Home »  خالی جگہیں کیسے پُر کریں؟

 خالی جگہیں کیسے پُر کریں؟

by ONENEWS

خالی جگہیں کیسے پُر کریں؟

اپنے دَور کے مقبول و منفرد غزل گو جگر مراد آبادی نے شراب نوشی سے توبہ کرکے پنجگانہ نماز ادا کرنے کی عادت اپنائی تو ہر کسی سے اِس کے فوائد کا تذکرہ کرتے رہتے۔ محمد طفیل نے، جو ادبی جریدہ ’نقوش‘ کا بانی ہونے کے ناتے سے ’محمد نقوش‘ بھی کہلائے، ’آپ‘، ’جناب‘، ’صاحب‘، ’محترم‘ اور ’مکرم‘ میں کئی مشاہیرِ کے یادگار شخصی خاکے لکھے ہیں۔ چنانچہ ایک مجموعہ میں جگر صاحب کے اوصاف بیان کرتے ہوئے انہوں نے مرحوم سے اِس مفہوم کا بیان منسوب کیا کہ ”جو بھی مسلمان ہے اُسے نماز پڑھنی چاہئیے اور جو مسلمان نہیں اُسے بھی نماز پڑھنی چاہئیے۔“ میرا جگر مراد آبادی سے بھلا کیا موازنہ؟ شاعرانہ مزاج کے باوجود اپنی سوچوں میں تو ویسی شدت کبھی تھی ہی نہیں جو جگر کی انفرادیت کا لازمہ خیال کی گئی، نہ ہی توبہ میں اُتنا زور ہے جو اُن کے یہاں دکھائی دیا۔ میرا مسئلہ ذرا وکھری ٹائپ کا ہے۔

مسئلہ سمجھنا چاہیں تو جو کہنا مقصود ہے پہلے اُس کا تناظر متعین کرنا پڑے گا۔ وہ یوں کہ ہر آدمی کی ذات کے کچھ خانے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اور کچھ نہیں ہوتے۔ اِن خالی جگہوں کی نشاندہی آفتاب اقبال شمیم نے ایک نظم میں یہ کہہ کر کی کہ ’وہی ہر روز کے مضموں میں لُکنت خالی جگہوں کی‘۔ ہمارے بچپن میں پرائمری اسکول کے طلبہ سے جو مشقیں کرائی جاتیں اُن میں ادھورے فقرے مکمل کرنے کی خاطر کچھ اشارے بھی تجویز کئے جاتے تھے۔ طالب علم یہ جگہیں پُر کرنے کے لیے اِنہی الفاظ سے رہنمائی حاصل کرتا۔ اِس سے امیدواروں کی امتحانی ضروریات کافی حد تک پوری ہو جا تیں۔ یہاں تک پڑھ لینے کے بعد، کم از کم میری دانست میں، آپ ذہنی طور پر اب اُس مقام پہ پہنچ گئے ہیں جہاں (اپنے تئیں) ایک دلچسپ مثال دے کر مَیں اپنی مرضی کا لُچ تلنے کی جسارت کر سکتا ہوں۔

یہ مثال اُس وقت ہاتھ لگی جب میرے سب سے چھوٹے بھائی ڈاکٹر دانش ابھی تیسری کلاس کے طالب علم تھے۔ اردو کا سالانہ امتحان دے کر گھر پہنچے تو آتے ہی ایک ہم جماعت کا قصہ سُنا کر سب کو لوٹ پوٹ کر دیا۔ پیپر میں ایک سوال خالی جگہیں پُر کرنے کا بھی تھا، جس کے حل میں مدد کی غرض سے اوپر بالکل ابتدا میں چند الفاظ کے اشارے درج کر دئے گئے تھے۔ الفاظ تھے: ’خدمت‘، ’لذیذ‘، ’غلاف‘، ’لطف‘، ’جوش‘۔ اُس زمانے تک بچوں کی اردو کا وہ حال نہیں ہوا تھا جو آجکل ہے۔ اِس لئے کم و بیش پوری کلاس نے ٹھیک ٹھیک جواب لکھے اور نامکمل فقرے با معنی بن گئے۔ جیسے ’مٹھائی بہت لذیذ تھی‘ یا ’وہ ایک بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا‘۔ بس ایک لڑکے نے گڑبڑ کر دی۔ سبھی الفاظ بے محل برتے مگر ایک جگہ کمال ہی کر دیا۔ فرمایا: ’چائے پی کر بے حد غلاف آیا‘۔

جن دنوں کا یہ واقعہ ہے تب مَیں یونیورسٹی تعلیم میں نامکمل جملے پُر کرنے کے مرحلے سے آگے نکل چکا تھا۔ لیکن کیا بقدرِ ہمت زبان سیکھ لینے سے خالی جگہیں پوری کرنے کی مشق بھی ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتی ہے؟ ذرا گہرائی میں جائیں تو آپ کو بتدریج محسوس ہونے لگے گا کہ انسانی جیون میں خالی جگہوں کی لکنت تو پُر نہیں ہوتی۔ لوگوں کی زندگی کے بہت سے مراحل اِسی خلا کو پاٹنے کی تگ و دو میں گزر جاتے ہیں۔ یومیہ محنت کش کے لئے فقط جان و تن کا رشتہ اور اِس کی خاطر دو وقت کی روٹی ہی بنیادی چیلنج ہے۔ جو لوگ ماضی میں میرے والدین کی طرح اِس سے اگلے مرحلے میں تھے اُن کی پرکار اِس سے بڑا دائرہ کھینچنے لگتی ہے۔ ”بس جی بچوں کی ایجوکیشن اور شادیاں ہو جائیں تو مَیں اور آپ کی چچی حج کرنے چلے جائیں گے“۔ آپ کہیں گے کہ خود اپنی ترجیحات تو بتاؤ جو تمہارا ابتدائی مقصد تھا۔ َ

مَیں جواب دینے سے تو انکاری نہیں، پر اِس میں ایک رسک بہرحال ہے۔ رسک یہ کہ مجھے ویسا جواب دینا آتا ہی نہیں جو ’قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے‘۔ دیکھئے قافیہ ردیف ملانے کے چکر میں میری بات بنتے بنتے پھر بگڑ نے لگی ہے۔ کہنا یہ چاہتا تھا کہ بچپن سے ایک گیدڑ سنگھی سی میرے ہاتھ لگی ہوئی ہے۔ بہت دُور کے معنی نکالنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اِس بندہء عاجز کا زندگی گزارنے کا مجموعی پیرایہ وہی ہے جسے پڑھے لکھے لوگوں کی اکثریت معقول طرزِ عمل تصور کرے گی۔ تو پھر گیدڑ سنگھی کیسی؟ عرض ہے کہ یہ دولت، صحت، شہرت یا علمیت کی بجائے ایک خاص طرح کی ناسمجھی کی گیدڑ سنگھی ہے۔ اِس کی تاثیر آدمی کو اپنے لورے میں رکھتی ہے اور اُسے لگتا ہے کہ خالی جگہوں کی لکنت پُر کرنے کے لئے ہر مسلمان کو نماز پڑھنی چاپئیے اور جو مسلمان نہیں اُسے بھی نماز پڑھنی چا ہئیے۔

یہ اِسی گیدڑ سنگھی کی عطا ہے کہ لڑکپن میں دن بھر کرکٹ اور شام ہونے پر لائٹ جلا کر ٹیبل ٹینس کھیلنے کے سوا کوئی دل پسند مشغلہ سوجھا ہی نہیں۔ پھر رسالے پڑھنے اور ریڈیو سُننے کا چسکا لگ گیا تو بس رسالے اور ریڈیو۔ اِس سے آگے شاعری تو شاعری ہی شاعری۔ عملی زندگی میں خبروں کے اسکرپٹ لکھنے لگے تو صفحوں پہ صفحے کالے ہو گئے۔ اب براڈکاسٹ جرنلزم کی ٹریننگ ایک ہی نکتہ پہ مرکوز ہے کہ بچے لفظ کے چناؤ، جملے کے شعوری بے ساختہ پن اور اُس کے صوتی تاثر سے میرے جتنا مزا لینے لگیں۔ خیر، یہ تو اُن سب کے بارے میں صحیح ہے جنہیں چھوٹے پیمانے پر سہی مگر پسندیدہ مشغلے کو پیشہ ور سرگرمی بنا لینے کا موقع ملا اور یوں اپنی مرضی کا جیون بِتانے لگے۔ تو، بھائی جان، نکتہ کیا ابھرا؟

نکتہ صرف اتنا کہ وہ سبھی کچھ جسے اقبال نے ’یہ مالِ و دولتِ دنیا، یہ رشتہ و پیوند‘ کہہ کر ٹھکرا دیا تھا وہ اِس گیدڑ سنگھی کی بدولت توجہ کے مرکزے سے ہٹ کر پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اِسی لئے تو رواں صدی شروع ہونے سے پہلے ولایت میں دس سال گزار کر اپنی رضا سے وطن لوٹے تو ایک خوش باش بیوی اور دو بچوں کے سوا ’سلطنتِ شغلیہ‘ کا خزانہ خالی تھا۔ کسٹم ڈپارٹمنٹ میں ایک دوست نے کاغذات دیکھے اور سی بی آر کتابچہ (پرانا نام) تھما کر کہنے لگے کہ اب تم غیر ملکی صحافی کے طور پر بانڈڈ ویئر ہاؤس سے ہر چیز ڈیوٹی فری لے سکتے ہو اور کسی بھی مالیت کی کار امپورٹ کرنے کی اجازت ہے۔ دو سال گزرنے پر کتابچہ جوں کا توں واپس کیا تو دوست کے منہ سے نکلا ”لکھ دی لعنت“۔ مَیں نے تب بھی یہی جواب دیا تھا کہ ”یار، تمہارے دفتر کی چائے بہت اچھی ہے، مجھے پی کر بے حد غلاف آیا“۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment