Home » خادم حسین رضوی اور ڈیڑھ سو روپے

خادم حسین رضوی اور ڈیڑھ سو روپے

by ONENEWS

خادم حسین رضوی کا نام پہلی بار میں نے 2015ء میں اس وقت سنا جب پنجاب میں تحریک رہائی ممتاز قادری نامی گروپ منظر عام پر آیا۔ اس گروپ کا مقصد پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ملک ممتاز قادری کی رہائی تھا۔ آگے چل کر یہی گروپ تحریک لبیک یارسول اللہ بنا اور ممتاز قادری کی 2016ء میں پھانسی کے بعد اس کا سیاسی چہرہ تحریک لبیک پاکستان کے طور پر وجود میں آیا۔

یہ وہ وقت تھا جب میرا زیادہ تر وقت ایک ڈیسک پر گزرا کرتا تھا اور بڑے معاملات پر رپورٹنگ کرنے کا موقع ذرا کم ہی ملا کرتا تھا۔ انٹرنیٹ اور ٹی وی پر خادم حسین رضوی کی تقاریر دیکھ کر اکثر یہ لگتا تھا کہ یہ صاحب ایک انتہائی خطرناک شخصیت ہیں۔ پھر 2017ء میں ہم نے فیض آباد پر اسی تنظیم کا 21 روزہ دھرنا دیکھا اور یہ وہی موقع تھا کہ اس جماعت کی سیاسی طاقت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سابق وزیر داخلہ احسن اقبال پر جب مئی 2018ء میں حملہ ہوا تو اس وقت معلوم ہوا کہ حملہ آور تحریک لبیک پاکستان سے متاثر ایک شخص تھا۔ اسی طرح جب مارچ 2019ء میں بہاولپور میں ایک طالبعلم نے اپنے پروفیسر کا کالج کے اندر چھری کے وار سے قتل کردیا اور بعد میں تفتیش کاروں سے معلوم ہوا کہ وہ نوجوان بھی خادم حسین رضوی کی تقاریر سنا کرتا تھا اور پرتشدد خیالات نے اس کے ذہن میں انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بنایا۔ ان دو واقعات سے ایک بات تو ثابت ہوتی ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے منظر عام پر آنے کے بعد ملک میں توہین مذہب کے قانون اور توہین رسالت ﷺ کے نام پر ہونیوالے پرتشدد واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا۔

اگست 2018ء میں خادم حسین رضوی کے انٹرویو کے دوران لی گئی تصویر

بہرحال خادم حسین رضوی کی سیاست اور ان کی جماعت پر مجھ سمیت کئی صحافی سینکڑوں مضامین لکھ چکے ہیں لیکن اس تحریر کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اسٹیج اور کیمرے کے پیچھے جب میری خادم حسین رضوی سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کی شخصیت کو کیسا پایا۔

یہ بات ہے 2018ء کے انتخابات کے بعد کی جب میں ان کا انٹرویو کررہا تھا، انٹرویو کے دوران ان کا وہی چہرہ جو اکثر تقاریر کے دوران ہوتا تھا وہی نظر آیا، توہین مذہب پر ان کا سخت گیر مؤقف کیمرے پر برقرار رہا لیکن کیمرہ بند ہونے کے بعد جس خادم حسین رضوی سے میری ملاقات ہوئی وہ کافی حد تک مختلف تھے۔

وہ بات بات پر علامہ اقبال اور دیگر شعراء کے اشعار مجھے سناتے رہے اور مجھے بیٹا یا بچہ کہہ کر مخاطب کرتے رہے۔ یہی وہ وقت تھا جب میں نے انتہائی نرم انداز میں ان سے کہا کہ میں ان کی سیاست کے طریقے سے اتفاق نہیں کرتا اور نہ مذہب کے نام پر انتشار کو اچھا سمجھتا ہوں۔ یہ باتیں کرتے وقت دل میں ایک ڈر تھا کہ شاید علامہ میری باتوں کا برا مان جائیں گے اور جلی کٹی سنا ڈالیں گے لیکن انہوں نے نرم لہجے میں صرف اتنا کہا کہ آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

بہرحال اس گفتگو کے بعد میں نے ان سے اجازت چاہی تو وہ کہنے لگے کہ وہ مجھے تحفتاً کچھ دینا چاہتے ہیں لیکن اس وقت ان کے پاس کچھ نہیں، میں نے انہیں صاف الفاظ میں کہا کہ بحیثیت رپورٹر میں ان سے کچھ نہیں لے سکتا کیونکہ یہ صحافتی اصولوں کیخلاف سمجھا جاتا ہے۔ پھر بھی انہوں نے 150 روپے اپنی جیب سے نکالے اور مجھے دینے لگے لیکن میں نے پھر انکار کردیا، یہ وقت تھا جب ان کے چہرے پر سختی کے تاثرات نمودار ہوئے اور انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی چھوٹا پیغمبر اسلام ﷺ سے ملنے آتا تو وہ اسے خالی ہاتھ نہیں جانے دیتے تھے اور علامہ کا مجھے پیسے دینا اسی سنت نبویؐ کی پیروی ہے اور میرا پیسے لینے سے انکار کرنا گویا سنت سے انکار کرنا ہوگا۔ بس یہ سننا تھا کہ میں نے جھٹ پٹ پیسے لے کر جیب میں رکھ لئے کیونکہ بھلا کون شخص ہوگا جو تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ کے سامنے سنت سے انکاری ہوجائے۔

علامہ خادم حسین گزشتہ روز لاہور میں 55 سال کی عمر میں انتقال کر گئے، ان کی نماز جنازہ ہفتے کی صبح مینار پاکستان پر ادا کی جائے گی۔

.

You may also like

Leave a Comment