Home » سازش کو سمجھیں

سازش کو سمجھیں

by ONENEWS

اسلام آباد میں پولیس کے ہاتھوں ایک نوجوان اسامہ ندیم ستی کی موت کا واقعہ پیش آیا تو واحد حل یہ نکالا گیا کہ آئی جی پولیس اسلام آباد عامر ذوالفقار کو تبدیل کر دیا گیا۔ اب اس پر بھی اعتراض کیا جا رہا ہے کہ اسلام آباد میں ایک نوجوان کی ہلاکت پر آئی جی بدل دیا لیکن مچھ میں گیارہ کان کنوں کے بے دردی سے قتل عام پرکوئی ایکشن نہیں ہوا اور سوائے زبانی جمع خرچ کے حکومت کچھ نہ کر سکی۔یہ عقدہ وقت آنے پر کھلے گا کہ وزیراعظم عمران خان سے کوئٹہ آنے کا مطالبہ کیوں کیا جاتا رہا اور کیوں لاشوں کی تدفین کرنے کی بجائے انہیں سخت سردی کے موسم میں دھرنے کے لئے استعمال کیا گیا مگر ایک بات طے ہے کہ دونوں طرف سے بے لچک رویئے کی وجہ سے ایک اذیت ناک صورتِ حال پیدا ہوئی، جس نے پوری قوم کو افسردہ کئے رکھا۔ وطن عزیز میں یہ کیسی فضا بن چکی ہے کہ ہر واقعہ کے بعد ہمارا خود کار نظام متحرک نہیں ہوتا، اسے جگانے کے لئے احتجاج کرنا پڑتا ہے، دھرنے دیئے جاتے ہیں، اگر اسلام آباد میں قتل ہونے والے نوجوان اسامہ ندیم ستی کے ورثاء سری نگر ہائی وے پر دھرنا نہ دیتے تو شاید یہ واقعہ پولیس مقابلے کا رنگ دے کر دفن کر دیا جاتا۔ انہوں نے لاش سڑک پر رکھ کر دھرنا دیا تو حکومت بھی جاگی اور اس کے وزراء کو بھی نوجوان کے گھر جانا پڑا۔

یہ بے حسی ہمیں کس طرف لے جائے گی اور ہمارے نظام کا مفلوج پن ہمیں اور کیسے کیسے مناظر دکھائے گا۔؟

مچھ میں کان کنوں کو بے دردی سے قتل کرنے کے واقعہ پر بھی حکومت کی طرف سے کوئی فوری ایکشن دیکھنے میں نہیں آیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال بیرون ملک گئے ہوئے تھے اور پیچھے انتظامی و پولیس افسروں میں اتنی بصیرت اور سکت نہیں تھی کہ فوراً ورثا کے پاس دلجوئی اور تعزیت کے لئے پہنچتے، انہیں انصاف فراہم کرنے کا یقین دلاتے۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں دفنانے کا فیصلہ ہو چکا تھا لیکن صوبائی یا وفاقی حکومت کی طرف سے قابل ذکر اور قابل بھروسہ ردعمل اور ایکشن سامنے نہ آنے پر ہزارہ قبیلے کے افراد نے دفنانے کی بجائے لاشیں سڑک پر رکھ کر دھرنا دینے کا فیصلہ کیا اس پر دونوں حکومتوں کو فوری حرکت میں آنا چاہئے تھا، مگر وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ شیخ رشید احمد دونوں ہی بوجہ نہ آ سکے، شیخ رشید احمد تیسرے دن آئے اور جام کمال چوتھے دن دھرنا دینے والوں کے پاس پہنچے۔

اس تاخیر کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئٹہ کے دھرنے کی حمایت میں ملک کے دیگر حصوں میں بھی دھرنے شروع ہو گئے۔کہتے ہیں کہ وقت پر لگایا ہوا ٹانکا بہت سے ٹانکوں سے بچا لیتا ہے مگر یہ بات حکومت کرنے والوں کو دیر ہی سے سمجھ آتی ہے۔ وہ یہ مانتے بھی نہیں کہ انہوں نے معاملے کو سمجھنے میں دیر کر دی ہے مانا کہ حکومت کو اور بھی بہت سے پہلو دیکھنے ہوتے ہیں۔ لاشیں سڑک پر رکھ کر وزیراعظم کو طلب کرنے کی روایت قائم ہو جائے تو یہ بھی نامناسب بات ہے اس طرح تو یہ سلسلہ چل نکلے گا، اصل ضرورت اس نظام کو مؤثر بنانے کی ہے جو عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لئے قائم کیا گیا ہے تاکہ کسی کو یہ شک ہی نہ رہے کہ اگر ملک کا وزیراعظم انہیں دلاسہ دینے نہ آیا تو انہیں تحفظ ملے گا اور نہ انصاف۔

حکومت کو بعض اقدامات عوام کو مطمئن کرنے کے لئے کرنے پڑتے ہیں جیسا کہ اسلام آباد کے آئی جی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ ہے تکنیکی طور پر آئی جی کسی پولیس اہلکار کے انفرادی فعل کو کیسے روک سکتا ہے۔ پھر اس طرح کے فیصلوں سے  تو یہ خرابی بھی جنم لیتی ہے کہ کوئی اچھا اور تگڑے فیصلے کرنے والا پولیس افسر اسی خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ اس کے خلاف کوئی سازش نہ ہو جائے۔ پولیس اہلکار کوئی ایسا کام نہ کریں جو اس کے لئے مصیبت کا باعث بن جائے عامر ذوالفقار کو کیوں ہٹایا گیا، اگر اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ پولیس گردی کا یہ واقعہ کیوں پیش آیا تو یہ غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے، ہاں اس واقعہ کے بعد پولیس نے اس کے حقائق مروڑ کر مقابلے کی کہانی گھڑنے کی جو کوشش کی، اگر اسے آئی جی کی حمایت حاصل تھی تو ان کے خلاف کارروائی درست ہے، کیونکہ ایسی صورتِ حال میں مقتول کے ورثاء کو انصاف مل ہی نہیں سکتا تھا۔ اسلام آباد میں نوجوان کا قتل اور مچھ میں نوجوان کان کنوں کا قتل عام دو علیحدہ واقعات ہی نہیں دو مختلف نوعیت کے جرائم ہیں مچھ کا واقعہ جس انداز سے واقعہ پیش آیا وہ کسی عام تنظیم کے لوگوں کا کام نہیں اس میں لازماً کسی منظم دہشت گرد گروہ کا ہاتھ ہے ظاہر ہے ایسے گروہ کبھی وسائل کی فراہمی کے بغیر ترتیب نہیں پاتے۔

اس سارے عمل کی فنڈنگ کون کر رہا ہے، کون انہیں پناہ دے رہا ہے، واقعہ کے بعد قاتل کہاں روپوش ہو گئے؟ ان تک قانون نافذ کرنے والے ادارے کیوں نہیں پہنچ پا رہے، دہشت گرد مچھ آئے بھی اور چلے بھی گئے کسی کو ان کے آنے اور جانے کی خبر تک نہ ہوئی۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا کرتی ہیں اور بے یقینی بھی، شاید اسی لئے ورثا کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا کہ وزیراعظم عمران خان خود آکر انصاف کی یقین دہانی کرائیں یہ تو نظام کی مکمل ناکامی ہے کہ لوگوں کا اس پر سے اعتبار اٹھ جائے۔مچھ جیسے واقعات گہری سازش کا نتیجہ ہیں، ہزارہ قبیلے کے افراد کو بھی یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے انہیں پاک فوج اور حکومت پر بھروسہ رکھنا چاہئے تاکہ دشمن کے مقاصد پورے نہ ہو سکیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment