Home » دُھندلا نیا پاکستان

دُھندلا نیا پاکستان

by ONENEWS

ڈنڈی “نیا پاکستان”

دھن، دھونس یا دھاندلی سے الیکشن جیتنے کا تو سینکڑوں بار سنا تھا، لیکن دھند کا ذکر پہلی بار ڈسکہ میں NA-75 کے ضمنی انتخاب میں نتیجہ آنے کے بعد سنا۔ رات کو جب مختلف پولنگ سٹیشنوں کے نتیجے آ رہے تھے اور 361 میں سے صرف بیس پچیس کے قریب پولنگ سٹیشنوں کا نتیجہ باقی رہ گیا تھا تو اس وقت مسلم لیگ (ن) کی لیڈ چار ہزار کے قریب تھی۔ تقریباً 95 فیصد نتائج آنے کے بعد چار ہزار کی لیڈ ختم کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے، کیونکہ بقیہ 5 فیصد میں جب تک دوسرا امیدوار تقریباً 100 فیصد کے ٹرن آؤٹ کے ساتھ تقریباً 100 فیصد ووٹ نہ لے، وہ سبقت نہیں لے سکتا۔ مَیں نے ایک دوست کو فون کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی جیت یقینی ہے تو اس نے کہا کہ وہ سونے جا رہا ہے اور نہ ہی نتیجہ سن رہا ہے، کیونکہ پاکستان میں اکثر ”اصل“ نتیجہ صبح آتا ہے۔ میں نے جب اصرار کیا کہ جتنے کم پولنگ سٹیشنوں کا نتیجہ رہ گیا ہے اس میں یہ لیڈ ختم کرنا ناممکن ہے تو اس نے مجھے بھی سو جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ”کچھ بھی“ ممکن ہے اس لئے صبح بات کریں گے۔ سونے سے پہلے میں سوچ رہا تھا کہ کیسے ممکن ہے کہ کرم (سابق ایجنسی) کے دور افتادہ حلقہ جہاں انتہائی دشوار گذار راستے اور مشکل پہاڑ ہیں، کا نتیجہ تو کئی گھنٹے پہلے آگیا تھا، لیکن ڈسکہ جیسے نیم شہری حلقہ کے نتائج نہیں پہنچ رہے۔

ویسے بھی کمیونی کیشن کے جدید ذرائع جیسے انٹرنیٹ، واٹس ایپ اور موبائل فون کا زمانہ ہے، جس میں ہر اطلاع اسی سیکنڈمیں دنیا کے ہر کونے میں پہنچ جاتی ہے۔ شائد کرم کے نتائج جیٹ جہاز پر آئے تھے او ر ڈسکہ سے پیدل آرہے تھے۔ اسی ادھیڑ بن میں سو گیا، لیکن صبح وہی ہوا، جس کے بارے میں دوست نے کہا تھا کہ ”کچھ بھی“ ممکن ہے، کیونکہ ”اصل“ نتیجہ صبح آتا ہے۔ میں نے شائد چالیس پچاس برس پہلے زمانہ طالب علمی میں ”شہاب نامہ“ پڑھا تھا،جس سے پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ انتخابات میں بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مضبوط ترین اور یقینی جیت والے امیدواروں کے مقابلہ میں بعض اوقات وہ جیت جاتے ہیں،جنہیں مقتدرہ چاہتی ہے۔ شہاب صاحب نے ایسے کئی واقعات اپنی آپ بیتی میں لکھے۔ وہ سوویت یونین کا دور تھا اور یہ لطیفہ بھی مشہور تھا کہ کریملن میں چوری ہوگئی، چور قیمتی سامان کے علاوہ اگلے ہونے والے الیکشن کا نتیجہ بھی ساتھ لے گئے۔ اسی طرح بعض آمروں کے قول پڑھ رکھے تھے کو ووٹ لوگ ڈالتے ہیں، لیکن گنتے وہ ہیں، وغیرہ وغیرہ۔لیکن یہ سب تو ”پرانے“پاکستان کی یادیں تھیں، نئے پاکستان میں یہ سب کیوں ہوتا کیونکہ دعوی تو”سٹیٹس کو“ توڑنے کا تھا۔

ابھی دیکھنا باقی ہے کہ ڈسکہ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، کیونکہ تادم تحریر الیکشن کمیشن نے نتیجہ روک کر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔الیکشن کمیشن پاکستان اور پنجاب نے الگ الگ پریس ریلیزیں جاری کی ہیں، جن میں 20 پولنگ سٹیشنوں پر ممکنہ گڑ بڑ کے

خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی ان پریس ریلیزوں میں بتایا گیا کہ نتائج غیر ضروری تاخیر کے ساتھ موصول ہوئے اور اس دوران لاپتہ پریزائیڈنگ افسران سے رابطہ کی متعدد کوششیں ناکام ہوئیں۔آئی جی پنجاب، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ سے رابطوں کی کوششوں کا بھی کوئی جواب نہ ملا۔ چیف سیکرٹری پنجاب سے صبح تین بجے رابطہ ہوا،جس میں انہوں نے گمشدہ افسران اور تھیلوں کی بازیابی کی یقین دہانی کروائی، لیکن اس کے بعد انہوں نے بھی اپنے آپ کو غیر دستیاب کر لیا۔ کافی تگ و دو کے بعد بالآخر پریزائیڈنگ افسرا بمع تھیلوں کے صبح چھ بجے حاضر ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ر یٹرننگ افسر اور ڈپٹی ریٹرننگ افسر نے اطلاع دی کہ 20 پولنگ سٹیشنوں کے نتائج میں ردوبدل کا خدشہ ہے لہذا مکمل انکوائری کے بغیر حلقہ کا نتیجہ جاری کرنا ممکن نہیں۔ الیکشن کمیشن نے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری کی بھی نشاندہی کی ہے۔ مریم نواز شریف درست کہہ رہی ہیں کہ الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز حکومت اور اداروں کے خلاف چارج شیٹ ہے۔ میاں نواز شریف نے مشکوک پولنگ سٹیشنوں کے 90 فیصد ٹرن آؤٹ  کو ”معجزاتی“ کہتے ہوئے اسے ”سلیکٹڈ اور سلیکٹرز“ کے خلاف FIR قرار دیتے ہوئے اس گھناؤنے کھیل میں ملوث کرداروں کے خلاف سخت ترین کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومتی وزرا کی غیر ذمہ داری کا یہ عالم ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے نتیجہ روک لینے کے باوجود فتح کے پیغامات اور ٹویٹس کا سلسلہ جاری رہا۔ نئے پاکستان کی ناکامی میں ان وزراء اور حکومتی ترجمانوں کے شاہ سے بڑھ کر وفاداری کے رویوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔

ڈسکہ میں ڈسکو ڈانس ہوتا ہے یا یہ نئے پاکستان کی امیدوں کو ڈس لیتا ہے، اس کا اندازہ تو منگل کو الیکشن کمیشن کے اجلاس میں کئے جانے فیصلہ کے بعد ہو گا، لیکن اگر ایک طرف 19 فروری کو ”نیا پاکستان“ دھندلایا تو اس کے اگلے ہی دن امید کی دو نئی کرنوں نے دھندلاہٹ کم کی۔ امید کی ایک کرن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا بلدیاتی الیکشن کیس میں اختلافی نوٹ اور دوسری کرن الیکشن کمیشن پاکستان کا مضبوط موقف پر ڈٹ جانا اور دباؤ میں نہ آنا ہے۔ پاکستان میں الیکشن کمیشن روائتی طور پر بے بس، مجبور اور لاغر رہا ہے، لیکن شائد اب وہ بھی چیخ پڑا ہے اور اگر وہ حق پر ڈٹا رہا تو مستقبل میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے اور ممکن ہے یہ بھی بھارت کے الیکشن کمیشن کی طرح مضبوط اور غیر جانبدار ہو جائے۔نیب، اعلیٰ عدلیہ اور دوسرے طاقتور اداروں کو بھی غیر جانبداری اور انصاف سے کام لینا چاہئے  تاکہ ملک انارکی کی طرف نہ جائے۔ ضمنی الیکشن میں ہم نے ڈسکہ میں الطاف حسین والے کراچی کے مناظر دیکھے ہیں، جس کی وجہ سے ”نیا پاکستان“ دھندلا گیا ہے۔ اب بھی وقت ہے ملک پر چھائی دھند ختم ہو سکتی ہے اگر تمام ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے قانون کی حکمرانی اور آئین کی عملداری کو یقینی بنائیں۔ نئے پاکستان والوں کو بھی چاہئے کہ ملک کو پرانے سے بھی زیادہ پرانے (1971ء سے پہلے والے) پاکستان میں واپس نہ دھکیلیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment