Home » سانحہ مچھ: مذاکرات کامیاب، شہداء کی تدفین کافیصلہ، دھرناختم کرنیکااعلان

سانحہ مچھ: مذاکرات کامیاب، شہداء کی تدفین کافیصلہ، دھرناختم کرنیکااعلان

by ONENEWS

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے، شہداء کی تدفین اور دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ دھرنا منتظمین کا کہنا ہے کہ تمام مطالبات مان لئے گئے، اتفاق رائے سے تحریری معاہدہ ہوگیا۔ علی زیدی نے بتایا کہ صوبائی حکومت شہداء کے شرعی وارث کو نوکری دیگی، کے پی ٹی شہداء کے بچوں کو اسکالر شپ دیگا۔ وزیراعلیٰ جام کمال خان نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ جلد کوئٹہ آئیں گے۔

بلوچستان کے علاقے مچھ میں اتوار 3 جنوری کو داعش کے مسلح دہشت گردوں کے ہاتھوں 10 کان کنوں کو قتل کردیا گیا تھا، تمام مقتولین کا تعلق ہزارہ برادری سے تھا۔ واقعے کے بعد ہزارہ برادری نے میتوں کے ہمراہ کوئٹہ کی مغربی بائی پاس پر دھرنا دے دیا تھا۔

حکومت کی جانب سے بیشتر مطالبات کی منظوری کے باوجود شہداء کمیٹی نے مقتولین کی تدفین سے انکار کردیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے آنے تک شہداء کی تدفین نہیں کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جمال کمال خان آج (جمعہ کو) ایک بار پھر دھرنا منتظمین اور شہداء کے لواحقین سے مذاکرات کیلئے مغربی بائی پاس پہنچے، ان کے ہمراہ وفاقی وزیر علی زیدی اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری بھی ان کے ہمراہ تھے۔

دھرنا منتظمین نے وفاقی وزراء اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اتفاق رائے سے فیصلہ ہوگیا ہے، ہمارے تمام مطالبات مان لیے گئے، وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، وفاقی وزراء اور مقامی انتظامیہ کے ممنون و مشکور ہیں، مذاکرات میں طے ہونیوالے تمام معاملات کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوگیا ہے، شہداء کی تدفین صبح 10 بجے کی جائے گی۔

علی زیدی نے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ برادری سمیت پاکستان کی تمام برادریوں کے ساتھ ہونیوالا ظلم ختم ہونا چاہئے، ہمیں ایک دوسرے کو اپنا سمجھنا ہوگا۔

اگر اس ملک میں گورننس صحیح ہوتی تو غربت نہ ہوتی، یہ ملک بہت طاقتور ملک ہے، اللہ نے اس ملک میں ہمیں سب کچھ دیا ہے، صرف اچھی گورننس نہیں ملی۔

تفصیلات پڑھیں: پہلے سانحہ مچھ کےشہداکی تدفین کریں،پھر کوئٹہ آؤں گا،عمران خان

وہ کہتے ہیں کہ اگر اس ملک میں گورننس صحیح ہوتی تو غربت نہ ہوتی، یہ ملک بہت طاقتور ملک ہے، اللہ نے اس ملک میں ہمیں سب کچھ دیا ہے، صرف اچھی گورننس نہیں ملی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جب گورننس ٹھیک کرنے جاتے ہیں تو بڑی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بلوچستان میں اتنی طاقت ہے کہ پاکستان کے مسائل وہ اکیلا ختم کرسکتا ہے، لیکن یہاں کے لوگ سب سے زیادہ پیچھے رہ گئے۔

علی زیدی کا کہنا ہے کہ بہت سے مسائل کا سامنا ہے لیکن ہمیں ناامید نہیں ہونا چاہئے، مل کر ان سب کا مقابلہ کریں گے، آج تک کسی حکومت نے آپ کے ساتھ تحریری معاہدہ نہیں کیا، سب وعدے کرکے چلے گئے، شہداء کمیٹی نے جو بھی مطالبات رکھے، وہ پورے کردیئے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ افسران کو ذمہ دار قرار دیکر کارروائی شروع کردی گئی، جے آئی ٹی تشکیل دیدی، اعلیٰ سطح کا تحقیقاتی کمیشن بنارہے ہیں، جس میں وزیر داخلہ ضیاء لانگو سربراہ ہوں گے، بلوچستان اسمبلی کے 2 ممبران، 2 سینئر افسران، ڈی آئی جی رینک کا پولیس افسر، شہداء کمیٹی کے اراکین بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے، جو ہر ماہ ایک بار ضروری ملے گی اور تحقیقات سے متعلق جو بھی پیشرفت ہوگی وہ مانیٹر کریں گے، تمام فیصلے مشاورت سے ہوں گے۔

وفاقی وزیر نے وزارت پورٹ اینڈ شپنگ شہداء کے بچوں کو اسکالر شپ دینے کا اعلان کردیا، ان کا کہنا ہے کہ شہداء کے شرعی وارث کو سرکاری ملازمت بھی دی جائے گی، ہزار برادری کے پاسپورٹ کے مسائل بھی حل کرنے کیلئے کمیٹی بنادی ہے۔

علی زیدی نے مزید کہا کہ سیکیورٹی پلان کا ہر ماہ جائزہ لیا جائے گا، وفاق اور صوبہ ملکر قیام امن کیلئے اسٹریٹجی پلان تیار کریں گے، مانیٹرنگ ٹھیک ہوتی ہے تو واردات سے پہلے ملزمان پکڑے جاتے ہیں، وزیراعظم 4، 5 ماہ سے کہہ رہے ہیں بیرونی طاقتیں فسادات کروانا چاہتی ہیں، وزیراعظم عمران خان کے پاس ہم سے زیادہ اطلاعات ہوتی ہیں، کوآرڈینیشن ٹھیک ہوجائے تو بہت ساری وارداتیں روکی جاسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محنت کشوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، عمران خان نے دھرنے والوں کیخلاف کوئی بات نہیں کی، ان کی بات کو غلط رنگ دیا گیا، وعدہ کرتے ہیں کہ ذمہ داروں کو ہر گز نہیں چھوڑیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ڈی ایم لاشوں پر سیاست کررہی ہے، شبلی فراز

انہوں نے کہا کہ جہاں انصاف نہ ہوں اور ظلم بڑھے، ایسے نظام میں برکت نہیں آتی، پوری کوشش ہے کہ بلوچستان سے احساس محرومی کو ختم کریں، ایسے فیصلے کرنا ہوں گے جس سے قوم کے حالات تبدیل ہوں، ہم یہ نہیں کہہ سکے کہ بلوچستان میں سب کچھ ٹھیک کردیا، یہ شہر پورے بلوچستان کا ہے، آپ کا اور یہاں رہنے والے تمام لوگوں کا ہے، اس کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں ایسے واقعات سے سبق حاصل کرنا چاہئے، بغیر دھرنے اور احتجاج کے عوامی فلاح کے کام ہونے چاہئیں، ہم آہستہ آہستہ بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

مزید جانیے: عمران خان لاشوں کے ساتھ ضد لگا بیٹھے ہیں،مریم نواز  

جام کمال خان نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر لوگ بھی کوئٹہ آئیں گے، تمام سیاسی لوگوں سے درخواست ہے کہ قوم کے مسائل کے حل کیلئے ایسے سانحات کا انتظار نہیں کرنا چاہئے، عام حالات میں بھی کوئٹہ آنا چاہئے، ان کے مسائل سننے چاہئیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ آپ لوگوں کو پیش آنے والی مشکلات پر اپنی اور صوبائی حکومت کی طرف سے معذرت کرتا ہوں، یقیناً آپ کا غم سب سے زیادہ ہے، ہمیں بھی ان واقعات پر بہت دکھ ہے، ایسے واقعات پر یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔

قاسم سوری کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت پورے ملک میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا، جیسے ہی شہداء کی تدفین مکمل ہوگی وزیراعظم عمران خان کوئٹہ پہنچ جائیں گے۔

You may also like

Leave a Comment