Home » رولز آف گیم طے کئے جائیں

رولز آف گیم طے کئے جائیں

by ONENEWS


رولز آف گیم طے کئے جائیں

وفاقی کابینہ پارلیمانی اکثریت کھوتی جا رہی ہے، یعنی عمران خان کی تحریک انصاف اپنی حلیف جماعتوں کا اعتمادکھوتی جا رہی ہے۔پارلیمانی جمہوریت میں عوام براہ راست کابینہ کا انتخاب نہیں کرتے ہیں، جیسے کہ وزیر اعظم کے مشیران کی فوج ظفر موج میں سے ایک بھی عوام کا منتخب کردہ نہیں ہے۔ وفاقی کابینہ ہی اصل حکومت ہوتی ہے جس کا جمہوری جواز پارلیمنٹ کے اعتماد پر منحصر ہوتا ہے۔دو ایوانی نظام میں خاص طور پر ایوان زیریں کی حمائت لازمی ہوتی ہے۔ حکومتوں کا انتخاب پارلیمانی حمایت کا محتاج ہوتا ہے، جونہی اکثریتی پارٹی عدم اعتماد کا اظہار شروع کرتی ہے، حکومت یعنی کابینہ کی چال بے ڈھنگی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔لہٰذا پارلیمان کی اکثریت اور حکومت کو ایک دوسرے کا اعتماد حاصل ہونا لازمی ہوتا ہے جو پی ٹی آئی کے معاملے میں مفقود ہونا شروع ہو گیا ہے۔ ایک وقت تھا جب ریاست کی پوری قوت نون لیگ کی صفوں میں دراڑڈالنے کے لئے صرف کی جا رہی تھی مگر نون لیگ ڈٹ کر کھڑی رہی اور اس کے منتخب اراکین میں کوئی بڑی دراڑ نہ پڑ سکی۔ اب کابینہ کی خراب کارکردگی کے باعث پارلیمان کی اکثریت نے منہ بسورنا شروع کر دیا ہے اور آئندہ آنے والے دنوں میں اختلاف شدید ہو سکتا ہے۔ تبدیلی کے نعرے سے خود حکومتی اراکین اوراتحادی پارلیمان بدظن نظر آنے لگی ہے کیونکہ حکومت مطلوبہ کردار ادا کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے ایک گھنٹے سے اوپر کے خطاب میں اپنی پارٹی اور حلیف جماعتوں کے ناراض عناصر کے حوالے سے کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے اپوزیشن کا تعاون مانگا ہے حالانکہ انہیں اپنوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ آئینی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت کو ہٹانے کے قواعد آسان ہوں تو سیاسی عدم استحکام کا خطرہ لاحق رہتا ہے اور اگر بہت مشکل ہوں تو حکومت پارلیمان کو جوابدہ نہیں رہتی ہے۔وزیر اعظم ہیڈ آف گورنمنٹ ہوتا ہے جو کابینہ کا سربراہ ہوتا ہے۔عوام وزیر اعظم کا انتخاب نہیں کرتے ہیں اور اس کی نامزدگی یا تقرر ہیڈ آف سٹیٹ کرتا ہے۔تاہم ہیڈ آف سٹیٹ کے اس ضمن میں غیر محدود اختیارات نہیں ہوتے کیونکہ پارلیمانی جمہوریت میں حکومت سازی کے لئے پارلیمانی اعتماد کا حصول ضروری ہوتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ پارلیمان کی اکثریت کا حکومت کو اعتماد حاصل ہونا چاہئے۔

ایک مرتبہ کابینہ تشکیل پا جائے تو پارلیمان کو جوابدہ ہوتی ہے۔ یہ جوابدہی پارلیمانی کمیٹیوں، عوامی سرووں، مختلف وزارتوں سے کئے جانے والے سوال جواب اور پارلیمان میں کی جانے والی تقاریر میں کئے جانے والے حکومت کے احتسابی عمل سے بڑھ کر ہوتی ہے، جو معمول کے مطابق جاری رہتا ہے۔ اس جوابدہی کا تعلق پارلیمان کی اس اختیار سے ہوتا ہے جس کے تحت وہ حکومت (یعنی کابینہ) کو دیا گیا اعتماد واپس لے سکتی ہے۔ جو تحریک عدم اعتماد کی صورت میں ہوتا ہے۔یا اگر حکومت اعتماد کا ووٹ مانگے تو اس سے انکار کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔پارلیمانی اعتماد کھو جانے کی صورت میں حکومت کو مستعفی ہونا پڑتا ہے وگرنہ اس کی بر طرفی بھی کی جا سکتی ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ پارلیمان کو تحلیل کر دیا جائے اور نئے انتخابات کا اعلان کر دیا جائے۔ ان میں سے کون سی صورت وقوع پذیر ہوسکتی ہے اس کا تعلق اس مخصوص وقت کے سیاسی حالات اور آئینی قواعد پر عمل درآمد کی نوعیت سے ہوتا ہے۔ صدارتی نظام میں یہی کچھ مواخذے کی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔

حکومت کے لئے آل از ویل یا ناٹ ویل کی بحث جاری ہے، ڈاٹس کو ملانے کی کوشش کی جا رہی ہت، بیانات پر بحث کا تسلسل ہے،اسٹیبلشمنٹ اندازہ لگا رہی ہوگی کہ لوگ کیسے سوچ رہے ہیں، opinion makers کیا رائے بنا رہے ہیں، شائد کوئی اچھی رائے سامنے آ جائے، اس لئے تبصرے کی بجائے پیٹرن پر غور کیا جائے، سمجھا جائے کہ ایسا ہوتا رہا تو کیا ہوگا، ایسا نہ ہوتا تو کیا نہیں ہوگا، یہ ہوگا اور نہیں ہوگا کے درمیان کا مرحلہ ہے۔

وفاقی کابینہ کی پارلیمان کو جوابدہی شروع ہو گئی ہے، اس کا مطلب ہے کہ اس کا ہنی مون پیریڈ ختم ہوگیا، اتحادی تو ایک طرف، بیس کے قریب پی ٹی آئی کے اندر اراکین منحرف ہو چکے ہیں، چار مینگل گروپ کے، چار قاف لیگ کے، اس کے علاوہ شاہزین بگتی، ایک اسلم بھوتانی اور ایک راجہ ریاض، کل ملا کر تیس اور پھر دما دم مست قلندر!…. مگر کس لئے، ایک اور میوزیکل چیئر گیم کے لئے؟

نون لیگ اس کے برعکس ایک ڈائیلاگ چاہتی ہے، پارلیمان، فوج،عدلیہ اور میڈیا کے مابین، تاکہ رولز آف گیم طے کئے جا سکیں۔ محض ایک کو گرا کر دوسرے کو لانے کی روش ترک کر دینی چاہیئے۔ یہ نون لیگ کا موقف ہے، پیپلز پارٹی خواہ کچھ سمجھتی ہو، اسے نون لیگ کے پیچھے چلنا پڑے گا۔

مزید :

رائےکالم





Source link

You may also like

Leave a Comment