Home » زبانی جمع خرچ کا سفر جاری

زبانی جمع خرچ کا سفر جاری

by ONENEWS

زبانی جمع خرچ کا سفر جاری

حضور نبی کریمﷺ نے جب ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی تو انصار و مہاجرین کے مابین محبت کی ایسی فضا پیدا ہوئی جو ہمیشہ قائم رہی۔اس وقت مسلمان مکہ مکرمہ میں اپنی جائیدادیں چھوڑ کر مدینہ منورہ بطور مہاجر تشریف لائے تو نبی کریمؐ نے ان ہنگامی حالات میں معاشی فرق مٹانے کے لئے اپنی حکمت، دانش و بصیرت سے انصار و مہاجرین میں اخوت کاایسا رشتہ قائم کیا جس سے ایسے صحابہ جو مالی لحاظ سے کمزور تھے، مستحکم ہوگئے۔قیام پاکستان کے بعد قائد اعظمؒ نے واضح کردیا تھا کہ پاکستان کا نظام اسلامی اصولوں پر قائم ہو گا، وہ نظام جسے نبی کریمؐ نے چودہ سو سال پہلے تشکیل دیا۔ آپ ؐنے اعلیٰ انسانی اقدار، حرمت انسانیت، جان ومال کی سلامتی اور باہمی رواداری کے اصولوں پر ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی، کیونکہ نبی کریم ؐ کی تشریف آوری سے پہلے جہالت تھی، لاقانونیت تھی، کوئی ضابطہ حیات نہیں تھا، تہذیب تھی نہ قانون…… نبی کریم ؐ نے صحرائے عرب کے شتر بانوں کی،جو تربیت کی جو اصول وضع کئے، دنیا نے پھر ان سے استفادہ کیا۔

پاکستان کاقیام خالصتاً اسلام کے نام پر ہوا۔پاکستان میں آنے والی ہر حکومت اسلامی اقدار اور اسلامی طرز حکومت کی پاسداری و سرفرازی و فروغ کے لئے عملی اقدامات کرتی رہی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آئی تو اس نے بھی پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر بنانے کا اعلان کیا،اگرچہ عمران خان نے دنیا میں اسلامی تشخص اجاگر کرنے کے لئے کوششیں بھی کیں، لیکن عمران خان کا زیادہ وقت اپوزیشن کو لتاڑنے میں صرف ہوا،حالانکہ عمران خان کے لئے اپنے سیاسی حریفوں کو شکست دینا ایسا مشکل بھی نہیں تھا،اپنی طویل جدوجہد کے بعد ان کے خواب شرمندہئ تعبیر ہوئے تھے تو انہیں چاہئے تھا وہ اقتدار کے پہلے روز ہی منہ پر انگلی رکھ لیتے اور عوام سے کئے وعدوں کی تکمیل کے لئے سرگرم ہو جاتے تو آج تک سارے نہیں،کچھ وعدے تو وفا ضرور ہو جاتے،مہنگائی کی آگ میں جلتے سلگتے عوام کو کچھ ریلیف تو ملتا، لیکن ایسا ہوا نہیں۔

روپے کی قدر میں ایسی کمی اور سونے کی قیمت پہاڑ کی آخری چوٹی پر نہ پہنچتی تو آج حالات یکسر مختلف ہوتے۔عمران خان قوم کی آنکھ کا تارا بن جاتے، اپوزیشن کے لئے حکومت مخالف تحریک کا کوئی جواز نہ رہتا، لیکن عمران خان نے تو جیسے تہیہ کررکھا تھا کہ وزیراعظم بنتے ہی اپوزیشن کا قلع قمع کرنا ہے، رہی بات عوام کی تو انہیں بے وقوف بنانا کون سا مشکل کام ہے۔ عمران خان کو  تو نواز شریف کی سیاسی بصیرت سے کام لینا چاہئے تھا۔ 2014ء میں عمران خان کے 126روزہ دھرنے تمام ترسیاسی حشر انگیزیوں کے ساتھ جاری تھے۔ پاکستان کے دارالحکومت کو جیسے محصور رکھا گیا، سی پیک منصوبہ ایک سال تاخیر کا شکار ہوا، جب چینی صدر 2014ء میں دھرنے کی وجہ سے پاکستان نہ آ سکے۔انہیں اپنا دورہ اور سی پیک معاہدے پر دستخط 2015ء تک موخر کرنا پڑے، حالانکہ اس وقت عمران خان صاحب سے کہا جاتا رہا کہ چینی صدر نے پاکستان آنا ہے انتشار ملک کے لئے بہتر نہیں، ملک کو  ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے تو عمران خان فرماتے رہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہم کیسے نقصان پہنچا رہے ہیں؟ہم تو ایک سائڈ پر دھرنا دے رہے ہیں، اور تو اور عوام کو سول نافرمانی پر اکسایا گیا، بجلی گیس کے بل جمع نہ کرانے اور عوام کو ٹیکس ادا کرنے سے منع کرنے کی سعی ناکام کی گئی۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ہنڈی کا راستہ اختیار کرنے کا کہا گیا،حکومتی اداروں کو مفلوج کر دیا گیا، پارلیمان پر حملہ ہوا، پولیس افسر زخمی ہوئے، وزیراعظم ہاؤس کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی گئی، نواز شریف کو گریبان سے پکڑ کر وزیراعظم ہاؤس سے باہر لانے کی باتیں کی گئیں۔

لیکن وزیراعظم نواز شریف تمام تر ہرزہ سرائیوں کے باوصف خاموشی سے اپنا کام کرتے نظر آئے ان کے ماتھے پر ایک شکن تک نہ پڑی، نہ وہ دھرنوں سے خائف ہوئے۔ ملک میں لوڈشیڈنگ ختم ہوئی، سی پیک سمیت دیگر میگا پراجیکٹ پر کام ہورہے تھے، عمران خان ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر بھی نواز شریف سے استعفیٰ نہ لے سکے۔ عمران خان  نے کنٹینر سے زبانی جمع خرچ کا جو سفر شروع کیا تھا، وہ ہنوز جاری ہے۔ عام آدمی کے حالات خراب سے خراب تر ہو چکے ہیں، ادویات، آٹا، چینی سے لے کر اشیائے خورونوش کی قیمتیں مہنگائی کے ریکارڈ مات کر چکی ہیں، لیکن حکمران آج بھی صرف اپوزیشن کو زچ کرنے میں مصروف ہیں۔ عوام کا کوئی پُرسانِ حال …… نہیں اس وقت ملک میں صرف حکومت اور اپوزیشن کا شو چل رہا ہے۔ریاست مدینہ میں تو ایسے نہیں ہوتا تھا۔ مدینہ کی ریاست تواحکامات الٰہی پر عمل کا نام ہے،جس میں تہی دستوں، یتیموں، مفلسوں کے حقوق کو  فوقیت حاصل ہو، لیکن یہاں تو غریب کی حالت ہی بڑی مخدو ش ہے، اسے تو دووقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں،ایسے حالات میں ایک اسلامی فلاحی ریاست کا خواب تو پھر خواب ہی رہے گا۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment