Home » سانحہ ء مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں کا انجام! (2)

سانحہ ء مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں کا انجام! (2)

by ONENEWS

سانحہ ء مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں کا انجام! (2)

پاکستان 1947ء میں اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آنے والی دوسری مملکت تھی جسے بجا طور پر مملکتِ خداداد کا نام دیا جاتا تھا۔ (پہلی ریاستِ مدینہ تھی) لیکن جونہی اس کے قیام کا اعلان ہوا، کفرستانِ ہند نے اکھنڈ بھارت کا راگ الاپنا شروع کر دیا۔ میں 1947ء سے اب تک کی تاریخ دہرانا نہیں چاہتا لیکن 1947-48ء کی پہلی پاک بھارت جنگ جب 31دسمبر 1948ء کو ختم ہوئی تو کفارِ ہند نے 1400 برس پہلے کی طرح اسے صفحہء ہستی سے مٹانے کا عزم کر لیا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ درحقیقت برصغیر کے بتکدے میں کفر و اسلام کی پہلی جنگ تھی جس میں پاکستان کا پلڑا بھاری رہا۔ عالمی طاغوتی قوتوں نے انڈیاکا ساتھ دیا۔ سازشوں کے جال بچھنے شروع ہو گئے۔ جلد ہی 1971ء کی جنگ کی تیاریوں کا آغاز ہو گیا۔ اور 16دسمبر 1971ء کو پاکستان کا مشرقی بازو کٹ کر بنگلہ دیش بن گیا۔ جیسا کہ سطور بالا میں عرض کر چکا ہوں یہ جنگ کفر و اسلام کے درمیان ایک لینڈ مارک جنگ تھی جس کے تین فریق تھے…… انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش۔…… ان تینوں نے مل کر سازشیں کیں، پھر کمیشن بیٹھے اور بٹھائے گئے۔ آج اس جنگ کو نصف صدی گزر چکی ہے اور میرے سامنے ان تینوں فریقوں کے ذمہ داروں کا دردناک انجام پھیل رہا ہے…… آیئے نہائت مختصر الفاظ میں ان کا ذکر کرتے ہیں …… سب سے پہلے انڈیا کو لیتے ہیں۔

1971ء میں اندرا گاندھی انڈیا کی وزیراعظم تھی۔ اسی نے سازش کرکے مکتی باہنی بنائی اور مشرقی پاکستانی عوام کو پاکستان کے خلاف اکسایا۔25مارچ 1971ء کو جب پاکستان نے مشرقی پاکستان میں آرمی ایکشن لانچ کیا تو اندرا نے اپنے آرمی چیف کو بلا کر فی الفور حملہ کرنے کا حکم دیا۔ جنرل مانک شا نے انکار کر دیا لیکن یہ بھی کہا کہ اسے وقت دیا جائے تو پاکستان کی شکست کی ضمانت دیتا ہوں۔ وقت دے دیا گیا۔ نومبر1971ء میں حملہ کیا گیا اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دیا گیا۔ لیکن ذرا یہ دیکھئے کہ اندرا کا انجام کیا ہوا……

1975ء میں انڈیا میں الیکشن ہوئے جن میں اندرا کو شکست ہو گئی۔ بنگلہ دیش بنانے والی وزیراعظم کو صرف چار سال بعد شکست کیوں ہوئی، اس کا جواب مختلف لوگ مختلف دیں گے لیکن میرے نزدیک یہ ’عدلِ ایزدی‘ تھا……

پھر 23جون 1980ء کو اندرا کا چھوٹا بیٹا اور سیاسی جانشین سنجے گاندھی دہلی کے صفدر  جنگ ائرپورٹ پر ایک ہوائی حادثے میں شدید زخمی ہوا اور ہلاک ہو گیا…… اندرا خود 31 اکتوبر 1984ء کو اپنی رہائش گاہ میں قتل کر دی گئی۔ قاتل اس کے اپنے باڈی گارڈز (ستونت سنگھ اور بینت سنگھ) تھے۔جون 1984ء میں اندرا نے ’آپریشن بلوسٹار‘ میں امرتسر کے گولڈن ٹمپل (دربار صاحب) پر حملہ کروایا اور سکھوں نے اندرا کو قتل کرکے انتقام لے لیا…… اب اس کے دوسرے بیٹے راجیو گاندھی کی باری تھی……اس کو بھی 21مئی 1991ء میں مدراس (موجودہ چنائی) کے نزدیک ایک خودکش بمبار نے ہلاک کر دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ جس خاندان نے 1971ء میں بنگلہ دیش بنایا تھا وہ صرف 20برسوں کے اندر اندر 1991ء میں صفحہء ہستی سے مٹ گیا۔ ہندوستانیوں نے پھر بھی نہرو خاندان کی غلامی نہ چھوڑی۔ کانگریس کو مودی نے آکر عبرت ناک شکست دی۔ اندرا کی بہو اور اس کا بیٹا اب در درکی ٹھوکریں کھاتے نظر آتے ہیں۔

سانحہ مشرقی پاکستان کے دوسرے ذمہ دار اپنے ذوالفقار علی بھٹو اور فوج کے چند جرنیل تھے…… پہلے بھٹو صاحب کا ذکر کرتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی بنائی اور مغربی پاکستان میں اکثریتی نشستیں حاصل کیں۔ دوسری طرف مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن نے اکثریت حاصل کی۔ قومی اسمبلی میں مجیب کی اکثریت تھی، جسے بھٹو نے تسلیم نہ کیا اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنا گوارا نہ کیا۔ اور ڈھاکہ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر 15دسمبر 1971ء کو بطور وزیرخارجہ پولینڈ کی طرف سے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد کو جذباتی اندازمیں پھاڑ کر پھینک دیا۔

قارئین ذرا اس پہلو پر بھی غور کریں کہ بھٹو صاحب 7دسمبر کو پاکستان سے امریکہ کے لئے (براستہ قاہرہ) روانہ ہوئے۔ان ایام میں مشرقی پاکستان میں انڈین آرمی کو کامیابیاں حاصل ہو رہی تھیں۔ وہاں ہماری کوئی بحریہ اور فضائیہ نہ تھی۔ صرف چار انفنٹری ڈویژن تھے جن کے خلاف انڈیا کی چار کوریں (12ڈویژن) صف بند تھے اور پاکستان آرمی کی شکست نوشتہ ء دیوار نظر آ رہی تھی۔ مغربی پاکستان میں بھی پاک آرمی کوئی ایسا ہدف حاصل نہیں کر پا رہی تھی کہ جس کے بدلے میں مشرقی پاکستان کا کوئی سودا کیا جا سکتا۔ ایسے میں بھٹو صاحب چار روز تک ”محوِ سفر“ رہے اور 11دسمبر کو نیویارک پہنچے۔ وہاں پہنچنے کے بعد بھی 15دسمبر 1971ء تک اپنے ہوٹل میں قیام فرمایا۔ 15دسمبر کو پولینڈ نے سلامتی کونسل میں جو قرارداد پیش کی تھی وہ پاکستان کے لئے جاری حالات میں ایک آبرومندانہ حل کی طرف ایک اہم اقدام خیال کی جارہی تھی۔

ایک اور اہم واقعہ جو اکثر قارئین کی نظروں سے اب تک اوجھل رہا ہے۔ وہ یہ ہے کہ انڈیا نے 16دسمبر 1971ء کے بعد صرف تین ہفتوں میں مشرقی پاکستان کے کونے کونے میں موجود پاکستانی ٹروپس کو اکٹھا کرکے ان کو جنگی قیدیوں کے کیمپوں میں منتقل کر دیا۔ لیکن دوسری طرف اگست 1972ء میں جب مسٹر بھٹو اور اندرا گاندھی کے درمیان جنگی قیدیوں کی واپسی کا فیصلہ ہو گیا اور معاہدے پر دستخط ہو گئے تو پاکستانی قیدیوں کی پاکستان منتقلی میں دو سال لگ گئے۔ یہ تاخیر کیوں کی گئی اور کس کے حکم پر کی گئی؟ اندرا گاندھی اگر تین ہفتوں میں سارے قیدیوں کو مشرقی پاکستان کے سارے علاقوں سے اکٹھا کرکے قیدی کیمپوں میں ڈال سکتی تھی تو انہی قیدیوں کو دو سال تک کس کی ایماء پر انڈیا کے کیمپوں میں رکھا گیا اور پاک فوج کی عالمی رسوائی کا اشتہار بنایا گیا؟…… کیا کسی شکست کے بعد یہ جنگی قیدی بنانے کا واقعہ تاریخ میں پہلے کبھی پیش نہیں آیا تھا؟…… اگر آیا تھا تو پاکستانی جنگی قیدیوں کے ساتھ یہ سلوک کیوں روا رکھا گیا اور پاکستانی وزیراعظم نے اس ’سلوک‘ کو کیوں برداشت کیا؟

اب ذرا یہ بھی دیکھئے کہ ’عدلِ ایزدی‘ کیسے آپریٹ کرتا ہے……

مسٹر بھٹو کو 4اپریل 1979ء کو ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی میں پھانسی دے دی گئی۔ یہ جیل وزیراعظم ہاؤس سے صرف ایک کلومیٹرکے فاصلے پر تھی۔ اور پھانسی کس نے دی؟ یہ پھانسی اس شخص نے دی جس کو بھٹو نے نصف درجن لیفٹیننٹ جرنیلوں کو سپرسیڈ کرکے اپنا آرمی چیف مقرر کیا تھا۔ مسٹر بھٹو اکثر جنرل ضیاء کو مائی منکی (My Monkey) جنرل کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ یہ بھٹو کے غرور و نخوت کے اظہار کا ایک طریقہ تھا۔ بعد میں جنرل ضیاء کا جو انجام ہوا وہ مسٹر بھٹو کو تختہ ء دار پر لٹکانے کا شاخسانہ نہ تھا بلکہ پاکستان کو اسلامی دنیا کی واحد جوہری مملکت بنانے کی وجہ سے تھا…… اور یہ ایک الگ موضوع ہے!

مسٹر بھٹو کا چھوٹا بیٹا شاہ نواز بھٹو 26برس کی عمر میں فرانس کے ایک شہر نائس (Nice) میں پُراسرار حالات میں مردہ پایا گیا۔ اس کی موت کا سبب ابھی تک پردۂ راز میں ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شاہنواز کو اس کی بیوی ریحانہ نے زہر دے دی تھی!…… واللہ اعلم!!

مسٹر بھٹو کا بڑا بیٹا میر مرتضیٰ بھٹو 20ستمبر 1996ء کو اپنے گھر سے چند سو گز کے فاصلے پر پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ اس کی بہن بے نظیر بھٹو اس وقت پاکستان کی وزیراعظم تھیں۔ اس کے دو ماہ بعد مرتضیٰ کو قتل کرنے والا پولیس انسپکٹر بھی مارا گیا۔ لیکن نہ تو میر مرتضیٰ کے قتل پر اور نہ ہی اس پولیس انسپکٹر کے قتل پر کوئی انگلی اٹھی۔ دونوں مقدمات چپکے سے داخل دفتر کر دیئے گئے۔

مسٹر بھٹو کی سب سے بڑی بیٹی بے نظیر بھٹو 27دسمبر 2007ء کو ایک خودکش حملے میں موت کے گھاٹ اتار دی گئیں۔ ان کا ذاتی باڈی گارڈ خالد شہنشاہ جس کو بے نظیر کے شوہر نے مقرر کیا تھا، وہ بھی پُراسرار حالات میں مارا گیا۔ اس کے قتل پر بھی کوئی تفتیش وغیرہ نہ ہوئی۔بہت شور مچایا گیا لیکن حاصل حصول صفر!……

مسٹر بھٹو کی اب ایک بیٹی صنم بھٹو زندہ ہے اور یورپ کے کسی شہر میں تنہائی کی زندگی گزار رہی ہے۔

مسٹر بھٹو کا نواسہ بلاول بھٹو اب پی پی پی کا چیئرمین ہے۔ خدا ان کی عمر دراز کرے۔ لیکن میں یہ سوچتا ہوں کہ سانحہء مشرقی پاکستان کے کلیدی کرداروں کو تو ’عدلِ ایزدی‘ کا نشانہ بننا پڑا۔ اندرا گاندھی اور مسٹر بھٹو دونوں کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ لیکن ان دونوں کی دوسری نسل کا تو کوئی قصور نہ تھا۔ ان کا جو انجام ہوا وہ مقامِ عبرت ہے۔ پاکستان توڑنے کی سزا جن کرداروں کو ملی، ان میں شیخ مجیب الرحمن تیسرا کردار تھا۔ لیکن اس سے پہلے پاکستانی جرنیلوں کا ذکر کرتے ہیں۔(جاری ہے)

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment