Home » زیادہ تر ڈراموں میں کرداروں کاکوئی مقصد نہیں ہوتا،ہمایوں سعید

زیادہ تر ڈراموں میں کرداروں کاکوئی مقصد نہیں ہوتا،ہمایوں سعید

by ONENEWS

اداکار ہمایوں سعید کا کہنا ہے کہ آج کے رائٹرز ایک سال میں چار چار پانچ پانچ ڈرامے لکھ رہے ہیں جس کے باعث زیادہ تر ڈراموں میں کرداروں کا کوئی مقصد نہیں ہوتا ہے ۔

عالمی اردو کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے اداکار ہمایوں سعید کا کہنا تھا کہ اسکرپٹ ہی سب سے اہم ہوتا ہے میں اور ندیم بیگ دونوں اچھے اسکرپٹ کا انتظار کررہے ہیں اگر میں اور ندیم ابھی کام نہیں کررہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے پاس ڈراموں کے اچھے اسکرپٹ نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میری حال ہی میں خلیل الرحمان قمر، فائزہ افتخار اور عمیرہ احمد سے ملاقات ہوئی، آج کل کے زیادہ تر ڈراموں میں کرداروں کا کوئی مقصد نہیں ہوتا پہلے ڈراموں میں کردار کا ایک مقصد ہوتا تھا جو اب نہیں ہوتا اب زیادہ تر کہانی اور ایونٹس پر زور ہوتا ہے ۔

ہمایوں سعید کا کہنا تھا کہ آج کل کے اسکرپٹ میں جس چیز کی کمی ہے وہ حسینہ معین جیسے سینئر رائڑز کی کمی ہے یہی لوگ کرداروں کے ڈائیلاگ میں گہرائی ڈال سکتے ہیں آج کل 90 فیصد رائٹرز کے ڈائیلاگ میں گہرائی ہی نہیں ہوتی جبکہ ہمارے سینئرز کو اسی لیے وقت لگتا تھا کہ وہ اپنی تحریر پر بہت محنت کرتے تھے ۔

انہوں نے بتایا کہ خلیل الرحمان قمر کی تحریر کردہ ان کی آنے والی فلم لندن نہیں جاؤں گا کی 70 فیصد شوٹنگ مکمل ہوچکی ہے بس لندن میں ہونے والی عکس بندی ہی باقی رہتی ہے تاہم کرونا کے باعث فلمیں رکی ہوئی ہیں لیکن جب بھی سنیما کھلیں گے تو واپس فلم انڈسٹری ترقی کرے گی۔

ہمایوں سعید کے ساتھ اچھی کیمسٹری ہونے پر ہدایتکار ندیم بیگ کا کہنا تھا کہ ایک ڈائریکٹر کو ہمیشہ ایک اداکار اور اداکار کو ایک ڈائریکٹر کی ضرورت ہوتی ہے اس میں بہت اچھا یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کی دوستی ہو، اسی سوال پر ہمایوں کا کہنا تھا کہ جب آپ ایک ساتھ کئی کام کرتے تو آپ کی اچھی کیمسٹری بن جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان دنوں ڈیجیٹل پلٹ فارمز کی وجہ سے آپ کے فلم بینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو لوگ سنیما میں فلم نہیں دیکھ پاتے وہ ڈیجیٹل پلٹ فارمز پر دیکھ لیتے ہیں اور وہ لمبے عرصے تک چلتی رہتی ہے تاہم کچھ فلمیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف سنیما میں دیکھنے میں مزہ آتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت کو یہ آسانی ہے کہ وہ اپنی فلمیں سینما کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل پلٹ فارمز پر بھی ریلیز کرسکتے ہیں اور انہیں وہاں سے اچھی آمدنی بھی ہوتی ہے لیکن بد قسمتی سے ہمیں نیٹ فلکس یا ایمازون پر فلم ریلیز کرنے کیلئے بھارت سے رابطہ کرنا پڑتا ہے جو موجودہ حالات میں بہت مشکل ہے۔

فلم انڈسٹری کو واضح طور پر انڈسٹری کا درجہ دینے کے سوال پر ہمایوں سعید کا کہنا تھا کہ خواہ پچھلی حکومتیں ہوں یا موجودہ حکومت سب نے کوشش کی ہوگی لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا کسی بھی اقدام کی تعریف اس وقت ہوگی جب واقعی اس کا کوئی نتیجہ سامنے آئے۔

ہمایوں سعید نے کہا کہ سن 1996 سے ایک ہلکے پھلکے رومنٹنک کرداروں کو پسند کیا جانے لگا میری کوشش ہوتی تھی کہ میں نیچرل ایکٹنگ پر زور دوں جو کہ وقت کا تقاضہ بھی ہوتا تھا اگر آپ شاہ رخ خان کی 15 سال پرانی ایکٹنگ دیکھیں گے تو آپ کو ہنسی آئے گی لیکن آپ 40 سال پرانی ہالی ووڈ کے کیون کوسلر کی فلم دیکھیں گے تو آپ نہیں ہنسے گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے، جب مجھے پرائیڈ آف پرفارمنس کیلئے نامزد کیا گیا تو بہت سے لوگوں نے کہا کہ یہ تمھیں 5 سال پہلے ملنا چاہیئے تھا تو میں نے ان سے کہا نہیں یہی صحیح وقت ہے کیوں کہ ان گزشتہ چند برسوں کے دوران میں نے کچھ کامیاب پروجیکٹ کیے ہیں۔

انہوں نے اپنے آنے والے پراجیکٹ کے بارے میں بتایا کہ مشہور ترک ڈرامہ ارطغرل کے پروڈیوسر نے میرے ایک دوست کاشف انصاری سے رابطہ کیا کہ وہ ایک ایسی چیز بنارہے ہیں جس کی کہانی پاکستان سے شروع ہوتی ہے تو کاشف انصاری نے اداکار عدنان صدیقی سے رابطہ کیا اور انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا تاہم میں اس پراجیکٹ کے حوالے سے فی الحال مزید کچھ نہیں بتا سکتا۔

.

You may also like

Leave a Comment