0

سادہ لوح دیہاتیوں کا مسئلہ

سادہ لوح دیہاتیوں کا مسئلہ

ایک گاؤں ہے جس کی زمین بہت زیادہ زرخیز ہے اور ہر طرح کی فصل پیدا کرنے کے لیے موذوں ہے۔ اس گاؤں کے ہر طرف لہلاتے کھیت اور خوبصورت درخت ہیں۔ کبھی اس گاؤں کے کھیتوں سے دنیا کے بہترین چاول وافر مقدار میں پیدا ہوتے تھے۔ بہت اچھی گندم اور کماد کی فصل ہوا کرتی تھی۔ اس گاؤں کی کپاس کے بغیر سوت کی دنیا مکمل نہیں ہو سکتی تھی۔ باجرہ مکئی، سورج مکھی، ہر قسم کی دالیں اور تازہ پھلوں کے علاوہ انواع و اقسام کی سبزیاں ملتی تھیں۔

اس گاؤں کو بنانے میں جس قائد نے کردار ادا کیا تھا ان کی ذہانت کی دنیا قائل، لیکن اس قائد کے جاتے ہی کچھ لوگ اس گاؤں میں آن دھمکے اور کہا کہ ہم کاشتکاری کا ہنر جانتے ہیں اگر آپ یہ اپنے کھیت ہمارے حوالے کر دو تو دیکھنا ہم کس طرح ان کھیتوں سے دوگنی پیدوار اگا کر آپ کو دیتے ہیں۔ ان کے ساتھ گاؤں کے بھی کچھ چالاک لوگ شامل ہو گئے اور اپنے گاؤں والوں کو قائل کرنے لگے کہ دیکھو بھئی یہ لوگ زمینداری اور کاشتکاری کے بہت بڑے ماہر ہیں تو کیوں نہ پھر ہم ان سے فائدہ  اٹھائیں؟ گاؤں کے سادہ لوح لوگوں نے ان پر اعتبار کیا اور اپنی زمین ان کے حوالے کر دی، اب ان کاشتکاری کے دعوے داروں نے ان کھیتوں میں فصل کی بجائے درخت لگانے شروع کر دیئے اور وہ بھی پھلدار نہیں بلکہ کانٹوں والے درخت، جب لوگوں نے سوال کیا کہ بھئی آپ نے تو کاشتکاری کا دعوی کیا تھا آپ نے تو ہمارے کھیتوں میں فصلیں اگانا تھیں۔ یہ درخت کیوں لگا رہے ہو؟ اب ہم اناج کہاں سے لیں گے؟ تو ان ہوشیار لوگوں نے جواب دیا کہ بھئی آپ کو کیا پتہ فائدہ کیا ہوتا ہے؟ کچھ انتظار کرو ان درختوں کو کچھ بڑا ہونے دو پھر آپ کے وارے نیارے ہوں گے۔ ہم ان درختوں کی لکڑی بیچ کر آپ کے لیے اناج بھی خریدیں گے اور کچھ پیسہ بچا بھی لیں گے۔ اب دیکھیں نا کہ گندم اور دھان کا تنا کتنا کمزور ہوتا ہے, اسی طرح دوسری تمام فصلوں کے تنے بھی ذرا سا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے جبکہ یہ درخت کتنے مضبوط ہوتے ہیں۔ گاؤں کے سادہ لوح لوگ پھر ان ہوشیار بندوں کی باتوں میں آگئے سوائے چند ایک کہ جو یہ کہہ رہے تھے کہ یہ لوگ فراڈیے ہیں۔

یہ خود کو ماہر کاشتکار کہتے تھے اسی بات پر ہم نے اعتبار کیا اور ان کو کاشتکاری کے لیے اپنی زمینیں دیں لیکن یہ تو درخت لگا رہے ہیں۔ یہ جھوٹے ہیں۔ لیکن جب اکثریت ان کی باتوں میں آگئی تو پھر چند ایک کی کیا حیثیت تھی۔

اب گاؤں کے لوگ بیچارے اپنے بچوں کی روزی کے لیے مارے مارے پھرنے لگے اور دوسرے دیہاتوں کا رخ کرنے لگے، وہاں محنت مزدوری کرتے اور اناج بھی دوسرے دیہات سے خریدنے پر مجبور ہوتے لیکن دل میں آس لگائے بیٹھے رہے کہ آخر یہ درخت بڑے ہوں گے تو ہمارے دن پھر جائیں گے۔ لیکن ان کی امیدیں اس وقت دھرے کی دھری رہ گئیں جب ان ہوشیار لوگوں نے درختوں کے مضبوط ہونے سے پہلے ہی ان کو کاٹ کر بیچنا شروع کر دیا اور پیسے اپنی جیبوں میں، پھر بوریاں بھر کر دوسرے دیہاتوں میں جا چھپے، لیکن ان ہوشیار لوگوں میں سے ایک دو کبھی کبھار کچھ حصہ گاؤں والوں کو بھی دے دیتے اور پھر ہر طرف تشہیر بھی کرتے کہ ہم نے گاؤں کی گلیاں پکی کروا کر تعمیر و ترقی کی ہے۔ گاؤں کے کچھ لوگ بھی ان ہوشیار لوگوں پر گل پاشی کرتے اور ان کے نعرے بھی لگاتے، کچھ عرصہ اس طرح گزرا پھر چند بندوقوں والے اپنے ایک سربراہ کی معیت میں آئے اور پورے گاؤں پر قبضہ کیا اور گاؤں کے لوگوں کو آگاہ کیا کہ یہ ہوشیار اور عیار لوگ آپ کے ساتھ ظلم کر رہے تھے یہ تو لٹیرے ہیں۔ آپ کے اثاثوں کو اپنے اثاثوں میں تبدیل کر رہے تھے۔ اب ہم ان کو بندوق کے زور پر یہاں سے بھگائیں گے اور آپ کی زمینوں میں کاشتکاری ہم کریں گے اور آپ کو خوشحال کریں گے۔ گاؤں والوں نے سکھ کا سانس لیا اور ڈھول بجا کر اس مسلح گروہ کا استقبال کیا۔

اب اس مسلح گروہ نے قابض ہوتے ہی باقی ماندہ درخت بھی کٹوا کر ٹھکانے لگائے اور زمینوں پر اپنی مرضی سے نئی پیداوار شروع کروا دی گاؤں کے لوگوں کی اس وقت حیرت کی حد نہ رہی جب ان کو پتہ چلا کہ یہ بندوقوں والے تو ان ہوشیار لوگوں سے بھی زیادہ ظالم ہیں۔

یہ ہمارے کھیتوں کی کمائی بھی کھا رہے ہیں ساتھ ہمارے حقوق بھی سلب کر گئے ہمیں اپنی مرضی سے چلنے پھرنے بھی نہیں دیتے، اگر کوئی شکایت کریں تو یہ کوڑے مارتے ہیں۔ گاؤں والوں نے دوسرے دیہات میں جا کر رونا شروع کر دیا کہ ہم مارے گئے ہیں۔ پھر کئی دوسرے دیہاتوں کی مداخلت اور مکالمے کے بعد بندوقوں والوں نے اپنی شرائط پر اپنا قبضہ ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی، ان شرائط میں پہلی اور بڑی شرط یہ تھی کہ اب یہ گاؤں والے اپنی زمینیں ایسے ہوشیار لوگوں کے حوالے کریں گے جن کے ساتھ ہماری حمایت ہوگی اور ساتھ یہ شرط بھی رکھی کہ اس گاؤں کی آمدن سے ہمیں ایک معقول حصہ دیا جائے گا۔ پھر ہوشیار لوگوں اور طاقتور لوگوں میں ہمیشہ کے لیے معائدہ طے پا گیا کہ اس گاؤں پر قبضہ ایک فریق کا ہو یا دوسرے کا لیکن اس کی آمدن آپس میں تقسیم ہوگی۔

اب ان ہوشیار اور مسلح گروہوں نے نہ صرف اس گاؤں کے وسائل پر قبضہ جما رکھا ہے بلکہ اس گاؤں کے وسائل دوسرے دیہات میں رہن رکھ کر ان گاؤں والوں کی دیکھ بھال کے نام پر قرضے بھی لے رکھے ہیں۔ جن کی واپسی اسی گاؤں والوں کے ذمے ہے اور انہی کے وسائل سے ہوگی۔ جبکہ ہوشیار اور طاقتور لوگوں نے اس گاؤں سے لوٹ کھسوٹ کر کے دوسرے دیہاتوں میں جائدادیں بنا رکھی ہیں اور کبھی ایک فریق ان دوسرے دیہاتوں میں جا بیٹھتا ہے تو کبھی دوسرا، جبکہ ان کی اولادیں مستقل طور پر دوسرے دیہات کے باشندوں کے طور پر وہاں رہ رہی ہیں۔ وہیں تعلیم حاصل کرتی ہیں اور وہیں کاروبار کر رہی ہیں۔گاؤں والے بہت پریشان ہیں کبھی ایک کی طرف دیکھتے ہیں اسے اپنا مسیحا سمجھتے ہیں تو کبھی دوسری طرف لپک جاتے ہیں۔ لیکن کوئی افاقہ نہیں۔گاؤں والوں کو جس بات کی سمجھ نہیں آرہی  وہ یہ کہ اپنے گاؤں کی زمینوں کو واپس لینے اور اپنے درمیان میں سے کسی اچھے کاشتکار پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں، انہوں نے یہ اخذ کر لیا ہوا ہے کہ اس گاؤں کو چلانا ہوشیار کا کام ہے یا بندوق والوں کا ہم تو گویا صرف مزارعے ہیں۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں