Home » دھاندلی کے الزامات پر احتجاج جاری، گلگت میں فوج طلب

دھاندلی کے الزامات پر احتجاج جاری، گلگت میں فوج طلب

by ONENEWS

انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کے پیش نظر گلگت بلتستان کی نگراں حکومت نے گلگت اور چلاس میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے فوجی دستے طلب کیے ہیں۔

نگراں حکومت نے وزارت داخلہ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ 480 فوجی جوان طلب کیے ہیں۔ ان میں 300 گلگت اور 180 چلاس میں تعینات کیے جائیں گے۔ یہ تعیناتی 18 سے 23 نومبر تک ہوگی اور فوجی دستے سول انتظامیہ کی مدد کریں گے۔

حالیہ انتخابات کے دوران مبینہ دھاندلی کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات کی وجہ سے گلگت میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ گلگت شہر میں پیپلز پارٹی کے جمیل احمد اور تحریک انصاف کے فتح اللہ خان آمنے سامنے ہیں اور ان کے حامی سڑکوں پر ہیں۔

گلگت شہر کے ایل 2 میں الیکشن کی رات تک پیپلز پارٹی کا امیدوار 609 سے زائد ووٹوں کی برتری پر تھا مگر صبح اٹھے تو تحریک انصاف کا امیدوار 2 ووٹوں کی برتری سے جیت گیا تھا جس پر پیپلز پارٹی نے دھرنا دیا جہاں بلاول بھٹو نے بھی کارکنوں سے خطاب کیا۔ یہاں دو دن سے ووٹوں کی گنتی جاری ہے کسی بھی وقت نتیجہ متوقع ہے۔ یہاں سے مسلم لیگ ن کے حافظ حفیظ الرحمان تیسرے نمبر پر ہیں۔

چلاس میں بھی دھاندلی کے الزامات سامنے آئے ہیں جس پر مختلف امیدواروں کے حامیوں نے احتجاج شروع کردیا ہے۔

گلگلت بلتستان الیکشن: دوبارہ گنتی، دوبارہ پولنگ

گلگت بلتستان کی مختصر انتخابی تاریخ میں شاید یہ پہلے انتخابات ہیں جو اس قدر متنازع ہوچکے ہیں تمام اپوزیشن جماعتوں نے اسے یکسر مسترد کردیا ہے جبکہ اس نوعیت سے بھی یہ واحد انتخابات ہیں جس میں خلاف توقع وفاق میں حکمران پارٹی بھی سادہ اکثریت حاصل نہ کرسکی۔ اب تحریک انصاف کو وفاق، پنجاب اور بلوچستان کی طرح گلگلت میں بھی آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں کے ساتھ ملکر اتحادی حکومت بنانا ہوگی۔

اس وقت گلگت بلتستان کے انتخابات میں تحریک انصاف کو 8 نشستوں پر یقینی فتح مل چکی ہے جبکہ ایک اور نشست پر دوبارہ گنتی جاری ہے، شاید سیٹیں بڑھ کر 9 ہوجائیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو تین نشستوں پر کامیابی مل چکی ہے جبکہ چوتھی نشست کی خواہش میں دوبارہ گنتی کروا رہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی ایک نشست پکی ہے جبکہ دوسری نشست پر دوبارہ گنتی ہونی ہے۔ مجلس وحدت المسلین کو بھی ایک سیٹ ملی ہے۔

کہاں کیا تنازع ہے

حلقہ نمبر 2 گلگت میں پیپلز پارٹی کے جمیل احمد اور تحریک انصاف کے فتح اللہ خان کے درمیان تنازع ہے۔ الیکش کی رات تک پیپلز پارٹی کا امیدوار 609 سے زائد ووٹوں کی برتری پر تھا مگر صبح اٹھے تو تحریک انصاف کا امیدوار 2 ووٹوں کی برتری سے جیت گیا تھا جس پر پیپلز پارٹی نے دھرنا دیا۔ یہاں دو دن سے ووٹوں کی گنتی جاری ہے کسی بھی وقت نتیجہ متوقع ہے۔ یہاں سے مسلم لیگ ن کے حافظ حفیظ الرحمان تیسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ نمبر 17 داریل میں جمعیت علمائے اسلام کے رحمت خالق کی جیت کا نوٹیفیکیشن ہوچکا ہے مگر تحریک انصاف کے امیدوار حاجی حیدر خان کی درخواست پر خواتین کے ایک پولنگ اسٹیشن میں دوبارہ انتخابات کا فیصلہ ہوا ہے۔ بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے بھی کہا تھا کہ اس پولنگ اسٹیشن پر خواتین کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا گیا۔

حلقہ 21 یاسین میں مسلم لیگ ن کے غلام محمد کی جیت کا نوٹیفیکیشن ہوچکا ہے مگر پیپلز پارٹی کے امیدوار ایوب شاہ کی درخواست پر ایک پولنگ سٹیشن میں دوبارہ پولنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق اس پولنگ اسٹیشن کے بیلٹ باکس کو غیرقانونی طریقے سے دوسرے مقام پر منتقل کیا گیا، جب پولیس نے برآمد کیے تو وہ ٹوٹے ہوئے تھے۔

ماضی کے انتخابات کا جائزہ

فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں 2004 کے انتخابات کے دوران وفاق کی طرح گلگت بلتستان میں بھی مسلم لیگ ق کی حکومت تھی۔

جب وفاق میں پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی تو 2009 کے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی 13 سیٹیں نشتیں جیت کر اکثریتی پارٹی بن گئی تھی اور مہدی شاہ یہاں کے وزیراعلیٰ بنے۔

اس کے بعد 2015 کے انتخابات کے وقت پاکستان میں نواز شریف کی حکومت تھی۔ اس لیے گلگت بلتستان کے انتخابات میں مسلم لیگ نے 15 سیٹیں جیت کر حکومت قائم کی اور حافظ حفیظ الرحمان کو وزیراعلیٰ بنا دیا۔

You may also like

Leave a Comment