Home » رتودیرو: ایچ آئی وی مریضوں کی تعداد میں بدستور اضافہ

رتودیرو: ایچ آئی وی مریضوں کی تعداد میں بدستور اضافہ

by ONENEWS

لاڑکانہ کے علاقے رتو دیرو میں بچوں کی ایک بڑی تعداد میں ایچ آئی وی کی موجودگی کے انکشاف کو 19 ماہ بیت چکے ہیں۔ یہ ایک ایسی خبر تھی جو بین الاقوامی سطح پر شہ سرخیوں میں آئی لیکن نہیں آئی تو رتو دیرو میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور کیوں کہ اس روگ کی روک تھام کا کوئی خاص نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

سندھ کے محکمہ صحت نے بالآخر 30 نومبر کو رتو دیرو میں قائم اینٹی ریٹرو وائرل تھیریپی کے مرکز پر ایچ آئی وی کی اسکریننگ اور متاثرہ افراد کی کل تعداد کے اعداد و شمار جاری کیے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل میڈیا سے آخری بار ایسے اعداد و شمار 2 جون 2020 کو شیئر کیے گئے تھے۔

محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق کل 42 ہزار 533 افراد کی اسکریننگ کی گئی جن میں سے ایک ہزار 540 افراد میں اس وائرس کی موجودگی پائی گئی۔ ان متاثرہ افراد میں بچوں کی تعداد سب سے تھی جن میں 686 بچے جبکہ 446 بچیاں شامل تھیں۔ علاوہ ازیں اسکریننگ کے نتیجے میں 286 خواتین، 121 مرد اور ایک خواجہ سراء بھی ایچ آئی وی مثبت ظاہر ہوئے۔

حکومت کے مطابق ایج آئی وی سے اب تک 38 اموات واقع ہوچکی ہیں اور جان گنوانے والے ان افراد میں 2 بچے، 14 بچیاں، تین عورتیں اور ایک مرد شامل ہیں۔

ایک مقامی یورولجسٹ ڈاکٹر عمران اکبر آربانی جنہوں نے رتو دیرو میں بچوں میں ایچ آئی وی کی موجودگی سب سے پہلے محسوس اور رپورٹ کی تھی حکومت کے ان اعداد و شمار سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2 جون کے بعد انہوں اپنے طور پر اسکریننگ کے لیے بھیجے گئے افراد کے اعداد و شمار اکٹھے کیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے کلینک میں جو پہلی مرتبہ آیا میں نے ان کی طویل میڈیکل ہسٹری کے پیش نظر انہیں اسکریننگ کرانے کا مشورہ دیا۔

اپنے طور پر اکٹھے کیے گئے جون تا نومبر کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے ڈاکٹر عمران نے کہا کہ وہ کل ایک ہزار 613 مثبت کیسز تھے اور اصل عدد اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے کیوں کہ یہ تو صرف وہ مریض ہیں جو ان کے کلینک آئے۔

انہوں نے بتایا کہ رتو دیرو میں پیدا ہونے والی مذکورہ صورتحال کے بعد سے  44 بچے بچیاں اور ایک جوان لڑکی انتقال کرچکے ہیں جبکہ 5 بڑے بھی اس کا شکار ہوئے اور ایچ آئی وی کے ہاتھوں لقمہ اجل بن جانے والوں کی کل تعداد اب تک 50 ہے۔

ڈاکٹر عمران نے کہا کہ ایسے بچوں کی اکثریت سیکنڈری بیماریوں بشمول نمونیا، معدے کے خرابیوں سے انتقال کرگئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے بیمار بچوں کے والدین انہیں ایک ڈاکٹر سے دوسرے کے پاس لے جاتے رہے اور جب تک وہ اے آر ٹی سنٹر رتو دیرو پہنچ پاتے ان کی حالت تشویشناک ہوچکی ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ بچوں میں ایج آئی وی کے پھیلاو کی اطلاع عام ہونے سے قبل ہی انہیں اپنے کلینک پر آنے والے بچوں کی حالت اور علامات دیکھ کر شبہ ہوتا تھا اور وہ انہیں قابل بھروسہ لیبارٹریز سے ایچ آئی وی کی اسکریننگ کرانے کا مشورہ دیتے تھے۔

ڈاکٹر عمران نے بتایا کہ ممکنہ طور پر ایچ آئی وی کے پھیلاو کا سبب خصوصاً استعمال شدہ سرنجز، ڈرپ سیٹس اور سوئیوں کا دوبارہ استعمال ہے جس کے ذمہ دار طبی مدد فراہم کرنے والے غیر تربیت یافتہ افراد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتال کا فضلہ گلیوں، سڑکوں پر پھیلا ہوتا ہے اور غیر معیاری لیبارٹریز متواتر کام کررہی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایچ آئی وی کے پھیلنے کے اسباب اب بھی رتو دیرو میں ویسے ہی موجود ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے اس حوالے سے مختلف رسک فیکٹرز کی نشاندہی کی ہے جن میں بچوں کی غیر محفوظ ڈیلیوری،بلڈ بینکس پر بے احتیاطیاں، انفیکشن کنٹرول پروگرام ہر غیر موثر عملدرآمد، اسپتال کے فضلے کو موزوں طور پر ٹھکانے نہ لگانا شامل ہیں۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر ایچ آئی سی کنٹرول پروگرام سندھ ڈاکٹر ثاقت علی شیخ نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عطائیوں اور ایچ آئی وی پھیلنے کا سبب بننے والی غیر محفوظ سرگرمیوں کی سرکوبی کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

You may also like

Leave a Comment