0

دِلوں کا چودھری(چودھری نذیر احمد)

دِلوں کا چودھری(چودھری نذیر احمد)

2020ء کا سال عالم دُنیا کے لئے بالعموم اور اُمت مسلمہ کے لئے بالخصوص ایسی آزمائشوں کا سمندر لے کر طلوع ہوا ہے، جس میں دُنیا بھر کی ترقی دھیرے دھیرے غرق ہو رہی ہے، ایسی تاریخ جنم لے رہی ہے جس کا نوع انسانی کو ماضی میں واسطہ نہیں پڑا، مصروف ترین شخصیات کو بھی گھروں میں قید کر کے موت کو باہر دہلیز پر کھڑا کر دیا ہے۔دُنیا کی سب سے بڑی حقیقت ”موت“ سے چشم پوشی کر کے دُنیا کو غلام بنانے اور فتح کرنے کے دعوے دار بھی موت کے بعد کی تیاریوں کا درس دینے کی بجائے موت سے بچاؤ کے نسخے بتانے میں مصروف ہیں، حالانکہ بحیثیت مسلمان دُنیا کی عارضی زندگی حقیقی ابدی زندگی کی تیاری کا ذریعہ ہے، کورونا کی وبا نے جہاں دُنیا کو بڑی تباہ کاریوں سے روشناس کرایا ہے وہاں زندگی کے مختلف رموز سے آگاہ بھی کیا ہے۔ عالم انسانیت کو زندگی کی اصل حقیقت کا بھی پتہ چل رہا ہے، زندگی کو جلا بخشنے والی شخصیات ایک ایک کر کے اصل سفر حیات کی طرف گامزن ہیں۔فروری2020ء سے شروع ہونے والی قیامت خیز گھڑیاں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہیں، زندگی کے انمول ہیرے تیزی سے ساتھ چھوڑ کر منزل پاتے ہوئے نعرہ بلند کررے ہیں، ”ہم تو چلے بھائی اب آپ کی باری ہے“۔

مئی اور جون2020ء تو موت کی ایسی داستانیں رقم کر رہا ہے، بڑے بڑے سہم کر رہ گئے ہیں۔ آج کا خصوصی کالم اپنے جان سے پیارے عزیز اخبار فروشوں کے سرخیل دلوں کے چودھری اپنے بھائی چودھری نذیر احمد کے نام کر رہا ہوں، جن کے ساتھ گزشتہ23سال کا ایسا تعلق تھا جو کسی بھی رشتے داری سے زیادہ مضبوط اور پاکیزہ ہے۔ چودھری نذیر جو آج ہم میں نہیں رہا،اخبار فروشوں کا درد رکھنے والا مخلص باوقار لیڈر اور دوستوں کا دوست تھا،چودھری نذیر احمد نے 20برسوں میں اخبار فروش یونین کے تاحیات صدر چودھری رشید احمد کی جانشینی کا حق ادا کر کے دکھایا۔ گزشتہ 20برسوں کی کارکردگی اور عملی جدوجہد کا شاہد ہوں، انہوں نے کسی اخبار فروش کے دُکھ درد خوشی غمی کو نہیں چھوڑا، کبھی کسی کو ناراض نہیں کیا، ہمیشہ جوڑنے کی بات کی، ماضی قریب میں جب صوبائی وزیر اطلاعات محترم فیاض الحسن چوہان دیگر اخبارات کے ساتھ ساتھ روزنامہ ”پاکستان“ کے حوالے سے بعض غلط فہمیوں کا شکار ہوئے تو چودھری نذیر احمد اس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھے جب تک ہمارے ادارے روزنامہ ”پاکستان“ کے ساتھ پائی جانے والی غلط فہمیاں دور نہیں کرا دیں۔ پلے سے خرچ کرنے والی انمول شخصیت تھے، مَیں نے تعلق اور دوستی کو نبھانے کا فن چودھری نذیر احمد سے سیکھا ہے، انبالہ کے آرائیں ہونے کا انہیں بڑا مان تھا، انبالہ کے آرائیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ان کا مشن رہا۔ انبالہ کے آرائیوں کے دونوں دھڑوں میں یکساں مقبول تھے،دونوں دھڑوں نے انہیں خود ہی عہدہ دے رکھا تھا۔ میرے ساتھ ان کے تعلق کی مضبوطی کا باعث اخبار مارکیٹ کی دوسری مقبول شخصیت اور چودھری نذیر احمد کے حقیقی جانشین کے طور پر لوہا منوانے والے میرے بڑے بھائی چودھری عاشق علی ہیں اللہ ان کو سلامت رکھے۔ میری اور اخبار فروشوں کی آخری امید اب چودھری عاشق علی ہی رہ گئے ہیں،جو اپنی شخصیت میں ایک انجمن ہیں۔

چودھری نذیر احمد کی زندگی کے بڑے روشن پہلو ہیں، جن کو ایک کالم میں سمونا ممکن نہیں ہے، چودھری نذیر احمد نندی پور سے لاہور کا سفر تحریر کر چکے ہیں، پٹیالہ ہاؤس کے باسی چودھری نذیر احمد کے دیوانے ہیں، کیونکہ چودھری نذیر احمد کی سوشل ورکر کی حیثیت سے شخصیت کے نمایاں پہلو انہیں ہمیشہ صدقہ جاریہ کے طور پر جاری ساری رہیں گے۔میاں شہباز شریف، سردار ایاز صادق، سابق سپیکر قومی اسمبلی سے خوب تعلق داری نبھائی اور اہل علاقہ کے لئے ڈسپنسری، دستکاری سکول، یتیم بچوں کا ادارہ قائم کیا۔ مسلم لیگ(ن)، پیپلزپارٹی کے دور میں زکوٰۃ کمیٹی کے چیئرمین رہے اب بھی چودھری مشتاق کی اہلیہ کے جنازے کے دن میرے ساتھ چار گھنٹے گزارے، ڈیڑھ گھنٹہ ہمارے گھر اقبال ٹاؤن میں دل کی باتیں کرتے رہے، مجھے بتانے لگے میاں صاحب پی ٹی آئی والوں نے مجھے پھر زکوٰۃ کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا ہے، ہر سال غریب بچیوں کی شادیوں کی تقریب اور جہیز کی فراہمی کی تقریب ان کی زندگی کا حصہ رہی، میرے یونیورسٹی کے پروفیسر اور قومی ڈائجسٹ کے ایڈیٹر محترم پروفیسر خالد ہمایوں سے مَیں نے محترم شامی صاحب کی اجازت سے چودھری نذیر احمد صاحب کے انٹرویو کا وقت طے کیا تو خالد ہمایوں صاحب کے ساتھ صبح ہی چودھری نذیر احمد کے گھر پہنچ گئے، دو گھنٹے سے زائد وقت ان کے ساتھ گزارا، پُرتکلف ناشتہ کرایا، مَیں نے تفصیلی انٹرویو کے حوالے سے مزید مواد دینے کی بات کی تو بہت ساری باتیں تحریر کرنے کے ساتھ ساتھ ایسی یاد گار اور منفرد تصاویر فراہم کر دی جنہوں نے مجھے چودھری نذیر احمد کی زندگی کے مزید روشن پہلوؤں سے آگاہ کر دیا۔

پتہ چلا چودھری نذیر احمد تو اپنے لئے تو کم دوسروں کی زندگیوں کو سنوارنے اور بنانے کے لئے زندہ رہے۔ہفتہ میں تین سے چار دفعہ روزنامہ ”پاکستان“ ان کی آمد یقینی ہوتی تھی۔ پاکستان آفس آئیں اور ان سے ڈھیرں باتیں نہ ہوں ممکن نہ تھا۔ ایک دن مجھے حکم دیا، میرے30سال پرانے دیال سنگھ کے استاد اور موجودہ پنجاب گروپ آف کالجز شعبہ کیمسٹری کے ہیڈ میاں جمیل کے گھر جانا ہے، ملک منظور صاحب کے ساتھ فوٹو گرافر کی شرط رکھ دی۔ میاں جمیل صاحبDHA میں پھولوں والے گھر میں نمایاں پوزیشن لینے کی حیثیت سے مشہور ہیں،ان کے ساتھ پُرتکلف کھانا کھایا، پھر میجر وسیم انور چودھری کے دفتر حاضری دی۔میاں جمیل صاحب کے لئے خصوصی اشاعت منظر عام پر آنے تک آرام سے نہیں بیٹھے۔ اخبار مارکیٹ کی مقبول عام شخصیت اخبار فروشوں کے دِلوں کے دھڑکن چودھری عاشق علی نے ایک دن اپنے گھر پُرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا تو مجھے کہنے لگے میاں سالک جلال صاحب ڈی آئی جی جیل خانہ جات، ملک الیاس سیکرٹری اخبار فروش یونین اور ملک منظور صاحب جی ایم سرکولیشن آپ کے ساتھ ہوں گے، تین گھنٹے کی طویل نشست میں بے شمار یادیں اور نصیحتیں ہمارے لئے چھوڑ گئے۔

اخبار فروشوں کی فوتگی اور خوشیوں میں اکثر ہم ایک ساتھ جاتے تھے۔گزشتہ ایک سال سے بضد تھے کہ اپنے بھتیجے چودھری خلیق کو اپنی شاگردی میں لے لوں، کئی دفعہ میرے پاس بھیجا انہیں کاروبار کرانے کے شدید خواہش مند تھے۔ چودھری نذیر احمد اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں ان کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے سعادت مند اور فرمانبردار ہیں بیٹیاں کنیرڈ کالج میں زیر تعلیم ہیں، بیٹے تعلیم مکمل کر کے اخبار مارکیٹ میں ساتھ دینے کی کوشش کر رہے تھے، میرے ساتھ دِل کی بات کر لیتے تھے، مجھے کہتے تھے مَیں نے اپنے بچوں کی شادیاں خاندان میں نہیں کرنی، باہر کرنی ہیں اور آپ نے کروانی ہیں۔زندگی کی آخری نشست میں میرے گھر آئے،خوبصورت کیک لائے اور فرمانے لگے میاں صاحب والد صاحب نے بچوں کی شادیاں برادری سے باہر کرنے سے سختی سے منع کر دیا ہے ان کا حکم ہے خاندان میں کرنی ہیں اور انبالہ کے آرائیوں میں کرنی ہیں۔اس حوالے سے مختلف قریبی رشتے داروں جن سے میں بھی آگاہ ہوں، ہم جوڑتے رہے چودھری مشتاق کی اہلیہ کے جنازے کے بعد رانا منیر فوت ہوئے، ان کی نماز جنازہ میں نہ آ سکے، پندرہ دن پہلے اچانک تکلیف کی وجہ سے محترم شامی صاحب کے فون اور چودھری عاشق اور سلطان تنولی کی کوششوں سے میاں نواز شریف ہسپتال یکی گیٹ میں داخل ہوئے، اُس وقت کورونا کی علامات کی وجہ سے داخل ہوئے۔ ان کی بیگم نے چودھری نذیر کی بیماری اور ہسپتال میں داخلے کا سنا تو وہ بھی گر گئیں اور وہ بھی ایک ہفتہ تک اپنے میاں چودھری نذیر احمد کے برابر والے بیڈ پر زیر علاج رہیں۔ چودھری نذیر احمد اور ان کی بیگم کی بیماری کا سن کر چودھری نذیر احمد صاحب کے والد محترم بھی بیڈ سے جا لگے انہیں ہسپتال میں داخل کرانا پڑا، چودھری نذیر احمد کے صاحبزادے چودھری خلیق نے چودھری نذیر احمد کی وفات سے ایک دن پہلے مجھے بتایا دُعا کریں چودھری صاحب بہتر ہو رہے ہیں ان کا کورونا ٹیسٹ بھی منفی آیا ہے، مَیں خوش ہو گیا، شام کو چودھری عاشق کو فون کیا تو وہ رو رہے تھے اور دُعا کی درخواست کر رہے تھے۔

جمعتہ المبارک کی صبح دو بجے چودھری نذیر احمد کی جدائی کی قیامت خیز خبر آ گئی، پھر اہل لاہور نے دیکھا کورونا کے خوف کو پس ِ پشت ڈالتے ہوئے لاہوریوں نے نمازِ جنازہ میں شریک ہو کر ثابت کیا چودھری نذیر واقعی دِلوں کا چودھری تھا۔اخبار فروشوں کو روتے دیکھا۔ چودھری نذیر احمد کے ویسے تو بے شمار جانثار اور ساتھی ہیں مگر جو درد اخبار فروشوں کا چودھری عاشق رکھتے ہیں مجھے یقین ہے اخبار فروشوں کو چودھری نذیر احمد کے جانشین کے انتخاب میں مشکل نہیں آئے گی۔ چودھری عاشق علی دوستوں کو جوڑنے کا فن بھی جانتے ہیں اور لیڈر کی خصوصیات بھی ان میں موجود ہیں چودھری نذیر احمد کے دِل کے بھی قریب رہے ہیں۔ سیکرٹری ملک الیاس کے بھی یار ہیں امید کی جا سکتی ہے چودھری عاشق اور ملک الیاس مل کر یتیم ہونے والے اخبار فروشوں کی کشتی کو مل کر پار لگائیں گے۔

”دِلوں کے چودھری“ تاحیات صدر چودھری رشید کے جانشین چودھری نذیر احمد بھی تاحیات صدر کا عہدہ پا گئے، اللہ تعالیٰ ان دونوں کی قبروں کو جنت کی قبریں بنائے اور ان کی غلطیوں سے درگزر فرمائے، آمین

مزید :

رائےکالم





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں