0

دہشت گردی کے عوامل

جیسا کہ ان کالمز میں پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے سبب پہلے کے مقابلے میں زیادہ فراغت رہتی ہے ایسے میں کوشش ہوتی کہ اپنے وقت کو مطا لعے یا پھر معیاری فلموں کو دیکھنے میں ہی صرف کیا جا ئے۔اسی ہفتے دہشت گردی کے موضوع پر 2015میں شائع ہونے والی اہم کتاب دیکھنے کا موقع ملا۔گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی پو ری دنیا کیلئے بہت بڑا مسئلہ بنی ہو ئی ہے۔دنیا کے چند ملک ہی ایسے ہیں کہ جو دہشت گردی کے عفریت سے مکمل طور پر محفوظ ہیں۔بنیا دی طور پر دہشت گردی کے دو رخ ہوتے ہیں۔ دہشت گر دی کا ایک رخ یہ ہے کہ پرتشد طریقوں سے دہشت پھیلا ئی جا ئے۔ جبکہ دوسرے رخ کا تعلق دہشت گردی کے پس پردہ حقیقی معا شی اور سیا سی مقاصدکے حصول سے ہے۔بمبئی میں مقیم معروف دانشور، ڈاکٹر اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ممبئی کے پروفیسر رام پونیانی کی کتاب Deconstructing Terrorist Violence Faith as a Maskاس اعتبا ر سے اہم ٖ ہے کیونکہ ان کی کتاب ثابت کر تی ہے کہ آج کی دنیا میں دہشت گردی کے پس پردہ حقیقی مقاصد وسا ئل کی لوٹ اور سرما یہ دارانہ مفا دات ہیں نہ کہ مذہب۔

DeconstructingTerrorist Violence Faith as a Maskمیں رام پونیانی دہشت گردی کے مسئلہ میں موجود پیچیدگیوں کو بڑے احسن طریقے سے ایک عام قا ری کیلئے انتہا ئی آسان بنا کر پیش کرتے ہیں۔ان کے مطابق دہشت گردی ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس مسئلہ کا براہ راست تعلق وسائل کے حامل علا قوں اور خطوں کا کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ کتاب میں اپنے موقف کی سچائی کو ثابت کرنے کیلئے رام پونیا نی، ہنری کسنجر کا مشہور جملہ بھی پیش کرتا ہے کہ ”Oil is much too important a commodity to be left in the hands of the Arabs,,۔دہشت گردی کی مو جو دہ لہر میں عالمی سر ما یہ دارانہ اسٹبلشمنٹ کا کردار کلیدی ہے۔ رام پونیانی کے مطابق دہشت گردی کیلئے مذہب یا عقیدے کو حقیقی معاشی اور سیا سی مقاصد چھپانے کیلئے محض ایک نقاب کے طور استعمال کیا جا تا ہے۔اسلام کے بارے میں بھی رام پونیانی کا موقف ہے کہ اسلام بنیا دی طور پر دہشت پسند مذہب نہیں ہے بلکہ اس مذہب کو سامراجی طا قتوں اور کئی گروپس نے اپنے سامراجی، سیا سی اور معا شی مقاصد کیلئے استعما ل کرنے کیلئے اس میں تشدد کے رجحان کو شعوری طور پر فروغ دیا۔ رام پونیانی نے مہا تما گا ندھی، اندرا گا ندھی اور راجیو گا ندھی کی ہلا کتو ں کی مثا لوں سے واضح کیا کہ ان اہم سیاسی راہنما وں کے قتل میں کسی مسلمان کا ہا تھ نہیں تھا۔اسی طرح سری لنکا میں ایل ٹی ٹی ای،بھارتی پنجاب میں خالصتان تحریک اور آئرش قوم پرستی کے نا م پر قائم والی پرتشد دتنظیموں جنہوں نے ہزا روں افراد کی جان لی کا بھی دور دور تک اسلام سے کو ئی واسطہ نہیں رہا۔

Deconstructing Terrorist Violence Faith as a Maskکو چار حصوں اور آٹھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔پہلے حصے کا تعلق حا لیہ دور کی دہشت گردی سے ہے۔ کتا ب کا آخری حصہ بھی دراصل اس پہلے حصے کا ہی تسلسل ہے کہ جس میں لکھاری دہشت گردی کے حوالے سے ثقا فتی اور تہذیبی پہلووں کا جا ئزہ لیتاہے۔کتا ب کے دوسرے حصہ میں بھا رت میں ہونی والی دہشت گردی کے حوالے سے تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ تیسرے حصے میں القاعدہ اور ممبئی حملوں پربا ت کی گئی ہے۔

کتا ب میں صرف مو جو دہ دور ہی نہیں بلکہ دہشت گردی اورانتہا پسندی سے متا ثر ہو نے والے ملکوں اور اقوام کی تا ریخ سے بھی رجو ع کیا گیا ہے۔ پونیانی کے مطابق مسلمان ملکوں میں تنا زعات کی جڑیں ان ممالک کی سامراجی تا ریخ میں پیوست ہیں۔سامراجی ممالک نے ان مسلمان ممالک میں جا گیردارانہ نظام کو تقویت دی تاکہ عوام کی اکثریت کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔ان ممالک کی سما جی ترقی کی جانب کو ئی توجہ نہیں دی گئی۔

کتاب کے بڑے حصے میں بھا رت میں جا ری دہشت گردی کا بھی انتہا ئی با ریکی سے جا ئزہ لیا گیا ہے۔لکھا ری کے مطابق بھا رت میں ہونے والی دہشت گردی میں بڑا ہا تھ ایسی سیا سی قوتوں کا ہے کہ جو ہندوتوا کے نا م پر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہ رہی ہیں۔کتاب میں 2008کے بعد سے”سنگھ پریو ار“کی جا نب سے دہشت گردی کے حملوں کا جا ئزہ لیا گیا ہے۔ پونیانی کے مطابق ہندوراشٹر(ریا ست) بنا نے کیلئے سر گرم تنظیموں کی سیا ست ہندو ازم کے دو دھا روں ”برہمن دھا را“اور ”ہندوتوا“ دھا را کے تحت گھو متی ہے۔لکھا ری کے مطابق بھا رت میں دہشت گرد کا روائیاں الگ الگ نوعیت کی ہو تی ہیں اسلئے یہ ممکن ہی نہیں کہ بھا رت میں ہونی والی دہشت گردی کو صرف ایک ہی تنا ظر میں دیکھا جا ئے۔ پونیانی، بھا رتی پو لیس افسر ہمنت کرکرے کی مثال پیش کرتا ہے۔ہمنت کر کرے دہشت گردی کے ایسے واقعات کی تفتیش کر رہا تھا کہ جن میں ہندو انتہا پسند تنظیموں کا ہا تھ تھا۔

او ر اس فرض شنا س بھارتی پو لیس افسر کی تفتیش مکمل ہو نے کے قریب تھی کہ اسے ممبئی حملوں کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔ پونیانی کے مطابق انتہا پسند ہندو گروپ نے ممبئی حملوں کافا ئدہ اٹھا تے ہو ئے ہمنت کرکرے کو ہلا ک کردیا۔اس حوالے سے مہا را شٹرا کے سابق آئی جی پی پو لیس ایس ایم مشرف کی کتا ب کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں ممبئی حملوں کی تفتیش پر بہت سے سوالات اٹھا ئے گئے ہیں۔

پو نیانی کی کتا ب میں ”ہندو توا“ کی تحریک اور ارتقا کا بہت باریکی کے ساتھ تجزیہ کیا گیا ہے۔اس حوالے سے واضح طور پر یہ موقف اختیارکیا گیا ہے ”ہندو“”ہندو ازم“ اور ”ہندو توا“ میں بنیا دی طور پر بہت زیا دہ فرق ہے۔ پونیانی نے بہت سے مو رخین کی مثالوں سے ثابت کیا کہ جہاں تک ہندو ازم کا تعلق ہے تو یہ قطعی طور پر ایک مذہب نہیں تھا۔ برہمن ازم کی دھا را کو لیکر ہندو ازم کو با قاعدہ ایک شکل دینے کیلئے انیسویں صدی کے آخر میں جو تحریکیں چلا ئی گئی ان کا حتمی اظہا ر ہندو توا کی صورت میں سامنے آیا۔ پونیانی کسی بھی مذہب کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی میں کو ئی امتیاز نہیں کرتا کیونکہ کسی بھی مذہب کے نا م پر کی جانے والی دہشت گردی کے مقاصد صرف اور صرف سیاسی ہیں۔ہر طبقے کیلئے انصاف اور ترقی کے یکساں موقعوں کو پونیانی امن کیلئے بنیا دی شرط قرار دیتا ہے۔

پونیانی نے اپنی کتاب Deconstructing Terrorist Violence Faith as a Maskمیں جو بنیا دی موقف اختیا ر کیا ہے کہ یہ ہرگز نیا نہیں ہے۔دنیا بھر میں ایسی آوازیں مو جود ہیں کہ جو دہشت گردی کے نا سور کو کسی مذہب یا تہذیب کے ساتھ وابستہ کرنے کی بجا ئے اس کے معا شی اور سیا سی محرکا ت کو تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔ پونیانی کی کتا ب اس عقلی موقف کی تائید میں ایک اہم اضا فہ ہے۔مگر اس کے با وجود دنیا بھر میں دہشت گردی کے حقیقی اسبا ب اور خا ص طور پر مذہب کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی کے پس پردہ چھپے سا مراجی، معا شی اور سیا سی مقاصد کی طرف با لکل تو جہ نہیں دی جا تی۔دراصل سامراجی ممالک کے حکمران طبقات اور مذہب کے نا م پر دہشت گردی کرنے والے گرہوں کا مفا د اسی میں ہے کہ مشرقی مما لک کے ساتھ ساتھ مغربی عوام بھی دہشت گردی کے پس پردہ حقیقی معاشی اور سیا سی مقاصد کو سمجھنے کی بجا ئے اسے صرف ایک مذہبی مسئلہ ہی سمجھتے رہیں۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں