Home » سانحہ بلدیہ ٹاؤن،فیکٹری میں متحدہ کارکنان کااثربڑھانےکاتاثرتھا،مالک کابیان

سانحہ بلدیہ ٹاؤن،فیکٹری میں متحدہ کارکنان کااثربڑھانےکاتاثرتھا،مالک کابیان

by ONENEWS

سانحہ بلديہ کيس فيکٹری مالک کی جانب سےانسدادِ دہشت گردی عدالت کو ويڈيو لنک کے ذريعے ريکارڈ کرائے گئے بيان کی کاپی سماء نے حاصل کرلی ہے۔

سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس کی جےآئی ٹی میں بتایا گیا ہے کہ علی انٹرپرائزکےمالک نےجج کےسامنےبھی سانحہ بلدیہ سے متعلق مزید انکشافات کیے ہیں۔

فیکٹری کےمالک ارشدبھائلہ نےدبئی سےویڈیولنک کےذریعےاپنابیان ریکارڈ کرادیا تھا۔بیان میں بتایا گیا کہ زبیرچریا نے فیکٹری میں ایم کیو ایم کا اثر رسوخ بڑھا دیا تھا، تاثرقائم ہوگیا تھا کہ فیکٹری کو ایم کیو ایم کارکنان کنٹرول کرتے ہیں، ایم کیو ایم کارکنوں کا فیکٹری میں بلاروک ٹوک آنا جانا تھا،ایم کیوایم کادہشت گرد وسیم دہلوی اپنی مرضی سے فیکٹری میں آتا جاتا تھا،منصور اور زبیر چریا وسیم دہلوی کے سارے مطالبات پورے کرتے تھے۔ فیکٹری مالک نے بتایا کہ بلديہ سيکٹرکی مالی سپورٹ کيلئےفيکٹری سےلاکھوں کا ويسٹيج لےجاياجاتاتھا،فریال بیگ نامی شخص فیکٹری کا لاکھوں روپے کا ویسٹیج لے جاتا تھا۔اس کے علاوہ منصور نے بلدیہ سیکٹر کو ماہانہ 25 لاکھ روپے بھتہ دینے پرفیکٹری مالکان کو راضی کیا تھا۔

فیکٹری مالک نے یہ بھی بتایا کہ ضمنی الیکشن سمیت دیگر پروگرام کیلئے بھی رقم دیتے تھے،2013 میں زبردستی ذکوۃ کی 2 لاکھ روپے کی پرچی بھی دی گئی،جون 2012 میں ماجد بیگ نے کروڑوں روپے بھتے کا مطالبہ کیا،بعد میں ماجد بیگ کی جگہ رحمان بھولا کو سیکٹر انچارج بنادیا گیا۔ فیکٹری مالک نے مزید بیان دیا ہے کہ رحمان بھولا نے  روک کر کہا تھا پیسے کا معاملہ بھائی سے طے کرو، پوچھنے پر بتایا کہ بھائی حماد صدیقی ہیں اور وہ ایم کیوایم کی تنظیمی کمیٹی کےانچارج ہیں،حماد صدیقی نے 25 کروڑ روپے اور فیکٹری میں شراکت کا مطالبہ کیا ہے۔

بیان میں یہ بھی ذکر ہوا کہ گیارہ ستمبر کو بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آگ سب سے پہلے گودام میں لگی اور تیزی سے پھیل گئی، فیکٹری مالک نے بتایا کہ آگ کی پھیلنے کی رفتار سے اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ آگ لگائی گئی ہے،مسلسل رابطے کے باوجود فائر بریگیڈ نہیں پہنچی جس کے بعد اکاؤنٹس افسر مجید خود گیا اور فائر بریگیڈ لے کر آیا،اس وقت تک ڈیڑھ گھنٹہ گزر چکا تھا۔

بیان میں ذکر ہے کہ ایم کیو ایم نے دباؤ ڈالا کہ بھتے کے معاملات کا کسی سےذکر نہ کریں،اس سانحہ کے بعد ایم کیو ایم کی طرف سے مسلسل دباؤ اور دھمکیاں ملتی رہیں،تحقیقاتی کمیشن کوفرانزک کیلئےاخراجات برداشت کرنےکی بھی پیشکش کی۔

فیکٹری مالک نے انکشاف کیا کہ ایم کیوایم کارکنوں نے ان کو جاں بحق افرادکی اجتماعی نمازجنازہ سےدھکےدےکرنکالا،ایم کیو ایم کے دباؤ پرپولیس نے رپورٹ میں لکھا کہ فیکٹری کے دروازے بند تھے،تحقیقاتی کمیشن اور ایف آئی اے رپورٹ میں واضح ہے کہ دروازے کھلے تھے، ایم کیو ایم کارکنوں نے فیکٹری پر قبضہ کرکے بچنے والی قیمتی اشیا بھی ہتھیا لی ۔

بیان میں یہ بھی درج ہے کہ انیس قائم خانی یا ان کے اہل خانہ سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی، متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی کیلئے 5 کروڑ98 لاکھ روپے انیس قائم خانی کے نام پر وصول کیے گیے، انیس قائم خانی سے رقم کی ادائیگی کی تصدیق نہیں کی تھی، منیجرمنصور نے زبیر چریا کو فنشنگ ڈپارٹمنٹ کا انچارج بنایا، منصور، زبیر اور سیکٹر انچارج کے بھائی ماجد بیگ میں گہری دوستی تھی، تینوں نے ایک ساتھ دبئی کا دورہ بھی کیا، منصور نے ماجد بیگ کو فیکٹری کے ذریعے کار بھی دلوائی۔

Baldia town case,2012 Pakistan factory fire,baldia factory case,baldia factory fire,saneha baldia town fire,Karachi factory fire, fire incident Karachi, baldia town factory fire cctv

You may also like

Leave a Comment