0

خدمت خلق سے بڑا کوئی قانون نہیں!!!

خدمت خلق سے بڑا کوئی قانون نہیں!!!

یہ 2017 کا واقعہ ہے۔ میں ان دنوں نارووال میں بطور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر تعینات تھا۔ جون یا جولائی کا سخت گرمی اور حبس کا ایک دن تھا۔ میں دفتری معاملات میں مصروف تھا کہ اچانک ایسے لگا جیسے باہرسینکڑوں لوگ شور کر رہے ہوں۔ اسی اثنا میں نائب قاصد اندر آیا اور کہنے لگا کہ باہر کافی لوگ ہیں جنہیں ڈی سی صاحب نے آپ کی طرف بھیجا ہے کہ ان کی بات سن کر ان کا مسئلہ حل کریں۔ اُن دنوں علی عنان قمر ڈی سی نارووال تھے جو کافی محنتی اور متحرک تھے۔ مُجھ پہ بے حد اعتماد کرتے تھے اور تمام پیچیدہ معاملے حل کرنے کے لیے مُجھے سونپ دیتے تھے۔ میں نے نائب قاصد سے کہا کہ اُن میں سے جو صاحبان اپنا مسئلہ بہتر طور پر بیان کر سکیں اُن کو اندر بُلوا لو اور باقی باہر تشریف رکھیں۔ نائب قاصد چند لمحوں میں ہی اکیلا واپس آگیا اور کہنے لگا کہ وہ سب لوگ ہی اند رآنے پہ بضد ہیں۔ ضلع نارووال میں ڈسٹرکٹ کمپلیکس حالیہ سالوں میں تعمیر ہوا ہے اور کافی وسیع وعریض ہے اور دفاتر بھی کافی کشادہ ہیں۔ میں نے نائب قاصد کو دوبارہ بھیجا کہ ٹھیک ہے سب کو اندر بلا لو۔ کوئی سو دو سو کے قریب لوگ تھے جن کے لباس اور چہروں پر محنت اور مشقت کیآثار بڑے نمایاں طور پر تحریر تھے۔ کمرہ کھچا کھچ بھر گیا۔ میری درخواست پر جو بزرگ تھے وہ دفتر میں موجود چند کُرسیوں پر بیٹھ گئے اور باقی جو نسبتاً جوان تھے وہ کھڑے ہو گئے۔

ان سب افراد کا تعلق بدوملہی کے جنوب مشرق میں کوئی چار پانچ کلومیٹر کے فاصلیپرانڈین بارڈرکے ساتھ واقع ایک درجن سے زیادہ دیہاتوں مثلاًکنگ بیلا اورنارنگ چناوغیرہ سے تھا۔ ان دیہات کا دوسرے علاقوں سے رابطے کا واحد ذریعہ ایک کچا پکا تقریباً دو کلو میٹر کا راستہ گزشتہ ایک صدی سے زیر استعمال تھا۔ مقامی حکومت نے اس راستے پر سولنگ لگانے کے لیے فنڈز مختص کر دیے تھے اور تقریباً نوے فیصد کام مکمل بھی ہو چکا تھا۔ اب مسئلہ یہ پیش آرہا تھا کہ اس راستے کا شمالی سمت والا حصہ جس نے اس راستے کو مین شاہراہ سے ملانا تھا کی مشرقی سمت میں کسے“بڑے چوہدری حشمت”(دانستہ فرضی نام)کی زرعی اراضی واقع تھی۔ چوہدری صاحب اہل علاقہ سے کسی بات پر نالاں تھے اور راستے کا وہ حصہ مکمل نہیں کرنے دے رہے تھے۔ کُچھ افراد تو کچے راستے کہ وجہ سے اپنی حالتِ زار بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے کہ قبرستان دوسری طرف واقع ہو نے کی وجہ سے کس طرح برسات کے دنوں میں ان کو اپنی میتیں اس کچے راستے پر کیچڑ سے گزارنا پڑتی تھیں۔ انہوں نے اپنی اس اذیت کو بھی آنکھوں میں ڈبڈباتے آنسووں کے ساتھ بیان کیا جس کا سامنا ان کو اپنے علاقے کی بیٹیوں کیشادی بیاہ کے موقع پر بارات کے اس کیچڑ والے راستے سے گزرنے پرکرنا پڑتا تھا۔ میں نے اُن سب دیہاتی بھائیوں کو تسلی دی کہ ان شا اللہ العزیز ان کا مسئلہ حل کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔ میں نے اپنے سپرینٹنڈنٹ کو ہدایات دیں کہ وہ اس چوہدری کو تلاش کر کے ان سے رابطہ کریں اورکل دس بجے آکر اپنا موقف بیان کرنے کا کہیں۔

اگلے دن مقررہ وقت پر پہلے سے بھی زیادہ تعداد میں ان دیہات سے تعلق رکھنے والے افراد آ موجود ہوئے۔ چوہدری صاحب بھی پُورے جاہ وجلال کے ساتھ اپنے نوکروں کے ہمراہ تشریف لائے اور کرسی پر بیٹھ گئے۔ چوہدری صاحب کے مطابق اس راستے کے بننے سے ان کی زمینوں سے برسات کے دنوں میں زائد پانی کی نکاسی رک جانے سے ان کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ تھا۔ تفصیلی بات چیت شُروع ہوئی تو عقدہ کھلا کہ چوہدری صاحب اس علاقے کے چند افراد کی اسی راستے کے حوالے سے کسی بات پر خفا تھے اور راستے کو اپنی انا کا مسئلہ بنایا ہوا تھا۔ اور زائد پانی سے فصلیں ڈُوبنے کی بات محض ایک بہانہ تھا۔اہل علاقہ میں سے چند لوگ کافی سمجھدار تھے۔ انہوں نے صورت حال کو بھانپتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے کے لیے وہیں پر چوہدری صاحب کیآگے ہاتھ جوڑ دیے اور کہا کہ اگر ان کی باتوں سے چوہدری صاحب کا دل دُکھا تھا تو وہ اس کے لیے معافی مانگتے ہیں۔ میں نے دل ہی دل میں ان کے اس اقدام کو سراہا اور امید کی کہ اب مسئلہ حل ہو جائے گا۔ لیکن بے سُود۔ چوہدری صاحب ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ اہل علاقہ کہنے لگے کہ جناب آپ چل کر خود موقع ملاحطہ کر لیں کہ کس کا موقف درست ہے۔ معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے میں نے اسی دن موقع ملاحطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ سپرینٹنڈٹ کو ہدایات جاری کیں کہ وہ متعلقہ پٹواری، گرداور اور ریونیو افسر کو احکامات جاری کر ے کہ وہ دن تین بجے تک متعلقہ ریکارڈسمیت موقع پر پہنچ جائیں۔وقت مقررہ پر میں اپنے سٹاف کے ساتھ موقع پر پہنچ گیا۔ وہاں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

چوہدری صاحب بھی اپنے محافظوں سمیت موجود تھے۔ موقع پر مشرق کی طرف چوہدری صاحب کی تین ایکڑ زمین راستے کے ساتھ مُنسلک تھی۔ مغرب میں متنازعہ راستہ اور راستے کے مغرب میں بہت پرانا برساتی نالہ موجود تھا جس کا لیول چوہدری حشمت کی زمینوں سے کافی نیچیتھا۔مزید یہ کہ چوہدری حشمت کی زمینوں سے منسلک کھیتوں کا لیول بھی کافی ڈاؤن تھا لہذاٰ چوہدری حشمت کی زمینوں کا برساتی پانی میں ڈوبنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ واضع نظر آرہا تھا کہ چوہدری صاحب کی زمینوں سے زیادہ ان کی انا کے ڈوبنے کا مسئلہ تھا۔ ریونیو ریکارڈ کہ مطابق موقع پر برساتی نالے کا اندراج تھا لیکن راستہ بہر کیف کوئی ایک صدی سے چل رہا تھا۔ میں نے معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے چوہدری صاحب کو دلائل دیکرسمجھانے کو کوشش کی راستہ دینے کا دین میں بہت اجر ہے۔ اس سے آپ کی نیک نامی ہو گی۔ یہ صدقہ جاریہ ہے۔ آپ بڑے آدمی ہو آپ کو اپنے عمل سے بھی خود کو بڑا ثابت کرنا چاہیے۔ آپ کی آنے والی نسلیں بھی اس بات پر فخر کریں گی کہ ان کے بزرگوں نے لوگوں کی فلاح کے لیے راستہ بنوایا وغیرہ۔ لیکن یہ اب باتیں بے سُود گئیں اور نتیجہ وہی نکلا کہ ڈھاک کے تین پات۔ چوہدری صاحب ٹس سے مس نہیں ہوئے اور ایک ہی رٹ لگائے رلھی کہ ان کی زمینیں ڈوب جائیں گی۔ جب میں نے اس کی یہ ہٹ دھرمی دیکھی تو میں نے دل ہی دل میں یہ فیصلہ کر لیا کہ یہ راستہ ہر صورت بنوا کہ رہوں گا چاہے اس کے لیے کُچھ بھی اقدام کرنا پڑے۔

میں نے ڈی سی صاحب کو ساری صورت حال سے آگاہ کیا اور اپنے فیصلے کہ بارے بھی بتایا۔ ہمارے ایک سال اکٹھا عرصہ تعیناتی میں انہوں نے کبھی میرے کسی فیصلے سے اختلاف نہیں کیا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ ہماری ملاقات کے پہلے دن ہی میں نے انہیں واضح کر دیا تھا کہ میرے فیصلوں کا نصب العین صرف اور صرف اللہ پاک کی خوشنودی تھا۔میں کبھی کسی سیاستدان یا بڑے آدمی کی خاطر فیصلے کرنے یا فیصلے بدلنے کا قائل نہ تھا۔ اور اس بات کا ثبوت انہیں بہت جلدمیرے چند فیصلوں سے مل گیا تھا۔ انہوں نے بس ایک ہی بات کی کہ کوئی لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ نہ بنے۔ میں نے انہیں تسلی دی کہ آپ بے فکر رہیں اس طرح کے بہت سارے مسئلے میں پہلے حل کر چکا ہوں۔ میں نے اپنے سٹاف سے کہا کہ وہ ان گاوں کے دو تین سر کردہ لوگوں سے میری ملاقات کروائیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ لوگ اس طرح کا کوئی انتظام کر سکتے تھے کہ وہ سارا راستہ ایک دن میں مکمل ہو جائے کیوں کہ اس بات کا خدشہ تھا کہ چوہدری صاحب کو اگر میرے عزائم کا پتہ چل گیا تو وہ اگلے دن کسی عدالت وغیرہ سے سٹے آرڈر نہ لے آئیں اور ان دیہاتیوں کی اذیت دور کرنے کا یہ موقع بھی نہ ہاتھ سے نکل جائے۔ شام کو میرے سٹاف نے کنفرم کیا کہ اُن لوگوں نے اثبات میں جواب دیا ہے کہ ایک دن میں وہ سارا راستہ مکمل کر لیں گے۔ میں نے ان گاوں کے سر کردہ لوگوں کے ذریعے چوہدری کے اعصاب کمزور کرنے کے لیے پروپیگنڈے کا سہارا لینا کا فیصلہ کیا۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ آس پاس کے سارے گاوں میں مشہور کردیں کہ اے ڈی سی صاحب بہت غصے میں ہیں اور کل انہوں نیدوبارہ کافی ساری پولیس کے ساتھ آنا ہے اور اگر چوہدری ادھر آیا تو پولیس سے اس کی پٹائی کروا کی اس کو گرفتار کروا دینا ہے اور ایف آئی آر درج کروا دینی ہے۔ اس سارے پروپیگنڈے کا مقصد چوہدری کو موقع سے دور رکھنا تھا تا کہ کوئی ناگوارصورتحال پیدا ہی نہ ہو۔ میں نے راتوں رات ڈی پی او، ڈی ایس پی اور متعلقہ ایس ایچ سے بھی رابطہ قائم کیا اور انہیں اس نیک کام میں مدد کے لیے آمادہ کیا۔ ان دنوں عمران کشور ڈی پی او نارووال تھے جو بڑے نفیس طبع اور مثبت افسر تھے۔ انہوں نے پورے تعاون کا یقین دلایا۔ طے یہ پایا کہ اگلے دن نو بجے صبح میں، متعلقہ ڈی ایس پی، ایس ایچ اور اور پولیس کی نفری موقع پر پہنچ جائیں گے جب کہ گاوں والے زیادہ سے زیادہ مستری اور مزدوروں کے ساتھ راستہ بنانا شروع کردیں گے۔ جب چوہدری کے علم میں سارا منصوبہ آیا تو اس نے سفارشیں تلاش کرنا شروع کردیں۔ سیاستدانوں کو انکار کرنے میں تو مجھے زیادہ دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑا البتہ ایک دو دوستوں کو ساری بات سمجھانے میں کافی دقت اور بد مزگی کا سامنا کرنا پڑا۔ کیوں کہ ہمارا معا شرتی رویہ ہے کہ جب ہم کسی کی سفارش کرتے ہیں تو پھر چاہے وہ غلط ہو یا درست فیصلہ ہر حال میں اپنے حق میں چاہتے ہیں۔ اور سفارش نہ مانے جانے پر اپنے دل میں ناراضگی پال لیتے ہیں۔ سب سے زیادہ تکلیف مجھے اپنے پرانے خیر خواہ دوست چوہدری ذوالفقار ورک کو سنبھالنے اور سمجھانے میں آئی۔ لیکن خیر ان کی ناراضگی وقتی ثابت ہوئی اور انہوں نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تعلق میں موجود چاشنی کو برقرار رکھا۔ اگلے دن حسب پروگرام میں ہمراہ عملہ ریونیو اور پولیس موقع پر پہنچ گئے۔ میں نے پولیس نفری کو ہدایات دیں کہ وہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بکھر کے کھڑے ہو جائیں اور گنیں تان کے رکھیں۔ مقصد ایک دبدبے کی فضاپیدا کرنا تھا کہ کوئی کام میں مداخلت کی جرات نہ کرے جب کہ میں، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کچھ ہی فاصلے پر موجود قبرستان میں ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے۔ سخت حبس اور گرمی کا دن تھا۔ جسم پسینے سے شرابور تھا لیکن روح اللہ پاک کی خوشنودی کے تصور سے شرابور تھی لہذا وہاں بیٹھنے میں زیادہ دقت نہیں ہوئی۔۔ گاوں والوں نے بھی بڑی ہمت کی۔ درجنوں مستری اور مزدور موقع پر موجود تھے۔ اینٹوں سے بھری ہوئی ٹرالیاں موقع پر پہنچ چکی تھیں۔ اشارہ پاتے ہی راستہ پختہ ہونا شروع ہو گیا۔ سینکڑوں دیہاتی بھی اس کام میں مستریوں مزدوروں کی مدد کر رہے تھے اور کام کی رفتار دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ یہ راستہ شام تک مکمل ہو جائے گا اور اہل علاقے کی صدیوں کی اذیت کا خاتمہ ہو سکے گا۔

اس سب کاروائی کے پس منظر میں چوہدری کی سرگرمیوں سے باخبر رہنے اور مجھے با خبر رکھنے کے لیے میں نے گاوں کہ ان سرکردہ لوگوں کی ہی ڈیوٹی لگائئ تھی۔ دیہات میں رہنے ولے میرے دوست اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہوں گے کہ اس قسم کے ماحول میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں جو ادھر کی خبریں اُدھر اور اُدھر کی خبریں ا دھر پہنچانے کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے کچہری میں اپنے سٹاف کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ وہ باخبر رہیں کہ چوہدری کچہری میں آ کر کس قسم کی کاروائی کرتا ہے۔ گاوں والوں کو چوہدری کے گاوں کے ہی کسی بندے سے پتہ چلا کہ چوہدری سٹے آرڈر لینے کی تیاری کر رہا ہے۔ تقریباً آدھا راستہ مکمل ہو گیا تھا جب بارہ بجے کے قریب دفتر سے اطلاع ملی کہ چوہدری نے سول کورٹ سے سٹے لے لیا ہے اور وہ سٹے آرڈر کی کاپی لے کر ڈی سی کے پاس بیٹھا ہوا ہے اور اسے کام رکوانے کا کہہ رہا ہے۔ ڈی سی کو صورتحال کا اچھی طرح سے ادراک تھا کہ اگر یہ راستہ اب نہ بن پایا تو پھر شائد کبھی نہ بن پائے۔ چنانچہ ڈی سی نے چوہدری کو ٹالنے کے لیے کہہ دیا کہ ان کا مجھ سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا لہذا چوہدری خود موقع پہ جا کر سٹے آرڈر پیش کرے۔ اور چوہدری ہمارے کل رات کے پروپیگنڈے کی وجہ سے موقع پر آنے سے ڈر رہا تھا۔ اس نے کچھ سیاسی لوگوں سے مجھے فون کروائے لیکن میں نے ان کا فون اٹینڈ نہ کرنا ہی مناسب سمجھا۔ اور چوہدری اس خوف سے وہاں نہ آیا کہ اتنے سارے لوگوں کی موجودگی میں اگر سچ مچ پولیس نے اسے گرفتار کر لیا تو وہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔ ہم سب سرکاری ملازمین تقریباً شام پانچ بجے تک وہیں مو جود رہے۔ گاوں والوں نے کام مکمل ہو نے کا اعلان بڑے خوبصورت انداز میں کیا۔ وہ کبھی میرا نام لے کے زندہ باد کے نعرے لگاتے اور کبھی میرے عہدے کو پکار کر زندہ باد کے نعرے لگاتے۔ میری آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے اور میری روح رب کریم کے حضور سجدہ ریز تھی۔ میں نے گاوں والوں کے آگے ہاتھ جوڑ کہ درخواست کی کہ وہ میرے نام کے نعرہ مت لگائیں کیوں کہ میں تو حقیر سا بندہ ہوں۔ جو ہوا وہ سب رب کریم کی توفیق سے ہوا۔ راستہ مکمل ہونے پر میں نے تمام پولیس اہلکاران اور دیگر معاون افراد کا شکریہ ادا کیا اورایک عجیب سی سرشاری کی کیفیت میں واپس لوٹ آیا۔ اس موقع پر ایک ضروری مکالمہ جو میرے اور دیگر افسران اورسیاسی نمائندوں کے درمیان ہواوہ میں دانستہ طور پر اس واقعہ کے آخر میں بیان کر رہا ہوں۔ جب میں نے یہ راستہ بنوانے کا اپنا ارادہ ظاہر کیا تو مجھے یہ کہا گیا کہ آپ کس قانون کے تحت یہ راستہ بنوانا چاہتے ہیں۔ یہ تو سول کورٹ کا کام ہے۔ میں نے سادگی سے جواب دیا کہ ہم لوگوں نے عجیب روایت پال رکھی ہے کہ غلط کام کرنے کے لییطاقتور کو کسی قاعدے قانون کے بارے میں سوچنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی اور ہم سرکاری افسران درست کام کرنے کے لیے بھی پہلے قاعدہ قانون ڈھونڈتے پھرتے ہیں اور پھر قانون ڈھونڈ کر بھی اس کی تشریح اس طرح کر لیتیہیں کہ ہمیں کوئی مشکل کام نہ ہی کرنا پڑے۔ میں نے مزید کہا کہ میرے نزدیک انسانی فلاح کیلیے کام کرنا بذات خود بہت بڑا قانون ہے۔ اور ہمارے ملک میں سول کورٹس کی عملداری اتنی کمزور ہے کہ ایک عام سے کیس کو ابتدائی عدالت سے فائنل ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں اورپھر اپیل در اپیل کا مرحلہ مکمل ہونے کے لیے ایک صدی درکار ہے۔ اور ان سول عدالتوں سے فیض یاب ہونے کے لیے اک عمر خضر چاہیے۔ میرے ان دلائل کے بعد کسی کہ پاس مجھے روکنے کے لیے کوئی بہانہ یا عذر نہ تھا۔

اب جب کبھی موت کا خیال دل میں آتا ہے تو ایک موہوم سی امید دل میں جاگ اٹھتی ہے کہ چلو میں کچھ تو ٹوٹا پھوٹا عمل اپنے رب کے حضور لے کر جاوں گا کہ شاید اس کے بندوں کے لیے پیدا کی گئی آسانی کے عوض وہ میری آخرت آسان کر دے۔ ویسے تووہ بخشنے پہ آئے تو اسے کوئی بہانہ نہیں چاہیے لیکن شائد اس کے بندوں کو تکلیف سے نکالنے کا یہ عمل میری بخشش کا وسیلہ بن جائے۔ میں اکثر اپنے جونیئر افسروں سے کہتا ہوں کہ اگر اللہ کے کنبے کا کوئی رکن آپ کے در پر آ جائے تو اس کی دادرسی کے لیے کوشش ضرور کرو اور یاد رکھو رب کی خوشنودی کے لیے کئے گئے تمہارے کسی بھی فعل سے تمہارے لیے شر کا پہلو نکل ہی نہیں سکتا چاہے اس کے لیے آپ نے کتابی قانون انصاف کا سہارا لیا ہو یا آفاقی قانون انصاف کا۔ اللہ پاک ہمیں آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں