Home » دریائے راوی پر خوابوں کے شہر کی تعمیر

دریائے راوی پر خوابوں کے شہر کی تعمیر

by ONENEWS

فوٹو: آن لائن

رپورٹ: تنویر احمد

دریا کے بیچوں بیچ ایک جزیرے پر آسمان کو چھوتی کئی چمکدار عمارتیں بنی ہیں جن میں سے ہر ایک کا رخ پانی کی طرف ہے۔ ان کے آس پاس گذرتی شفاف اور کشادہ سڑکوں کے کنارے ہرے بھرے درخت کھڑے ہیں۔ جزیرے کے ایک بڑے حصے پر ایک وسیع و عریض پارک ہے جس کے سر سبز لان اور سفید محرابیں اسے زمانہِ قدیم کی کسی شاہی سیر گاہ کا ہم پلہ بنا رہے ہیں۔ اس میں بچے کھیل رہے ہیں، جوان لوگ چل پھر رہے ہیں اور بڑے بوڑھے ٹولیوں میں بیٹھے خوش گپیاں کر رہے ہیں۔

نیوز ویب سائٹ سجاگ کی رپورٹ کے مطابق 2 ہزار 200 ایکڑ پر بھیلے ہوئے اس جزیرے کے دونوں طرف دریا کا نیلا پانی بہہ رہا ہے جو اس قدر صاف ہے کہ اس میں تیرتی مچھلیاں اور دوسرے آبی جانور بآسانی دیکھے جا سکتے ہیں۔ دریا کے دونوں اطراف دور دور تک گھنے درخت دکھائی دیتے ہیں اور اس کی شفاف سطح پر رنگ برنگی کشتیاں چل رہی ہیں جن میں بیٹھے لوگ اس تمام خوش نما منظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ کچھ لوگ دریا پر بنے مختلف پلوں سے اس کا نظارہ کر رہے ہیں۔

اگر لاہور کے شمالی پہلو میں بہتے غلاظت بھرے دریائے راوی سے واقف کسی بھی شخص کو یہ منظر دکھایا جائے تو اس کو کبھی یقین نہیں آئے گا کہ اس دریا کے اندر اس طرح کا کوئی خوابوں کا جزیرہ بسایا جا سکتا ہے۔ لیکن پنجاب حکومت کے پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ وہ نہ صرف اس بہشتی نظارے کو زمین پر لا سکتے ہیں بلکہ اس کے ارد گرد وہ تمام ضروری سہولیات بھی تعمیر کر سکتے ہیں جو دنیا کے کسی بھی جدید شہر میں ہونی چاہئیں۔ ان میں 18 لاکھ گھروں پر مشتمل ایک رہائشی منصوبہ، تقریباً ساڑھے پانچ ہزار ایکڑ پر مشتمل میڈیکل سٹی، تقریباً 4 ہزار ایکڑ پر مشتمل فنانس سٹی، 5 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا نالج سٹی اور ہزاروں ایکڑ پر مشتمل کھیلوں کے میدان، تفریحی سہولتیں اور ماحولیاتی ضروریات کو پیشِ نظر رکھ کر بنائے گئے زرعی فارم شامل ہیں۔

مجموعی طور پر ایک لاکھ 2 ہزار ایکڑ پر پھیلے ہوئے اس منصوبے کو راوی ریور فرنٹ اربن ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کا نام دیا گیا ہے۔ اسے سیلاب سے بچانے کے لیے ایک کلو میٹر لمبے اور 25 فٹ چوڑے 3 بیراج بنائے جائیں گے جو مجموعی طور پر 5 لاکھ 86 ہزار کیوبک میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے بہنے والے پانی کو روکنے کے قابل ہوں گے (جو راوی میں پچھلے 89 برسوں میں آنے والے تیز ترین سیلابی ریلے کی رفتار سے 86 ہزار کیوبک میٹر فی سیکنڈ زائد ہے)۔ ان میں سے پہلا بیراج شمالی لاہور کے علاقے شاہدرہ میں مغل بادشاہ جہانگیر کے مقبرے کے سامنے بنایا جائے گا، دوسرا چند میل جنوب مغرب میں اس جگہ بنایا جائے گا جہاں لاہور اسلام آباد موٹر وے دریا پر سے گذرتی ہے اور تیسرا بیراج مزید چند میل جنوب مغرب میں موہلن وال نامی آبادی کے قریب تعمیر کیا جائے گا۔

ستمبر 2020 میں وزیرِ اعظم عمران خان نے اس منصوبے کا افتتاح کیا۔ سرکاری تخمینوں کے مطابق اس پر 50 کھرب روپے خرچہ آئے گا جس کا ایک بڑا حصہ نجی سرمایہ کاری کے ذریعے اکٹھا کیا جائے گا جبکہ باقی رقم سرکاری خزانے سے فراہم کی جائے گی۔ اس منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی امور کی نگرانی کے لئے پنجاب کی صوبائی حکومت نے اس سال کے شروع میں راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم کیا ہے جس میں کام کرنے والے لوگوں کی تنخواہ اور ان کی دی جانے والی دیگر سہولیات حکومت خود ہی ادا کر رہی ہے۔

Ravi river

فوٹو: آن لائن

لوگوں کے خدشات بمقابلہ حکومت کے خواب

پنجاب حکومت نے 22 فروری 2020 کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا جس کے تحت لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ راوی کے ارد گرد واقع نجی اور سرکاری زمیںیں اس منصوبے کو روبہ عمل لانے کے لئے اپنے کنٹرول میں لے آئے لیکن 6 اکتوبر 2020 کو یہ نوٹیفیکیشن واپس لے لیا گیا۔ اس کی واپسی کے سرکاری حکم نامے میں راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چئرمین کی طرف سے ایک روز پہلے لکھے گئے ایک خط اور یکم اکتوبر 2020 کو وزیرِ اعظم عمران خان کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس کا بھی حوالہ دیا گیا جس پر ماحولیاتی امور کے وکیل رافع عالم جیسے لاہور کے معاملات پر نگاہ رکھنے والے کئی افراد نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جلد ہی ایک نیا سرکاری نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا جس میں زمین کو کنٹرول میں لینے کا اختیار راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو سونپ دیا جائے گا۔

ان انتظامی تبدیلیوں سے قطع نظر سرکاری اہل کار بڑی تیزی سے ایسے گھروں اور زرعی زمیںوں پر نشان لگا رہے ہیں جنہیں حکومتی کنٹرول میں لیا جانا ہے۔ ان کی کارروائیوں کے نتیجے 55 سالہ رخسانہ بی بی جیسے ان ہزاروں لوگوں میں شدید بےچینی پائی جاتی ہے جو راوی کنارے بستیوں میں رہتے ہیں۔

رخسانہ اپنی 6 بیٹیوں اور 3 بیٹوں کے ساتھ گذشتہ 8 سال سے جھگیاں نامی گاؤں میں رہ رہی ہیں اور ایک کمرے پر مشتمل اپنے گھر کے دروازے پر پریشان بیٹھی ہیں۔ انہوں نے اگرچہ خود کو گرم چادر سے ڈھانپ رکھا ہے لیکن ان کے پاؤں میں جوتا نہیں ہے۔ وہ اس دن سے بخار میں مبتلا ہیں جس دن سرکاری اہلکاروں نے ان کے گھر سمیت 300 مقامی رہائش گاہوں پر نشانات لگائے۔

ان کی بیٹیاں پھول چنتی ہیں جن کو وہ ہاروں کی شکل میں پرو کر بیچتی ہیں۔ ان کے بیٹے ایک نزدیکی گاؤں میں نان اور دال کی ٹکیاں بیچتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہار بناتے بناتے میری بیٹیوں کے ہاتھ سویوں سے چھلنی ہو گئے ہیں تب جا کر کہیں ہمیں یہ چھت ملی ہے۔

جھگیاں لاہور کے ایئر پورٹ سے شاہدرہ کی طرف آنے والے رِنگ روڈ کے دائیں جانب واقع ہے۔ اس کے شمال میں بہت سی زرعی زمین ہے جو دریا تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں رہنے والے لوگ زیادہ تر محنت کش ہیں جو لاہور کے مختلف کاروباری علاقوں مصری شاہ، بادامی باغ، لاری اڈہ، میوہ منڈی اور سبزی منڈی میں کام کرتے ہیں۔ اس کے نزدیکی گاؤں بھماں اور کھوکھراں میں بھی گھروں پر سرکاری نشان لگائے جا رہے ہیں۔

جگھیاں کی ایک اور رہائشی شبانہ بی بی کو بھی اپنا گھر چھن جانے کا خوف ہے۔ ان کے شوہر مزدوری کرتے ہیں اور انہوں نے بینک سے قرضہ لے کر ڈیڑھ مرلے کا مکان بنایا ہے۔ آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ کپکپاتی ہوئی آواز میں انہوں نے کہا کہ ہم 21 سال کرائے کے مکان میں رہے ہیں لیکن جس گھر کو ہم نے اتنی مشکل سے بنایا اسے اب ہم سے لیا جا رہا ہے۔ وہ پریشان ہیں کہ گھر نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنے بچوں کو کہاں لے جائیں گی۔

پچیس سالہ مقامی نوجوان کرامت علی کو بھی اسی طرح کا شکوہ ہے۔ وہ ایک ہاتھ اور ایک پاؤں سے محروم ہیں اور کہتے ہیں کہ اپنی اس حالت کے باوجود میں نے محنت مزدوری کی اور میری بیوی نے لوگوں کے گھروں میں کام کیا تاکہ ہم اپنا بچوں کے رہنے کے لئے 2 مرلے کا یہ مکان بنا سکیں لیکن اب (وزیرِ اعظم) عمران خان کہتا ہے کہ ہم یہ مکان گرا دینگے۔

کرامت علی یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے اور ان کے گھر گرانے سے پہلے حکومت کو انہیں مارنا ہوگا۔

پچپن سالہ زبیدہ بی بی بھی اسی عزم کا اظہار کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر 13 سال میں اپنا مکان بنایا ہے لہٰذا اگر کسی کا خیال ہے کہ وہ ہمارا گھر گرا دے گا تو یہ اس کی بھول ہے۔

انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ مجھے بے شک گولی مار کر اس مکان میں دفن کر دیں لیکن میں اسے نہیں چھوڑونگی۔

دریا او دریا

سن 1990 کے بعد راوی میں پانی کا بہاؤ کم ہونا شروع ہوا تو یہ دریا سیاحوں سے زیادہ زمین کی خرید و فروخت کرنے والے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ یوں اس کے کناروں پر آبادیاں بننا شروع ہوئیں جو بڑھتے بڑھتے اس کے پاٹ تک پہنچ چکی ہیں۔

اس خرید و فروخت میں اکثر لوگوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اس کی زمین کا اصل مالک کون ہے۔ اسی وجہ سے جھگیاں میں لوگوں نے اپنے گھر بنانے کے لیے زمین کے مبینہ مالکان کو لاکھوں روپے تو ادا کیے ہیں لیکن ان میں سے اکثر کے پاس اپنے گھروں کے مالکانہ حقوق نہیں۔

دوسری طرف جیسے جیسے دریا پر رہنے والے لوگوں کی تعداد بڑھتی گئی ہے دریا خود سکڑتے سکڑتے ایک گندے نالے کی شکل اختیار کرتا گیا ہے۔

محمد منظور نامی ملاح گزشتہ 32 سال سے راوی میں واقع ایک مغل بارہ دری کے آس پاس کشتی چلا رہے ہیں۔ انہیں یاد ہے کہ کس طرح سن 1988 میں دریا میں اونچے درجے کا سیلاب آیا جس سے اس کے کناروں پر آباد کئی آبادیاں ڈوب گئیں۔ حالانکہ دریا اس وقت بہت چوڑا تھا اس کے باوجود 3 لاکھ کیوبک میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے بہنے والا پانی اس میں سما نہیں سکا اور چوں کہ لاہور کو بچانے کے لئے دریا کے شمالی کنارے پر بنے بند توڑ دیے گئے تھے لہٰذا اس کے نتیجے میں جڑانوالہ جانے والی سڑک 7 سے 8 فٹ گہرے پانی میں ڈوب گئی۔

لیکن اب دریا کا پاٹ اس قدر کم ہو گیا ہے کہ اس سے کہیں کم رفتار سے بہنے والا سیلاب ہی بہت بڑی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہری اور صنعتی فضلے کی دریا میں مسلسل شمولیت سے اس کا پانی انتہائی زہریلا ہو چکا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ میں ورلڈ وائیڈ فنڈ برائے نیچر پاکستان کے سن 2014 کے تجزیے کا ذکر کیا گیا ہے جس میں شہری فضلہ اور صنعتوں کا آلودہ پانی راوی میں ملنے کی وجہ سے اسے پنجاب کا آلودہ ترین دریا قرار دیا گیا۔

پچھلے کچھ برسوں میں دریا کی آلودگی کو کم کرنے کی کئی کوششیں کی گئی ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے سن 2017 میں جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2009 میں بین الاقوامی امداد کے جاپانی ادارے (جائیکا) کے مالی تعاون سے حکومتِ پنجاب نے راوی کے گندے پانی کو صاف کرنے کے ایک منصوبے کی فزیبیلٹی اسٹڈی تیار کی جس پر عمل درآمد کے لیے 413 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری درکار تھی۔ اسی طرح ایک فرانسیسی کنسلٹنٹ کی تیار کردہ فزیبیلٹی رپورٹ کے مطابق اس کے لیے 118 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری چاہیے تھی۔

سن 2012 میں لاہور ہائی کورٹ نے بھی راوی کو آلودگی سے پاک کرنے کے لئے ایک کمیشن قائم کیا جس نے 5 لاکھ ڈالر کی لاگت سے بننے والے ایک ایسے منصوبے کی تجویز دی جس کے تحت دریا میں زہریلے مادے ختم کرنے والے پودے لگائے جانے تھے۔

رافع عالم جو ماحولیاتی امور کے وکیل بھی ہیں اس کمیشن کے رکن تھے۔ ان کا کہنا ہے ایشائی ترقیاتی بینک کی ایک اسٹڈی میں پتا چلا ہے کہ لاہور میں داخل ہونے سے پہلے راوی کا پانی صاف ہے اور اس میں مچھلیاں بھی موجود ہیں لہٰذا اس اسٹڈی میں تجویز دی گئی کہ اس علاقے کو مضر ماحولیاتی اثرات سے بچانے کے لئے اسے ایک نیشنل پارک بنا دیا جائے جہاں کسی قسم کی تعمیرات کرنے اور صنعتیں لگانے کی اجازت نہ ہو بس فصلیں اور پارک ہوں اور روز مرہ استعمال کی اشیاء کے کچھ اسٹور ہوں۔

منصوبے باندھتا ہوں توڑ دیتا ہوں

راوی کے اندر شہر بسانے کا منصوبہ نیا نہیں۔ اس سے پہلے دو حکومتیں  ایسے منصوبے تیار کر چکی ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

پہلا منصوبہ 05-2004 میں سامنے آیا لیکن جب اس وقت کی صوبائی حکومت نے اس کے لئے زمینوں کو سرکاری کنٹرول میں لینے کا عمل شروع کیا تو اس سے متاثر ہونے والے لوگوں نے شدید احتجاج کیا۔ مزید برآں حکومت اس منصوبے کے لئے درکار خطیر رقم کا بندو بست بھی نہ کر سکی۔

سن14-2013 میں ایک بار پھر صوبائی حکومت نے سنگاپور کی ایک انجینئرنگ کمپنی مائن ہارٹ سے ایک فزیبیلٹی اسٹڈی تیار کرائی جس میں کہا گیا کہ ایک لاکھ ایکڑ پر مشتمل نئے شہر کو بسانے سے پہلے دریا کے بہاؤ کو مرکوز کرنا اور اس کو ایک چینل میں ڈالنا ناگزیر ہے لیکن صرف اسی عمل کے لیے تقریباً 183 ارب روپے، 10 ہزار 901 ایکڑ زمین اور 30 سال کا وقت درکار ہے۔

مائن ہارٹ نے یہ بھی کہا کہ خالی دریا کے ارد گرد لوگ رہنا پسند نہیں کرتے اس لیے راوی میں پورا سال پانی چلتا رکھنے کے لیے اپر چناب اور بمبانوالہ- بیدیاں نامی نہروں سے کم سے کم 600 کیوبک میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے بہتا پانی دریا میں شامل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اسکے علاوہ لاہور کے گندے پانی کو صاف کر کے راوی میں ڈالنے کے لیے کئی پلانٹ بھی لگانے پڑیں گے ورنہ دریا اسی طرح آلودہ رہے گا جیسے اب ہے۔

اس اسٹڈی میں یہ بھی کہا گیا کہ صرف دریا کی بحالی کا عمل ہی اس کے آس پاس موجود تین جنگلوں میں سے ایک (انو بھٹی) کو پورا، دوسرے (کروتانا) کو آدھا اور تیسرے (شاہدرہ) کو جزوی طور پر ختم کر دے گا۔ اسی طرح 89 ہزار ایکڑ زرعی زمین اور کئی رہائشی بستیاں بھی شہر بسانے کے پورے منصوبے کی نذر ہو جائیں گی۔

ان تمام وجوہات کی بنا پر اور شہریوں کے احتجاج کے نتیجے میں اس وقت کی حکومت نے یہ منصوبہ سرد خانے میں ڈال دیا لیکن گزشتہ سال موجودہ حکومت نے مائن ہارٹ کی اسی رپورٹ کی تجدید کروائی اور اس سال اِس منصوبے کے بارے میں سرمایہ کاروں کو آگاہ کرنے کے لئے ایک تشہیری مہم بھی شروع کر دی۔

لیکن رافع عالم کو اس کا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا۔ وہ کہتے ہیں اگر آپ اس کو ممکن بنانا چاہتے ہیں تو دریا میں پانی لانا لازمی ہے لیکن چونکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا کو راوی کا پورا پانی استعمال کرنے کا مکمل حق ہے اس لئے اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ زرعی آبپاشی کے لئے مختص نہری پانی لاہور سے پہلے دریا میں ڈالا جائے اور چند میل بعد واپس نہروں میں پہنچا دیا جائے۔

اگرچہ نہری پانی کا رخ بدلنے کا یہ منصوبہ بہت بڑی سرمایہ کاری کے بغیر ممکن نہیں لیکن اگر کسی طرح اس پر عمل درآمد ہو بھی جائے توبقول رافع عالم اس نہری پانی کو آلودگی سے بچانے کے لئے یا تو لاہور کا گندہ پانی راوی میں بالکل ہی نہ ڈالا جائے یا اس کو اس قدر صاف کر دیا جائے کہ اس میں پائے جانے والے مضر کیمیائی اور نباتاتی مادے بالکل ختم ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کام کے لئے پانی صاف کرنے والے 12 پلانٹ چاہئیں جن کی قیمت 5 کھرب روپے ہے۔

ایف سی کالج یونیورسٹی میں نباتاتی سائنس پڑھانے والے ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک اس منصوبے کو راوی کی بہتری نہیں بلکہ تباہی کا باعث سمجھتے ہیں کیونکہ اس کے تحت ان زمینوں پر تعمیرات کی جائیں گی جن پر دریا سیلاب کے زمانے میں قدرتی طور پر پھیلتا ہے۔ ڈاکٹر کوثر لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے بنائے گئے راوی کمیشن کے سربراہ رہے ہیں اور اس منصوبے کو محض زمین کی خرید و فروخت کا ایک طریقہ سمجھتے ہیں جو ان کے بقول حکومت کی طرف سے تعمیراتی صنعت کو دی جانے والی حالیہ مراعات کا حصہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم صنعتیں لگانے اور کاروبار کو فروغ دینے پر توجہ نہیں دیتے بلکہ ہماری نفسیات بن چکی ہے کہ زمین اور اس پر ہونے والی تعمیرات ہی ترقی کا واحد ذریعہ ہیں۔

نوٹ: سماء ڈیجیٹل نے یہ رپورٹ سجاگ کی اجازت اور معمولی ترمیم کے ساتھ شائع کی۔

You may also like

Leave a Comment