Home » دستور ہی اصل طاقت ہے

دستور ہی اصل طاقت ہے

by ONENEWS

اسلام آباد میں سینئر ایڈیٹرز اور کالم نگاروں سے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے وہ بات کہہ دی جو انہیں بہت پہلے کہنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا میں پُراعتماد ہوں دستور میرے ساتھ ہے۔ اس سے پہلے وہ  یہ کہتے تھے کہ فوج ان کے ساتھ ہے یا اسٹیبلشمنٹ کا انہیں اعتماد حاصل ہے۔ ایک جمہوری و آئینی حکمران کی سب سے بڑی طاقت ملک کا دستور ہوتا ہے۔اسی دستور کے تحت وہ اختیارات پاتا اور استعمال کرتا ہے۔ ملک میں جتنے بھی ادارے ہیں وہ دستور کے تابع ہیں، اگر دستور کی اطاعت نہیں کرتے تو گویا خود بھی اختیارات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو وزیراعظم عمران خان کا بیانیہ بھی اپوزیشن کے بیانیے سے آملا ہے جو یہ اعلامیہ کر رہی ہے کہ ملک میں آئین کی بالادستی قائم کی جائے اور پارلیمنٹ کے آئینی اختیار نیز سپرمیسی کو تسلیم کیا جائے۔ فوج ہو یا اسٹیبلشمنٹ اسے بہر طور ایک منتخب وزیراعظم کی آئینی بالادستی ماننا پڑے گی، اسے یہ کہنے کی ضرورت  ہی پیش نہیں آنی چاہیے کہ فوج کی حمایت حاصل ہے۔ جب آئین یہ کہتا ہے کہ ملک میں ایک پارلیمنٹ ہو گی، وہی ملک کے وزیراعظم کو منتخب کرے گی اور منتخب وزیراعظم کابینہ کی مشاورت سے نظام حکومت چلائے گا۔ ہمارے ہاں اس حقیقت کو نہیں مانا گیا، گنگا اُلٹی بہائی گئی، ریاستی ادارے پارلیمنٹ پر حاوی ہوتے رہے۔ آئین کو پی سی اوز کے تحت پامال کیا گیا۔ نظریہء ضرورت کی کند چُھری ایجاد کی گئی، جسے بدقسمتی سے ملک کی اعلیٰ عدلیہ بھی آئینی جواز فراہم کرتی رہی، جس کی آئین میں قطعاً گنجائش موجود نہیں تھی۔ اس سے جن خرابیوں نے جنم لیا، ان سے کون واقف نہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا یہ تازہ بیانیہ انہیں بڑی تقویت دے سکتا ہے۔ وہ جب اپوزیشن کو ڈرانے کے لئے یہ کہتے تھے کہ فوج ان کے ساتھ کھڑی ہے تو درحقیقت وہ اپوزیشن کو یہ راہ دکھا رہے ہوتے تھے کہ مجھے کمزور کرنا ہے تو فوج کو مجھ سے دور کرو، وہ اس بات سے اپوزیشن کے اس الزام کو بھی سچ ثابت کر رہے ہوتے تھے کہ انہیں سلیکٹرز لائے ہیں اور وہ منتخب نہیں اسٹیبلشمنٹ کے سلیکٹڈ وزیراعظم ہیں۔ ایسا پہلی بار کسی وزیراعظم نے کھل کر کہا تھا کہ فوج ان کے ساتھ کھڑی ہے، وگرنہ ماضی میں  یہ بات ہمیشہ ڈھکی چھپی رہتی تھی۔ اسے وزیراعظم کا بھولپن کہیں یا ناتجربہ کاری کہ وہ ایسا کہہ کر اپنے ساتھ ساتھ فوجی قیادت کو بھی متنازعہ بناتے رہے۔ یہ بات تو کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ فوج وزیراعظم کے ساتھ ہے، ایسا تو ہونا ہی چاہیے اور آئین کی روح اور منشا بھی یہی ہے۔ نوازشریف آج جس بیانیے کو لے کر فوج پر تنقید کر رہے ہیں، اسے اختیار کرنے کی نوبت نہ آئی، اگر وہ اقتدار کے دنوں میں اپنے اعمال سے یہ ثابت کرتے کہ ان کی اصل طاقت دستور ہے۔کیا یہ بات حقیقت نہیں کہ نواز شریف نے بھی پارلیمنٹ کو بائی پاس کرکے حکمرانی کی، دستور کو ایک طاقت ماننے کی بجائے رکاوٹ سمجھا اور اختیارات سے تجاوز کیا۔ مزاج میں جلد بازی اور خبط اختیارات کا عنصر اتنا زیادہ تھا کہ آرمی چیف کا طیارہ اترنے سے پہلے ہی انہیں تبدیل کرکے اپنا من پسند شخص چیف آف آرمی سٹاف بنا دیا۔

موجودہ حکومت نے پچھلے اڑھائی برسوں میں کیا نہیں کیا۔ پارلیمنٹ جو قانون سازی کا ادارہ ہے، اسے بائی پاس کرکے صدارتی آرڈیننسوں کے ذریعے کام چلایا جا رہا ہے۔ اگر آئین کی بالادستی کا اظہار کرنا ہے تو اس کا سب سے بڑا مرکز پارلیمنٹ ہے۔ اگر پارلیمنٹ اپنی مضبوطی کا تاثر قائم نہیں کر سکی تو سمجھو کہ آئین کی بالادستی بھی مشکوک ہو گئی۔ خود وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کو وہ اہمیت نہیں دی، جس کی وہ مستحق ہے اور جس کی وجہ سے عمران خان کی آئینی طاقت مزید بڑھ سکتی ہے۔ اسی اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہر ہفتے اسمبلی میں آکر سوالوں کا جواب دیں گے، لیکن پھر سب نے دیکھا کہ وہ مہینوں اسمبلی سے غائب رہنے لگے اور سوائے ناگزیر حالات کے اسمبلی میں نہ آئے۔ میرا خیال ہے کہ اگر وہ پارلیمنٹ میں باقاعدگی سے آتے، اپوزیشن کے سوالوں کا جواب دیتے تو اپوزیشن اور حکومت کے درمیان وہ خلیج پیدا نہ ہوتی، جس کا آج سامنا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے بات تک کرنے کو تیار نہیں۔

اب آتے ہیں اس باریک نکتے پر کہ دستور کی طاقت وزیراعظم عمران کو کیسے ہر مشکل سے بچا سکتی ہے۔ اگر وہ خود عملاً دستور کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو اپوزیشن کی جتنی بھی تحریک چلے، ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ کل انہوں نے کہا ہے کہ وہ پُراعتماد ہیں کہ دستور ان کے ساتھ ہے۔ اس بات میں نہ صرف اپوزیشن کے لئے پیغام ہے، بلکہ ان قوتوں کے لئے بھی جو خلاف دستور اقدامات کے ذریعے حکومتیں گراتی رہی ہیں۔ دستوری طریقے سے حکومت ختم کرنی ہے تو اپوزیشن کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر سے تبدیلی لائے۔ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کو ختم کرے۔ سڑکوں پر ریلیاں، جلوس، جلسے اور دھرنے دستور کی طاقت کو نہیں روند سکتے۔ اپوزیشن کا تضاد تو یہی ہے کہ وہ ایک طرف ”ووٹ کو عزت دو، آئین کی بالادستی قائم کرو، پارلیمنٹ کی خود مختاری بحال کرو“…… جیسے مطالبات کرتی ہے، مگر دوسری طرف احتجاجی جلسوں اور ریلیوں سے وزیراعظم کو نکالنا چاہتی ہے۔ کیا اپوزیشن یہ تسلیم کرتی ہے کہ ملک میں آئین سپریم نہیں، بلکہ کچھ ریاستی قوتیں سپریم ہیں جو آئین سے ماورا اقدامات اٹھا کر ان کے مطالبات پورے کر سکتی ہیں۔ اپنے آپ کو دستور کے ساتھ جوڑ کر وزیراعظم عمران خان نے ایک ایسا یوٹرن لیا ہے جسے پہلی بار ایک بہترین یوٹرن کہا جا سکتا ہے، اگر وہ اس پر قائم رہتے ہیں اور اپنی حکومت کو بھی دستور کے تابع رکھ کر چلاتے ہیں تو ان پر چھائے مشکلات کے بادل چھٹ سکتے ہیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment