Home » زلمے خلیل زاد پاکستان سمیت 5 ملکوں کے دورے پر روانہ

زلمے خلیل زاد پاکستان سمیت 5 ملکوں کے دورے پر روانہ

by ONENEWS

دورہ افغانستان پر لی گئی ایک تصویر

 

افغانستان میں قیام امن کیلئے تعینات امریکا کے خصوصی ایلچی پاکستان سمیت 5 ملکوں کے دورے کے پہلے مرحلے میں ناروے پہنچ گئے، جس کے بعد ان کی اگلی منزل پاکستان ہوگی، وہ آج شام پاکستان پہنچیں گے۔

امریکا کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد انٹرا افغان مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان، قطر سمیت 5 ملکوں کے دورے پر روانہ ہوگئے ہیں۔ جہاں ان کا پہلا پڑاؤ ناروے ہے۔

امريکی محکمہ خارجہ کے مطابق زلمے خلیل زاد امن مذاکرات کی سہولت کاری کے لیے اوسلو کے بعد اسلام آباد، دوحہ، کابل اور صوفیہ بھی جائیں گے۔ افغانستان میں امریکی مندوب قیدیوں کے تبادلے کے معاملے کو آگے بڑھانے پر زور دیں گے۔

زلمے خلیل زاد اسلام آباد میں انٹرا افغان مذاکرات میں پاکستانی تعاون پر بات کریں گے۔ خصوصی مندوب کے دورے کا مقصد کابل حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کو عملی جامعہ پہنانا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دوحہ اور کابل میں خلیل زاد بین الافغان مذاکرات کے آغاز سے قبل درپیش باقی ماندہ مسائل کے حل پر زور دیں گے، خاص طور پر وہ قیدیوں کے حتمی تبادلے اور تشدد کی کارروائیوں میں کمی لانے پر زور دیں گے۔

اسلام آباد پہنچنے پر سفیر زلمے خلیل زاد بین الافغان بات چیت کے معاملے کو بڑھاوا دینے کے سلسلے میں پاکستان کی حمایت کی کوشش کریں گے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ اوسلو اور صوفیہ کے دورے میں وہ افغان امن عمل کے حوالے سے پیش رفت پر نیٹو اتحادیوں کو بریف کریں گے۔

بین الافغان مذاکرات کے بارے میں بیان میں کہا گیا ہے کہ ”تمام فریق بات چیت کا آغاز کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کے بعد اگلا کلیدی قدم افغانستان کی 40 سالہ لڑائی کا خاتمہ لانا ہے”۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”حالانکہ قیدیوں کے تبادلے پر اہم پیش رفت حاصل کی گئی ہے۔ تاہم، معاملے کے مکمل تصفیے کے لیے اضافی کوشش درکار ہے”۔

یادر ہے کہ افغان حکومت نے 5000 طالبان قیدیوں میں سے 4400 قیدیوں کو رہا کر دیا ہے جب کہ طالبان نے افغان حکومت کے 1000 قیدیوں میں سے لگ بھگ 900 کو رہا کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے 24 جولائی کو افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی سفیر زلمے خلیل زاد نے کہا کہ جنگ زدہ ملک میں تشدد کی بہت وارداتیں ہوئی ہیں۔ تاہم، پچھلے سال کے مقابلے میں افغان سیکورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں میں سرکاری سیکورٹی فورسز کے اہل کاروں کی ہلاکتیں 35 سے 40 فی صد کم ہوئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فروری میں امریکہ طالبان امن معاہدے کے بعد کوئی بھی امریکی یا اتحادی فوجی ہلاک نہیں ہوا۔

You may also like

Leave a Comment