0

ذکر کچھ کتابوں کا

گورنمنٹ کالج فیصل آباد سے گریجوایشن کرنے کے علاوہ ملازمت کے دوران تقریباً پانچ سال میں نے فیصل آباد میں گزارے۔ اُن دنوں کی یادوں کا ذکر کالموں میں ہوتا رہتا ہے۔ وہاں جن لوگوں سے قریبی تعلق رہا اُن میں ہومیوپیتھ ڈاکٹر اشرف مرحوم، اعجاز حشمت، (جنرل مجیب الرحمان کے برادر نسبتی) اور زمان خان شامل ہیں۔ زمان خان سے دوستی میں جرنلزم، علم و ادب اور محفل آرائیوں کا بڑا دخل ہے۔ تھوڑا سا نظریاتی فاصلہ زندگی کی وسیع دلچسپیوں کے آڑے نہیں آیا۔ پھر میں اسلام آباد چلا گیا۔ زمان خان بھی بعد میں لاہور آ گئے جہاں وہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ٹیم میں شامل ہو گئے۔ یہاں ملازمت کے ساتھ ساتھ ان کا Passion بھی شامل ہو گیا یوں وہ ایک دفعہ پھر لاہور کی علمی ادبی فضاء کا حصہ بن گئے۔ اُن کا ذہنی ارتقاء لاہور ہی کا مرہون منت تھا کچھ میرا معاملہ بھی ایسے ہی ہے میں بھی آج جو کچھ ہوں یہ بڑی حد تک پنجاب یونیورسٹی اور لاہور کا فیض ہے۔ لاہور اور اسلام آباد کا درمیانی فاصلہ ہمارے تعلق میں زیادہ رکاوٹ نہیں بنا۔ موٹروے نے جغرافیائی فاصلہ بھی خاصا کم کر دیا لہٰذا دونوں شہروں میں محفلیں جاری رہیں لیکن اب وہ آخر کار سب کچھ چھوڑ کر آبائی شہر فیصل آباد آ پہنچے ہیں۔

زمان خان بڑا عرصہ مختلف انگریزی اخبارات سے بھی منسلک رہے۔ عملی سیاست میں بھی سرگرم رہے اور ہیومن رائٹس کے بھی داعی رہے۔ انہی موضوعات پر مضامین، کالم اور کچھ کتابیں بھی لکھیں۔ نظریاتی لحاظ سے اُن کا جھکاؤ واضح طور پر لیفٹ کی طرف رہا۔اُن کی تازہ کتاب Alternative Vision – Voices of Reason پڑھ کر ذہن میں بہت کچھ تازہ ہو گیا۔ کتاب بدلتی دنیا پبلی کیشنز نے چھاپی ہے۔ بدلتی دنیا کے کرتا دھرتا ایوب ملک اتفاق سے ایف 11 میں میرے گھر کے قریب ہی رہتے ہیں۔ ایوب ملک کی شخصیت بھی ہمہ جہت ہے وہ پبلیشر ہونے کے ساتھ ساتھ نظریاتی سیاستدان اور دانشور بھی ہیں۔ 575 صفحے کی اس کتاب میں صحافت، سیاست اور علم و ادب سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کیلئے بہت کچھ ہے۔آئی اے رحمن نے بڑا خوبصورت تعارف لکھا ہے۔کتاب میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 675 نامور ملکی اور غیرملکی شخصیات کے انٹرویو شامل ہیں۔ انٹرویوز کو انہوں نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ علمی ادبی شخصیات میں امرتا پریتم، عبداللہ حسین، کشور ناہید، انتظار حسین، ن م راشد، فخر زمان، شمیم حنفی، شمس الرحمان فاروقی، افضل احسن رندھاوا، بری نظامی، ڈاکٹر منظور اعجاز، نسرین انجم بھٹی اور گلزار بانو جیسے لوگ شامل ہیں۔ تاریخ کے شعبے میں انوار حسین سید، پروفیسر حمزہ علوی، ڈاکٹر اشتیاق احمد، پروفیسر کے کے عزیز اور پروفیسر رومیلہ تھاپر کے علاوہ روس، یورپ اور بھارت کے نامور لوگ شامل ہیں۔ انسانی حقوق اور سیاست کے شعبہ میں جن کے انٹرویو شامل ہیں اُن میں عاصمہ جہانگیر، اعتزاز احسن، بشپ ڈاکٹر جان جوزف، لطیف آفریدی، مرزا محمد ابراہیم، طاہر محمد خان، طارق علی،نمبودری پد، بیگم نسیم ولی خان شیر محمد مری اور قا ضی حسین احمد کے علاوہ کئی بھارتی دانشور شامل ہیں۔ گویا کتاب پڑھنے لکھنے سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کیلئے معلومات کا ایک خزانہ ہے۔

علم و ادب کی دنیا میں امرتا پریتم عبداللہ حسین اور شمس الرحمن فاروقی جیسے لوگوں کے انٹرویو ادب کا ہر قاری پڑھنا چاہے گا لیکن ایک ادیب اور بیوروکریٹ گلزار بانو کا انٹرویو بہت مختلف اور دلچسپ ہے۔ گلزار بانو نے افسانے بھی لکھے،شاعری کی اور پینٹنگ بھی کی لیکن 1950ء میں انہوں نے سروسز کیلئے مقابلے کا امتحان دیا اور پورے پاکستان میں ٹاپ کیا۔ انٹرویو کرنے والے بورڈ  کے چیئرمین نے انہیں کہا کہ آپ کی پہلی پوزیشن باقی ارکان برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں لہٰذا انٹرویو کے نمبر کم کرکے انہیں سیکنڈ پوزیشن الاٹ کر دی گئی۔ جب سروس گروپ کا سوال آیا تو انہیں بتایا گیا کہ آپ کو فارن سروس، سی ایس پی گروپ اور پولیس سروس میں نہیں لیا جا سکتا لہٰذا انہوں نے آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس میں شمولیت اختیار کر لی اور لاہور میں اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کے دفتر میں رپورٹ کیا۔ دفتر میں عجیب و غریب صورتحال سے واسطہ پڑا۔ صرف اتنا بتانا کافی ہے کہ اُس دفتر میں خواتین کے لئے واش روم دستیاب نہیں تھا لہٰذا اس مقصد کیلئے وہ تانگہ لیکر گورنمنٹ کالج جایا کرتی تھیں۔ آخر کار1983ء میں وہ سیکرٹری کیبنٹ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئیں۔ وہ پاکستان کی پہلی خاتون سیکرٹری تھیں۔

ایک انڈین شخصیت Sanjiv Saraf کا ذکر بھی ضروری ہے۔ سنجیو صراف راجستان میں ایک کاروباری خاندان میں پیدا ہوئے اور کاروبار ہی میں مصروف رہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ کاروبار کے علاوہ اُردو سے محبت اُن کی شخصیت کا حصہ بن گئی حالانکہ یہ اُن کی مادری زبان نہیں۔ اس سوال پر کہ اُردو کی محبت میں وہ کیونکر گرفتار ہوئے انہوں نے بتایا کہ گھر میں والد صاحب سے اُردو کی غزلیں سُن کر اُردو اور غالب سے لگاؤ ہو گیا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ انہیں اُردو پڑھنا مشکل لگتا تھا۔ انہوں نے سوچا کہ میری طرح اور لاکھوں لوگ بھی اِس مشکل میں گرفتار ہوں گے اس لئے انہوں نے اس کے لئے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا۔ 2013ء میں انہوں نے اِس مقصد کے لئے رِیختہ فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ رِیختہ فاؤنڈیشن نے اُردو لٹریچر کے فروغ کیلئے اُردو کو ڈیجیٹلائز کیا، مشاعرے کرائے اور کتابوں کی چھپائی شروع کی۔ (آجکل سوشل میڈیا پر ریختہ فاؤنڈیشن کے زیراہتمام ہونیوالی محفلوں کے ٹکڑے کثرت سے نظر آتے ہیں۔) رِیختہ فاؤنڈیشن کی محفلوں میں بھارت کے علاوہ پاکستان سے بھی کافی لوگ شریک ہوتے ہیں۔ مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ شرکاء کی تعداد پچاسی ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ فاؤنڈیشن پاکستان میں بھی ادبی تقریب کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔کتاب میں کتابت کی کافی غلطیاں ہیں۔ اس کے علاوہ بہت ساری شخصیات کا تعارف نہیں دیا گیا اور کئی انٹرویوز کے مقام اور وقت کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ زمان صاحب اگلے ایڈیشن میں اِن غلطیوں کے ازالے کے ساتھ اگر مختلف شعبوں میں تعلق رکھنے والے لوگوں کی الگ الگ دو یا تین کتابیں بنا دیں تو شاید یہ زیادہ قارئین تک پہنچ سکیں گی۔

اب چونکہ دوستوں اور کتابوں کی بات ہو رہی ہے تو ایک اور کتاب کا ذکر بھی ضروری ہو گیا ہے۔ خوش قسمتی سے دوستوں میں کئی مصنفین شامل ہیں۔ ہمارے یار ڈاکٹر رسول بخش رئیس تو عالمی امور اور کئی دوسرے دقیق موضوعات پر انگریزی میں کتابیں لکھ چکے ہیں اور کئی مسودوں پر کام کر رہے ہیں۔ اُن کی کتابوں کے قارئین بھی خاص ہوتے ہیں اور ظاہر ہے مبصرین بھی خاص ہی ہوتے ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے ایک اور کلاس فیلو ریاض اختر کی کتاب ”عورت کہانی۔ داستانِ عروج و زوال“ میں نے انہی دنوں پڑھی ہے یہ کتاب بھی ایوب ملک صاحب نے بھجوائی تھی اس کے پبلیشر بھی وہی ہیں۔ ریاض اختر صاحب سول سرونٹ ہیں اور 2009ء میں پلاننگ کمیشن میں ڈائریکٹر جنرل کی پوسٹ سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ ریاض صاحب پڑھنے لکھنے کے رسیا اور اُن کی ذاتی لائبریری میں تقریباً 10 ہزار کتابیں ہوں گی۔ اِس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کیا کچھ ہضم کیا ہواہے۔پچھلے دنوں ایک اور دوست پیمرا کے چیئرمین سلیم بیگ صاحب کے گھر جانا ہوا، لائبریری ہی میں چائے پی،گپ شپ کی، پورا کمرہ کتابوں سے بھرا ہوا تھا، ایسے لوگوں پر رشک آتا ہے۔

ریاض اخترکی تازہ کتاب عورت کہانی تقریباً 600 صفحات پر محیط ہے۔ انہوں نے ہزاروں سال پر پھیلی ہوئی خواتین کے ساتھ ظلم و جبر اور امتیازی سلوک کی داستان بڑی تفصیل سے رقم کی ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں عورت کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا پھر اسلام نے پہلی مرتبہ عورت کو گھر اور معاشرے میں اعلیٰ مقام دیا۔ اس سارے اُتار چڑھاؤ کے بعد آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی عورت کسی نہ کسی سطح پر امتیازی سلوک کا شکار ہے۔ یہ طویل کہانی مستند حوالوں کے ساتھ کتاب میں دی گئی ہے۔ کتاب پڑھنے سے مصنف کی محنت اور وسعت ِمطالعہ کا پتہ چلتا ہے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں