سے ہمیں یہ بھی یاد آیا کہ ایک دور میں ایسا سانحہ بالکل گول کر دیا جاتا اور اگر کوئی ہمت کر کے مقدمہ درج بھی کرا لیتا تو عدالت میں مستغیثہ کی شہادت والے روز ملزموں کے وکیل کی جرح اسے عدالت سے بھاگنے پر مجبور کر دیتی تھی، اب کافی فرق ہے اور مقدمات درج ہو جاتے ہیں، لیکن بافی صورتِ حال تبدیل نہیں ہوئی اور سب کچھ ویسا ہی ہے۔اس لئے میں مشکوک ہوں کہ اس مظلوم خاتون کے ساتھ ہونے والی سنگین واردات نے جس طرح لوگوں کو تڑپایا ہے اور شہری اللہ سے فریاد کر رہے ہیں تو بڑی ذات یقینا سنے گی تاہم پولیس سے توقع عبث ہی ہے۔

بات طویل ہو گئی،یہ بتا کر ختم کرتا ہوں کہ ایک پورا دن مَیں خود کنفیوژ رہا کہ میڈیا میں وقوعہ کے مقام کی وضاحت نہیں تھی۔ اصل میں رنگ روڈ سے ایک بائی پاس بنایا گیا ہے جو سیالکوٹ، لاہور موٹروے کا حصہ ہے، یہ محمود بوٹی سے قبل کرول گاؤں (گھاٹی) سے انٹرچینج کے ذریعے راستہ بنا ہے۔ اب گوجرانوالہ جانے والے جو ڈیفنس کی طرف سے آتے ہیں، وہ یہاں سے بائی پاس کے ذریعے اگلے انٹر چینج تک جاتے ہیں، جو جی ٹی روڈ سے ملتا ہے، جیسے لاہور بائی پاس(موٹروے) کالا شاہ کاکو تک آ جاتا ہے، اب لوگ یہ صاف ستھرا راستہ اختیار نہ کریں تو پھر کیا کریں؟ اس کا مقصد کیا ہے اب یہ حکومت کا کام ہے، وہ دیکھے کہ افتتاح ہوئے چھ ماہ ہو گئے تو یہ موٹروے، موٹروے اتھارٹی کو کیوں منتقل نہیں ہوئی اور یہاں حفاظتی انتظامات کیوں نہ ہوئے کہ یہ وقوعہ رنگ روڈ سے سیالکوٹ۔ لاہور موٹروے بائی پاس پر ہوا، جو گوجر پورہ پولیس کی حدود ہیں۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment