Home » دیامیر بھاشا ڈیم سے چیلاس کے لوگوں کو مفت بجلی ملے گی،وزیراعظم

دیامیر بھاشا ڈیم سے چیلاس کے لوگوں کو مفت بجلی ملے گی،وزیراعظم

by ONENEWS

دیا میر بھاشا ڈیم کی سائٹ کے دورے کے دوران

 

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ باہمت قوموں کو مشکل وقت میں اہم فیصلے کرنے ہوتے ہیں، عوام کی ترقی کیلئے سرمایہ کاری کر رہے ہیں، دیا میر بھاشا ڈیم گلگت بلتستان کی قسمت بدل دے گا، اس منصوبے سے چیلاس کے لوگوں کو مفت بجلی ملے گی۔

بدھ 15 جولائی کو گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر بننے والے پاکستان کے سب سے بڑے میگا پراجیکٹ دیا میر بھاشا ڈیم کی مختلف سائٹس کا وزیراعظم عمران خان نے دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں، جو انسانون پر سرمایہ کاری کرتی ہیں، دنیا کی دوسری قومیں چین کی ترقی سے خوف زدہ ہیں، چین نے 5 ہزار بڑے ڈیم بنائے، قانون کی بالا دستی اور تعلیم دینے سے قومیں ترقی کرتی ہیں، قوموں کو مشکل وقت میں اہم فیصلے کرنے ہوتے ہیں، پاکستان کی بدقسمتی رہی کہ کم وقت کیلئے فیصلے کیے گئے طویل المدتی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ 90 کی دہائی میں درآمدی تیل پر بجلی بنانے کے فیصلوں سے نقصان ہوا، جب رقوم باہر جاتی ہیں تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھتا ہے، ہم جب حکومت میں آئے 20 ارب روپے کا خسارہ ہمیں ورثے میں ملا، جب کہ روپے پر دباؤ تھا۔ مہنگی بجلی کی وجہ سے صنعتوں پر اثر پڑا۔

ڈیم سے متعلق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کا سب سے بڑا ڈیم بنانے جا رہے ہیں، خاص کر اس موقع پر میں چیئرمین واپڈا کا شکریہ ادا کروں گا، جن جنون کی حد تک اس پراجیکٹ سے لگاؤ رکھتے ہیں، اس منصوبے سے چیلاس کو مفت بجلی ملے گی، وقت بتائے گہ کہ یہ پراجیکٹ ملک کی تقدیر بدل دے گا، ہم گلگت بلتستان اور پرانے قبائلی علاقوں کیلئے بجٹ بڑھا رہے ہیں، ہم اسے پوری طرح فنڈ کر رہے ہیں، بلوچستان بہت پیچھے رہ گیا ہے، مشکل حالات میں ان کیلئے بھی کام کر رہے ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم نے پراجیکٹ سے وابستہ ٹیموں کو مبارک باد بھی دی۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں لوگ آہستہ آہستہ ٹوریزم کھول رہے ہیں، وزیراعلیٰ کے پی کو ایس او پیز کیساتھ گلگت بلتستان میں سیاحت کھولنے کی تیاری کا کہہ دیا ہے۔

قبل ازیں تقریر کے آغاز میں عمران خان نے کہا کہ فیصل واوڈا نے آج ایسی تقریر کی ہے، جیسے الیکشن ہونے لگا ہے۔

دورے کے موقع پر فیصل واوڈا، امین گنڈا پور، چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی سمیت دیگر حکام بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔ حکام کی جانب سے وزیراعظم کو پراجیکٹ پر اب تک ہونے والے تعمیراتی کام اور اس منصوبے پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے سے ملک میں ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہوگی۔ یہ منصوبہ سال 29-2028ء میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

دیا میر بھاشا ٹیم کی تفصیلات

دیامیر بھاشا ڈیم کو پاکستان کا تیسرا میگا ڈیم سمجھا جاتا ہے۔ اس ڈیم کے پانی کو زراعت کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ واپڈا کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف صوبہ خیبر پختوںخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کا 6 لاکھ ایکڑ کا رقبہ قابل کاشت ہو جائے گا بلکہ مجموعی طور پر 3 ملین ایکڑ زرعی رقبہ سیراب ہو سکے گا۔

اس ڈیم سے بجلی پیدا کرنے کے لیے 12 ٹربائن لگائی جائیں گیں اور ہر ایک ٹربائن سے متوقع طور پر 375 میگا واٹ بجلی، جب کہ مجموعی طور پر 4500 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔ ڈیم دریائے سندھ کے پانی کا قدرتی بہاؤ استعمال کرتے ہوئے اس پانی کا 15 فیصد استعمال کرے گا جب کہ اس مقام پر دریائے سندھ کا سالانہ اخراج پانچ کروڑ ایکڑ فیٹ ہے۔ ڈیم مجموعی طور پر 110 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوگا، جب کہ 100 کلومیٹر مزید رقبے پر ڈیم کے انفراسٹریکچر کی تعمیر ہو گئی۔

دیامیر بھاشا ڈیم کا منصوبہ کئی دہائیوں سے زیر غور ہے۔ پہلی مرتبہ اس منصوبے کی تجویز 1980 کی دہائی کے آغاز میں زیر غور آئی تھی۔ واپڈا کے مطابق ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ پہلی مرتبہ 2004 میں تیار کی گئی جبکہ سنہ 2005 سے 2008 کے عرصے میں دوبارہ اس کی فزیبلٹی اور ڈیزائین پر کام ہوا تھا۔

افتتاح پر افتتاح

اس منصوبے کا سب سے پہلے افتتاح سنہ 1998 میں اس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کیا تھا۔ سال 2006 میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے ڈیم کی تعمیر کا دوبارہ اعلان کیا۔ سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے بھی ایک بار پھر ڈیم کا افتتاح کیا تھا۔ جب کہ بھاشا دیا میر ڈیم کا ایک اور افتتاح سال 2011 میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی کیا تھا۔

صوبوں میں تنازعہ

دیامیر بھاشا ڈیم تعمیر کے منصوبے کے اعلان کے ساتھ ہی گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا حکومتوں کے درمیان ڈیم میں آنے والے آٹھ کلومیٹر رقبے کی حدود کا تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔ اس تنازع کی وجہ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے کوہستان اور گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر کے درمیان سرحدی علاقہ گندلو نالہ ہے۔ دونوں حکومتیں اس مذکورہ علاقے کو اپنی حدود میں ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں۔

محل و وقوع

یہ ڈیم پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان اور صوبہ خیبر پختوںخوا کے سرحدی علاقے بھاشا میں تعمیر کیا جانا ہے۔ اس کا کچھ حصہ خیبر پختوںخوا کے علاقے کوہستان میں جبکہ کچھ حصہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں آتا ہے اور اسی وجہ سے اسے دیامیربھاشا ڈیم کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ڈیم دریائے سندھ پر تعمیر کیا جائے گا۔ یہ تعمیر تربیلا ڈیم سے 315 کلومیٹر کی بلندی پر جبکہ گلگت بلتستان کے دارالحکومت گلگت سے 165 کلومیٹر اور چلاس سے 40 کلومیٹر دور دریائے سندھ کے نچلی طرف ہو گی۔

واپڈا کے مطابق ڈیم کی بلندی 272 میٹر ہو گی۔ اس کے 14 سپل وے گیٹ تعمیر کیے جائیں گے۔ اس میں مجموعی طور پر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 8.10 ملین ایکٹر فٹ ہو گی جبکہ اس میں ہمہ وقت 6.40 ملین ایکٹر فٹ پانی موجود رہے گا۔

قبل ازیں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے اپنی ٹویٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانیوں کو اس منصوبے سے 16500 نوکریاں، جب کہ 4500 میگاواٹ بجلی کی پیداوار حاصل ہو گی۔ انہوں نے دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے آغاز کو بہت بڑی خوش خبری قرار دیا ہے۔

پاکستان دیامیر بھاشا ڈیم کو بجلی اور پانی کی ضرورت کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔ 60 کی دہائی کے بعد اب تک پاکستان نے کوئی بھی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کیا ہے۔

You may also like

Leave a Comment