0

دھوپ کی نذر ہوئے پیٹرلگانے والے

دھوپ کی نذر ہوئے پیٹرلگانے والے

اس میں شک نہیں کہ دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے پاکستانی معیشت کو بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے اور آبپاشی کا نظام مزید مستحکم ہو جائے گا، زراعت ترقی کرے گی اور تربیلا ڈیم کی عمر میں مزید 35برس کا اضافہ ہو جائے گا۔ یہی نہیں بلکہ لاکھوں پاکستانیوں کے لئے روزگار کے ذرائع پیدا ہوں گے اور قومی بجلی گھر میں سالانہ 19000گیگاواٹ آور بجلی شامل ہوگی۔ پاکستان میں ہائیڈل ذرائع سے بجلی پیدا ہونے کے سبب ایسی گیسوں کا اخراج کم ہوگا جو تھرمل بجلی گھروں سے پیدا ہوتی ہیں اور گلوبل وارمنگ میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔

تاہم اس منصوبے کے مقامی ماحولیات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے جن کو کم کرنے کے لئے حکومت اور واپڈا مل کر بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ اس ڈیم کا سب سے بڑا اثر مقامی آبادی پر ہوگا اور ماحولیاتی ماہرین کے مطابق مقامی 31دیہاتوں سے لگ بھگ 30,000لوگوں کو بے گھر ہونا پڑے گاکیونکہ اس کے بغیر دیامیر بھاشا ڈیم اور اس کے ریزروائر کی تعمیر ممکن نہ ہو سکے گی۔ یہی نہیں بلکہ اس منصوبے کے سبب عین اس جگہ پر جہاں یہ ڈیم تعمیر کیا جا رہا ہے تقریباً 525,775درختوں کا نقصان ہوگا جنھیں صاف کرکے ڈیم کی بنیاد اٹھانا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق حکومت جہاں ان درختوں کے نقصان کا ازالہ دینا ہوگا وہیں پر چند قدیم اور نایاب درختوں کو نئی جگہ پر منتقل بھی کرنا ہوگا تاکہ ان کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ اس ضمن میں قائم کئے جانے والے ماڈل دیہاتوں کے قریب درختوں کی دوبارہ سے آبیاری ضروری ہے بلکہ ان علاقوں میں جو کہ سطح سمندر سے 1160سے 1170میٹر کی بلندی پر واقع ہیں، سڑکوں کا جال بھی بچھانا ہوگا۔ قدیم درختوں کی نئی جگہ پر منتقلی کا عمل کئی ایسے بڑے منصوبوں کے تعمیر کے دوران کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا ہے، امید ہے کہ واپڈا حکام اور حکومت بھی اس سلسلے میں عالمی تجربے سے فائدہ اٹھائے گی اور ان درختوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گی۔ اس ضمن میں متعلقہ حکام کے لئے سب سے بڑا چیلنج ان درختوں کی ہیئت اور ان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹرانسپورٹ کرنا ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ واپڈا یہ عمل کتنی کامیابی سے سرانجام دے پاتا ہے۔

یہی نہیں بلکہ مقامی آبادی کے اتنے بڑے حصے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا بھی کسی جوئے شیر لانے سے کم نہ ہوگا۔ ڈیم کی سطح سے نچلی سطح پر گھروں کی تعمیر، زبردستی ان کے ذرائع کاشت کاری کی سرگرمیوں اور جانوروں کی منتقلی بھی کسی چیلنج سے کم نہ ہوگی۔ اس سارے عمل میں ان روائتی دیہاتوں کا سوشل سٹرکچر بھی متاثر ہوگا جس کا ان کے ہمسایہ دیہاتوں پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔

ماحولیاتی ماہرین کے مطابق ڈیم کی تعمیر اس علاقے کے ماحولیات میں بڑی تبدیلیاں لے کر آئے گی جن میں آبادی کی منتقلی، زرعی زمین کے زیر آب آنا، اشیائے ضروریہ کی کمی، معاشی بنیاد میں  بگاڑاور دریا کے قدرتی بہاؤ میں تبدیلی، اس کے بہاؤ میں کٹاؤ اور تلچھٹ جیسے عناصر شامل ہیں۔ اس کے ساتھ مقامی آبی جانوروں، زمینی حشرات اور پرندوں پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہوں گے۔ خاص طور پر بعض ایک نایاب چٹانی سلسلوں کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ پاکستان میں بجلی کا بحران ایک بڑا بحران سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر جب کہ موجودہ بجلی کے ذرائع انتہائی مہنگے ہیں جس کے اثرات عام پاکستان کے طرز زندگی اور طرز معیشت پر بھی پڑتے ہیں۔ ان مسائل پر قابو پانے کے لئے بلاشبہ دیامیر بھاشا ڈیم جیسے منصوبے وقت کی اشد ضرورت ہیں کیونکہ ملک بھر میں پانی اور بجلی کی ڈیمانڈ میں آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور خاص طور پر ہائیڈرو منصوبے وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔

تاہم اس اہم منصوبے کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا اور حکومت کے اکابرین، خاص طور پر وزیر اعظم عمران خان کو مقامی ماحولیات پر پڑنے والے برے اثرات کے ازالے کا بھی سوچنا چاہئے کیونکہ عمران خان خود ماحولیات پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں بہت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان کا 10بلین ٹری کا منصوبہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ چنانچہ دیامیر بھاشا ڈیم کے گرداگرد قدیم اور نایاب درختوں کی حفاظت کا ذمہ انہیں خود اپنے سر لینا ہوگا!

سائے میں بیٹھی ہوئی نسل کو معلوم نہیں

دھوپ کی نذر ہوئے پیٹر لگانے والے

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں