Home » ریپ جیسے واقعات روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے

ریپ جیسے واقعات روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے

by ONENEWS

ریپ جیسے واقعات روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے

لاہور کے علاقے گجرپورہ رنگ روڈ پر ہونے والے وقوعہ کے بعد پھر وہی پرانی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ” عبرتناک سزا، ملزمان بچ نہیں پائیں گے، سر عام پھانسی، وزیر اعلیٰ نے نوٹس لے لیا، پولیس نے کئی لوگوں کو حراست میں لے لیا، کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ متاثرہ خاتون نے رات کے وقت سفر کیوں کیا، گاڑی کا پیٹرول کیوں چیک نہیں کیا وغیرہ، پہلے بھی جب بھی کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے تو بعض لوگ اس میں الزام خواتین کو ہی دیتے ہیں کہ ان کا لباس ایسا کیوں تھا؟ گھر سے بغیر محرم کے کیوں نکلی وغیرہ کیا ایک عورت رات کو کسی مجبوری کے تحت سفر کرے، یا اپنی مرضی کا لباس پہنے یا میک اپ کر کے نکلے تو پھر مردوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ اس کا ریپ کریں؟ ریپ کے کیسز پوری دنیا میں اور ہر ملک میں ہوتے ہیں۔ لیکن جو کچھ پاکستان اور بھارت میں ہو رہا ہے یہ کسی اور ملک میں نہیں ہوتا، یہ کون لوگ ہیں؟ ان کا کوئی دین ہے؟ کوئی سوچ ہے؟ ان کو کسی خاتون نے جنم نہیں دیا ہے؟ ان کی کوئی بہن یا بیٹی بھی نہیں ہے؟ یہ وحشیوں سے بھی کہیں آگے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آئے روز یہ واقعات ہوتے کیوں ہیں؟ ان کا سدباب کیوں ممکن نہیں؟یہ سب ہماری قومی تربیت کی عکاسی ہے۔ کہنے کو اس جرم میں دو لوگ شریک ہیں۔ لیکن اصل میں پوری قوم شریک جرم ہے، کیونکہ ہم ہر واقعہ پر واویلا کرتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔ کئی مجرمان کو سخت سزائیں بھی دی جا چکیں، مگر ایسے واقعات کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں یورپ سمیت دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں پارکس اور بنچ پر خواتین برہنہ بھی لیٹی ہوتی ہیں۔ رات کو باہر نیم برہنہ بھی پھرتی ہیں۔ قحبہ خانوں پر جاتی ہیں۔ نیم برہنہ اور نشے کی حالت میں بالکل اکیلی ٹیکسیوں میں کئی کئی میل کا سفر ویرانے میں کرتی ہیں۔ ان ممالک میں سخت سزائیں بھی نہیں دی جاتیں۔ لیکن وہاں کم از کم ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوا جو لاہور رنگ روڈ پر ہوا ہے۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کا طریقہ یہ ہے کہ قوم کی تربیت کی جائے، قانون نافذ کر والے اداروں کو متحرک کیا جائے عدالتوں کے اندر فوری انصاف کا بندوبست کیا جائے اور ایسے کیسوں کے فیصلے ایک سال کی مدت کے اندر ہونے چاہئیں۔

تعلیمی اداروں کے اندر ایک پیریڈ اخلاقی تربیت کا ہونا چاہیے، جنسی تعلیم دی جانی چاہیے، بچوں اور بچیوں کو اپنی حفاظت کے طریقے سکھائے جانا چاہئیں۔ سڑکوں پر پولیس کے گشت میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ محلے، گاوں اور شہر کی سطح پر عام لوگوں میں سے کچھ ذمہ دار لوگوں کی خصوصی تربیت کر کے ان کو ایسے افراد پر نظر رکھنے کی ڈیوٹی سونپی جائے جو اس طرح کی سوچ رکھتے ہیں۔ نشے کرتے ہیں۔ اور دوسرے جرائم کرتے ہیں۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارے حکمران عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر عوام کو بیوقوف سمجھتے ہیں۔ ان کو اس قابل بھی نہیں سمجھتے کہ ان کی رائے جان لی جائے۔ افسران، انتظامیہ اور پولیس عوام سے مدد لینے، ان کی رائے یا مشورہ لینے کی زحمت ہی نہیں کرتے، اسی لیے عوام جرائم کی روک تھام میں پولیس کی مدد کرتے ہیں۔ نہ جرم ہوتا دیکھ کر اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔جب بھی کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے تو عام آدمی سرعام پھانسی کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیکن یہ نہیں سوچتے کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔

زینب بل پاس ہو گیا لیکن اس پر عملدرآمد ایسے ہی ہے جیسے دوسرے قوانین پر ہوتا ہے۔ موٹر وے پر ہونے والی واردات کسی نے دیکھ کر پولیس کو فون کیا ہے لیکن موقع پر رک کر ان لوگوں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ اس سے بڑی بے حسی کیا ہوسکتی ہے؟۔ ہمارے ہاں جتنے جرائم ہوتے ہیں۔ لوگ جرائم ہوتے دیکھ کر منہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں۔ یہ ہماری اجتماعی سوچ کی عکاسی ہے۔ اور ہمارے پچیدہ قانونی طریقوں کا خوف ہے۔ پاکستان میں جب بھی کوئی ایسا سانحہ رونما ہوتا ہے تو ہمارے علما کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ کیا ایسے واقعات بے حیائی اور فحاشی کے زمرے میں نہیں آتے ہیں؟

اس تازہ واقعہ کے بعد ہمیں بطور قوم اپنا جائزہ لینا چاہیے اور ہر سطح پر ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانا چاہئیں۔اگر اب بھی حکومت اور عوام نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے تو مجرموں کو کڑی سزا دینے کے باوجود بھی یہ واقعات رک نہیں سکیں گے۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment