Home » دیانت بمقابلہ ذہانت

دیانت بمقابلہ ذہانت

by ONENEWS

”دیانت بمقابلہ ذہانت“

ویسے تو اپنی ”درویش حکومت“ کے سو دِنوں والا نعرہ آغازِ کار سے ہی زبان زدِ عام ہے،مگر تازہ ترین حکومتی بیان کہ ”آئندہ تین ماہ،یعنی تقریباً سو دِنوں میں گیس فقط کھانا پکانے کے لئے دستیاب ہو گی“ سے آگاہ ہوتے ہی ہمارے تو کیا انصاف کے سبھی پروانوں کے گیس کے بغیر ہی پَر جلنا شروع ہو گئے ہیں۔قبل ازو قت،سنہرے یا ڈراؤنے مناظر کی جھلک دِکھا کر شاید ہمارے ”انصافی رہنما“ اپنے پروانوں کو مانند ِ عقاب پلٹنا، جھپٹنا، جھپٹ کر پلٹنا جیسی صفات سے مزین کرنا چاہ رہے ہیں،مگر یہ تازہ ترین درفنطنی ہمیں ایک مرتبہ پھر اپنے ”روحانی بابا“ کے ہاں لے گئی……روحانی بابا خوب جانتے ہیں کہ ہمیں جب کبھی حکومتی نو رتنوں کی بیان بازیاں اُلجھا دیتی ہیں تو ہم اُنہی کے آستانے سے کسب ِ فیض کے لئے رجوع کرتے ہیں، چنانچہ ہمیں دیکھتے ہی ہلکا سا مسکرائے اور بولے:”آؤ لاڈلے!آج پھر حواس باختہ دکھائی دیتے ہو،کہو کیا سندیسہ لائے ہو؟“ ہم نے آئندہ سو روزہ حکومتی پروگرام کی روشنی میں گیس نایابی کی خبر اُن کے گوش گزار کی اور ابھی اپنے تفکرات کا ذکر شروع ہی کیا تھا کہ انہوں نے ہمیں ٹوک دیا۔کہنے لگے: ”دیکھو مُنے! تمہیں پہلے بھی سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ جیسے حُسن اور عقل دو متضاد چیزیں ہوتی ہیں،اسی طرح دیانت اور ذہانت بھی دو الگ الگ چیزیں ہوتی ہیں،جو خود پرستی دیانت میں جلوہ گر ہوتی ہے،اگر تمہاری یادداشت کچھ بہتر ہے تو دیکھو گے کہ پچھلے کئی عشروں سے یہی کچھ چل رہا ہے۔

داستان طولانی ہے، مختصراً کہہ رہا ہوں کہ اس گروہِ عاشقانِ انصاف و انقلاب کو وقت نے زمامِ اقتدار تو تھما دی ہے، مگر کسی دلدل سے نجات کے لئے جو ذہانت یا بصیرت درکار ہے، وہ کہیں نظر نہیں آ رہی۔ اب اسی خبر پر غور کرو تو تمہیں پنجابی محاورہ ”دریانو کوس اور کپڑے کاندھوں پر“ یاد آنا چاہئے۔ جیسے کورونا کے ہنگام میں دُنیا بھر میں تیل کی قیمتیں نہایت نچلی سطح پر آئیں تو ایک عام فہم آدمی کو بھی اندازہ تھا کہ جونہی اِس وباء کا زور ٹوٹے گا، تیل کی قیمتیں پھر اوپر اُٹھ جائیں گی،مگر فوری کریڈٹ لینے کی حکومتی تڑپ نے قیمتیں قریباً40فیصد کم کر دیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ مہنگائی مافیا یہ کریڈٹ کبھی عام آدمی تک نہیں جانے دے گا، چنانچہ ایک نہایت مختصر عارضی وقفے کے لئے قیمت کم کر کے پھر بڑھا دینا، ایک بڑا دھچکا تھا،جس نے عام آدمی کی کمر توڑ دی۔ اب یہ تازہ سندیسہ،یعنی اگلے سو دِنوں میں گیس کی نایابی کاجو ”مژدہ“ تم سنا رہے ہو، اس پر تو فی الحال ”لاحول ولا قوۃ“ ہی پڑھا جا سکتا ہے۔اس کے ”ثمرات“ اگلے چند گھنٹوں میں تم دیکھنا شروع کر دو گے، جب گیس مافیا فوری طور پر مارکیٹ سے خالی گیس سلنڈر ہی  غائب کر دے گا، بلکہ گیس جنریٹرز اور گیس پر چلنے والی کئی انڈسٹریوں کے مالکان کے دماغی خلجان کا باعث ہو گا۔ ہمارے عوام کی گذشتہ چالیس سالہ تربیت ہی کچھ اس انداز میں کی گئی ہے کہ ایسے مواقع سے فائدہ نہ اٹھانے والے کو احمق اور گاوڈی کہا جاتا ہے۔ ہماری ”انصافی حکومت“ کے یہ نابغے نہایت عجلت پسند نظر آتے ہیں،جنہیں کسی Creditیا Dis Credit سے کوئی غرض نہیں!!

اتنا کہنے کے بعد وہ رُکے تو ہم نے تلخ لہجے میں سوال داغا! ”بابا جی! آپ کی ان مایوس باتوں سے محسوس ہوتا ہے کہ پہلے والے مقتدر لوگ ہی شاید ”نجات دہندہ“ تھے،جن پر وطن ِ عزیز کی ہر عدالت ”نااہلی“ اور ”کرپشن“ کے  ٹھپے لگائے بیٹھی ہے“؟۔ انہوں نے ترچھی نظر سے ہمیں دیکھا اور قدرے بلند آواز میں مخاطب ہوئے: ”دیکھو لاڈلے! جیسا کہ پہلے کہہ چکا ہوں،دیانت اور ذہانت بہت کم اکٹھی چلتی نظر آتی ہیں، اِسی طرح ہوس و طمع اور عاقبت اندیشی بھی ایک دوسرے سے بے خبر ہوتی ہیں۔ تم نے دیکھا ہو گا چند روز پیشتر نیب پیشی کے مواقع پر اِک ”ہجومِ عاشقانِ ہوس“ نے جو ”کار گزاری“ دکھائی تھی، وہ تو کسی خوش رنگ فلم کے المیہ انجام کی آئینہ دار تھی۔تھوڑی تفصیل سنو گے تو تمہارا سرگھوم جائے گا۔رانا نذر الرحمن مرحوم سے شاید تم واقف نہیں ہو گے۔اپنی سرگزشت میں وہ ایک جگہ رقم طراز ہیں کہ انہوں نے80ء کی دہائی کے اوائل میں ایک نوزائیدہ سیاست دان کو اپنی مرسڈیز گاڑی میں ایک تلنگے کو جاتے ہوئے دیکھا تو دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ سیاست دان اُسے اپنے فیکٹری مزدوروں کو دبانے کے لئے استعمال کرتا تھا۔یہ وہ مائنڈ سیٹ تھا جو ہر صنعت کار اپنے کاروباری پھیلاؤ کے لئے اختیار کرتا تھا۔ کاش وہ سیاست دان صرف صنعتکار ہی رہتا، مگر شومی  قسمت وہ صنعتکار خاندان، سیاست میں جا اُترا۔وزارتِ مالیات جیسا اہم ادارہ اس کی جھولی میں ڈال دیا گیا اور ڈالنے والے کون تھے؟ کیا وہ کوئی خلائی مخلوق تھے؟ جو کوئی بھی تھے، اُنہی کے دست ِ کرم کے طفیل وزارتِ اعلیٰ تک کا سفر اُن کے لئے آسان تر بنا دیا گیا۔ سیاست، جو پہلے جاگیرداروں، وڈیروں اور گدی نشینوں کی وراثت سمجھی جاتی تھی، سمٹ کر یوں اُن کے اَستانے میں اتری کہ ایک صوبہ تو کیا، ملک بھر کی نمایاں ہستیاں، ماڈل ٹاؤن کے مرغزاروں کا طواف کرنے پر مجبور ہو گئیں۔اپنی جبلی کاروباری ”ذہانت و فطانت“ کا بے محابا استعمال کرتے ہوئے اس کاروباری خاندان نے کچھ اس انداز میں اپنے پنجے جمائے کہ قانون اُن کا نگہبان، انصاف اُن کا مہربان اور میرٹ اُن کا قدر دان ہو گیا۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment