Home » خوش قسمت زندہ دلانِ لاہور

خوش قسمت زندہ دلانِ لاہور

by ONENEWS

خوش قسمت زندہ دلانِ لاہور

حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اہل ِ لاہور کا شکریہ ادا کر رہی ہیں،دونوں میں اپنے اپنے زاویوں سے لاہوریوں کے سیاسی شعور اور جمہوریت کے لئے اُن کی کمٹ منٹ کو بوریاں بھر بھر کے خراج تحسین پیش کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، اس سے  تو یہی لگتا ہے کہ زندہ دلانِ لاہور کو یہ ہنر آتا ہے کہ باغبان بھی خوش رہے اور راضی رہے صیاد بھی، وزیراعظم عمران خان نے تو یہ دعویٰ بھی کر دیا ہے کہ انہیں لاہوریوں کو جلسوں میں لانے کے لئے پندرہ سال لگ گئے تھے۔ کپتان کا یہ دعویٰ بھی خاصا عجیب ہے، کیونکہ زندہ دلانِ لاہور نے تو ہر سیاسی تحریک میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا ہے۔ جلسے بھرے ہیں اور آمروں تک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے۔ انہیں جلسوں میں لانے کے لئے کسی محنت کی ضرورت نہیں، وہ خود خراماں خراماں جلسوں میں چلے آتے ہیں اور رونق میلہ لگا دیتے ہیں۔ پی ڈی ایم کے جلسے دوسرے شہروں میں بھی ہوئے ہیں،مگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ لڑائی نہیں دیکھی گئی کہ اُن شہروں کے لوگوں نے کسے مسترد کیا اور کس کی حمایت کی ہے۔ یہ اعزاز صرف لاہور اور اہل ِ لاہور کو ملا ہے اور جلسے کے بعد یہ بحث جاری ہے کہ لاہوریے کس کے ساتھ ہیں، جلسے میں انہوں نے اپنا  وزن کس کے پلڑے میں ڈالا؟

عموماً کسی سیاسی جماعت یا اتحاد کا جلسہ ہو جائے تو رات گئی بات گئی کے مصداق اُس شہر کے لوگوں کو بھلا دیا جاتا ہے، مگر یہ لاہوریئے ایسی طاقتور مخلوق ہیں کہ انہیں جلسے کے بعد بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے وزیر مشیر حتیٰ کہ وزیراعظم بھی لاہوری عوام کو بالٹیاں بھر بھر کے مبارکباد دے رہے ہیں کہ انہوں نے پی ڈی ایم کے بیانیے کو مسترد کر دیا۔ یہ تک کہا جا رہا ہے کہ لاہور کے عوام نے پی ڈی ایم کی تحریک کو دفن کر دیا ہے۔یہ ہے تو بڑی خوش فہمی کی بات کہ لاہور والوں نے کوئی سیاسی تحریک دفن کر دی ہے،کیونکہ اہل ِ لاہور کا یہ مزاج ہی نہیں کہ وہ تحریک کو دفن کریں۔ انہوں نے تو ہمیشہ تحریکوں کو ہوا دی ہے۔ البتہ وہ اِس بات پر محظوظ ضرور ہو رہے ہوں گے کہ انہوں نے دونوں کو خوش کر دیا ہے۔مریم نواز نے تو کہا ہے کہ وہ لاہوریوں کی محبت کا قرض اب ساری زندگی نہیں اُتار سکتیں۔انہوں نے سردی، حکومتی جبر اور کرسیاں نہ ملنے کے باوجود گھنٹوں میدان میں کھڑے ہو کر جلسہ سنا۔ جلسہ گاہ میں جگہ کم پڑ گئی اور فلائی اوور نیز سڑکوں پر کھڑے رہے اور آخر تک اپوزیشن سے محبت کا اظہار کیا۔ شاید اہل ِ لاہور کا شکریہ ادا کرنا بھی اب سیاسی مجبوری بن گئی ہے، کیونکہ دونوں فریقوں میں سے اگر کوئی شکریہ ادا نہ کرتا تو یہی سمجھا جاتا کہ اُسے لاہور کے عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ جلسے کو کامیاب یا ناکام ثابت کرنے کی لڑائی اتنی شدت سے جاری ہے کہ جھوٹی خبریں، جھوٹی وڈیوز اور جھوٹے دعوے اس لڑائی کے ہتھیار بن گئے ہیں۔

صوبائی مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان تو اس حوالے سے بازی لے گئیں۔انہوں نے پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ جلسے کی ناکامی پر مریم نواز سخت برہم ہیں اور انہوں نے ایک پارٹی اجلاس میں یہ وارننگ دی ہے کہ جن پارٹی عہدیداروں اور ارکانِ اسمبلی نے جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے اپنا کردار ادا نہیں کیا اُن کے خلاف کارروائی کی جائے۔اس الزام کی تردید کے لئے مریم نواز کو کھل کر سامنے آنا پڑا۔انہوں نے اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاہور کی تنظیم اور ارکانِ اسمبلی کو انہوں نے بھرے جلسے میں اپنی تقریر کے دوران مبارکباد اور شاباش دی تھی، کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی میں اتنا بڑا جلسہ دیکھا ہی نہیں،انہوں نے بعض ٹی وی چینلز کو بھی وارننگ دی کہ وہ حقائق کے برخلاف رپورٹنگ نہ کریں، لاہور کے عوام نے نواز شریف کے ساتھ اپنی اٹوٹ محبت کا اظہار کیا ہے اور ہم اُن کے شکر گزار ہیں۔لاہوریوں کے مزاج کو سمجھنا آسان نہیں۔جلسوں میں آئیں یا نہ آئیں، مگر فیصلہ وہ اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔ عمران خان نے عام انتخابات کی مہم میں لاہور میں بڑی بڑی ریلیاں نکالیں، جلسہ کیا، لیکن لاہور سے نشستیں پھر مسلم لیگ (ن) ہی زیادہ جیتی، اپوزیشن اور حکومت کی لاہور کی سیاسی حمایت کے حوالے سے کھینچا تانی اس حقیقت کو پھر ثابت کر گئی ہے کہ لاہور کا پاکستانی سیاست میں کلیدی کردار ہے۔لاہور جس کے پلڑے میں وزن ڈالتا ہے اس کے سر پر ہما کا سایہ ضرور ہوتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ شریف برادران نے قومی سطح کے عہدے ملنے کے باوجود لاہور کی سیاست نہیں چھوڑی، تاہم آج یہ ابہام پیدا ہو چکا ہے کہ لاہور والے کس کے ساتھ ہیں۔ حکومت بھی اُن کی جمہوریت نوازی کے گن گا رہی ہے اور اپوزیشن بھی اُن کی حمایت پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہی ہے۔

مجھے لاہور جلسے کے بعد یوں لگا ہے جیسے اہل ِ لاہور  ابھی حتمی فیصلہ دینے کے موڈ میں نہیں، وہ دونوں فریقوں کو وقت دے رہے ہیں کہ معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہ لے جائیں۔ اُن کا جلسے میں جوق در جوق آنا اِس بات کو ثابت کرتا ہے کہ وہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تاہم بڑی تعداد میں نہ آنا اِس بات کا اشارہ ہے کہ ابھی وہ حکومت کو وقت دینا چاہتے ہیں اسی طرح یہ بھی  کہا جا سکتا ہے کہ پی ڈی ایم کی بہت سی باتوں سے اہلِ لاہور کو اتفاق ہے۔لاہوریوں نے بڑی خوبصورتی سے قومی سیاسی قیادت کو یہ پیغام دیا ہے کہ خود غرضی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مسائل کو حل کر لے۔دونوں طرف سب اچھا نہیں، عوام میں بے چینی ضرور موجود ہے تاہم وہ اس بے چینی کو اس سطح تک نہیں لے جانا چاہتے کہ نظام ہی لپٹ دیا جائے۔زندہ دلانِ لاہو خوش قسمت ہیں کہ ملک میں اُن کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کبھی غلط فیصلہ نہیں دیتے۔ لاہور جلسے کا فیصلہ بھی بڑا دانشمندانہ ہے جسے تسلیم کر کے حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھ کے کوئی درمیانی راستہ نکالنا چاہئے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment