0

حیات بلوچ اور مدثر مینگل کا بہیمانہ قتل

نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے درست نشاندہی کی ہے کہ صوبے میں لاپتہ افراد کا مسئلہ عسکریت پسندی سے تعلق رکھتا ہے، شورش ختم نہ ہو، امن قائم نہ ہو اور مذاکرات نہ ہوں تو یہ مسائل موجود رہیں گے۔ گویا اس آگ میں بے گناہوں کے بھسم ہونے کا احتمال رہے گا۔ حیات بلوچ کسی خبطی و شقی القلب اہلکار کے ہاتھوں پیوند خاک ہوگا تو کوئی معصوم مدثر مینگل کسی سفاک اور بے درد عسکریت پسند کے بم حملے کا نشانہ بنے گا۔ تضادات ہی ہوں گے، منفی و خلاف حقیقت ابلاغ ہوگا اور عوام کے سامنے حالات و واقعات کی دھندلی تصویر ہوگی۔ طالب علم حیات بلوچ کے قتل کا سانحہ بہت ہی دردناک تھا، جس کا فرنٹیئر کور کے ایک اہلکار نائیک شاہدی اللہ نے 13 اگست 2020ء کو ضلع کیچ (تربت) میں آبسر کے علاقے میں بہیمانہ طور پر فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

حیات بلوچ کراچی یونیورسٹی میں شعبہ فزیالوجی میں بی ایس فائنل ایئر کا طالب علم تھا اور کرونا کی وجہ سے چھٹیوں پر اپنے آبائی علاقے آیا ہوا تھا، اس دن فرنٹیئر کور کی گاڑی پر بم حملہ ہوا، نتیجے میں 3 اہلکار زخمی ہوگئے۔ دھماکے کے بعد اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی اور قریب کھجور کے باغ میں مشتبہ افراد کے تعاقب میں گھس گئے۔ حیات بلوچ اس وقت اپنے بوڑھے والد اور والدہ کے ساتھ باغ میں ہاتھ بٹانے میں مصروف تھا۔ اہلکار اسے پکڑ کر باغ سے باہر سڑک پر لے آئے اور فریاد و التجائیں کرتے بوڑھے والدین کے سامنے جواں سال حیات پر گولیاں برسادیں۔

واقعے کیخلاف رفتہ رفتہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لوگوں نے بولنا شروع کیا، کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں اور ملک کے دیگر شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ سینیٹ آف پاکستان، بلوچستان اسمبلی اور سندھ اسمبلی میں مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے بھی آواز اٹھائی۔ بجا طور پر متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے اور قاتل اہلکار کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ بعض حلقوں نے یہ موقع بھی افواج اور ریاست کے خلاف ہاتھ سے جانے نہ دیا، یہ بات پیش نظر رہے کہ ایف سی حکام نے ملزم اہلکار کو تحفظ دینے اور اس کی پردہ داری کرنے کی بجائے واقعہ ذرائع ابلاغ پر رپورٹ ہونے سے پہلے ہی یعنی چند گھنٹوں میں پولیس کے حوالے کردیا تھا، مقتول کے والد مرزا نے تھانے میں ملزم کی شناخت کرلی۔

ملزم نے 20 اگست کو خود بھی جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اعترافِ جرم کرلیا، جس کے بعد ان پر قتل اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ پولیس تفتیش اور دیگر کارروائی پوری ہونے کے بعد ملزم ایف سی اہلکار جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا، یعنی فیصلہ تربت کی سیشن کورٹ کے سپرد ہوچکا ہے۔ یقیناً مقتول حیات بلوچ کا خاندان کیس کی پیروی کرے گا، ملزم نے پولیس کو تفتیش میں بیان دیا کہ وہ دو حملوں میں پہلے بھی زخمی ہوچکا ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں بالخصوص مکران میں تعینات ایف سی اہلکاروں پر اس نوعیت کے پے در پے حملے ہورہے ہیں، حالیہ مہینوں میں مکران میں اس طرز کے حملوں میں ایک میجر سمیت درجن سے زائد اہلکار شہید ہوچکے ہیں۔

انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور (ساﺅتھ) میجر جنرل سرفراز علی دوسرے حکام کے ساتھ مقتول کے گھر گئے۔ پیش ازیں ایس ایس پی تربت نجیب اللہ پندرانی نے واقعے سے متعلق ذرائع ابلاغ کو تفصیلات بتائیں، ان کے ساتھ مقتول کے بھائی، چچا اور علاقے کے دوسرے معتبرین بھی موجود تھے۔ آئی جی ایف سی نے متاثرہ خاندان کو ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

فرنٹیئر کور بلوچستان ساﺅتھ کے ترجمان کی جانب سے بدھ 19 اگست کو جاری کئے گئے بیان میں بتایا گیا کہ انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے ایف سی اہلکار کو فائرنگ کے فوری بعد باقی اہلکاروں نے قابو کرکے اس سے اسلحہ قبضے میں لے لیا اور بنیادی محکمانہ تفتیش کے بعد آئی جی ایف سی کے حکم پر ملزم اہلکار کو 2 گھنٹے کے اندر ہی خود پولیس کے حوالے کیا گیا۔

دیکھا جائے تو حیات بلوچ کے قاتل وہ لوگ اور گروہ بھی ہیں، جن کی پُرتشدد سیاست اور کارروائیوں نے صوبے کو امن کے مسئلے سے دوچار کر رکھا ہے اور اس دن ایف سی کانوائے پر بم حملہ کرنیوالے بھی دراصل حیات بلوچ کے قاتل ہیں، جنہوں نے 14 اگست سے پہلے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دھماکے کئے، کہیں پاکستان کے جھنڈے فروخت کرنیوالے اسٹال اور دکانیں اور کہیں فورسز بم دھماکوں کا نشانہ بنیں۔

حیات بلوچ کے قتل کے سانحے سے ایک دن قبل (12 اگست) کوئٹہ کے بروری روڈ پر جھنڈے فروخت کرنیوالی دُکان پر دستی بم حملہ کیا گیا، جس سے 5 افراد زخمی ہوئے، ایک 10 سالہ بچے محمد مدثر مینگل کے جسم میں بھی دستی بم کے ٹکڑے پیوست ہوئے اور وہ خالقِ حقیقی سے جاملا۔

یہ بچہ قرآن پاک حفظ کررہا تھا، کلی حسنی بروری کا رہائشی تھا، بلوچوں کے قبیلے مینگل سے تعلق تھا، والد خان محمد خود بھی حافظِ قرآن ہیں لیکن اس 10 سالہ معصوم بلوچ کو کسی نے یاد نہیں کیا، نہ اس کے قاتلوں پر طعن و تشنیع ہوئی، نہ مظاہرہ ہوا، نہ پلے کارڈز پر مذمت کے الفاظ تحریر کئے گئے، نہ ہی کسی لکھاری کو اس بم دھماکے کی بھنک پڑی، نہ کسی نے اس بچے کے قتل کے سوگ و یاد میں موم بتیاں روشن کیں، حالانکہ 14 اگست سے پہلے صوبے میں دہشتگردی کے جتنے بھی واقعات ہوئے وہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ترجمان جیئند بلوچ نے دھڑلے سے قبول کئے، حتیٰ کہ 12 اگست کا دھماکا بھی تسلیم کرلیا، جس میں اس معصوم بلوچ بچے کی جان گئی۔

یہ خاموشی در حقیقت شدت پسندوں کی عسکری عملیات اور بے گناہوں کے قتل کی حمایت ہے، جیسے 10 اگست کو چمن میں اینٹی نارکوٹکس فورس کی گاڑی ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کا نشانہ بنی، جس میں اے این ایف کے ایک اہلکار سمیت 6 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تو واقعے کیخلاف چمن، کوئٹہ شہر اور صوبے کے مختلف پشتون علاقوں میں مظاہرے کئے گئے۔ ان تمام مظاہروں میں سرے سے ایسا تاثر ملا ہی نہیں کہ جس میں دہشت گردوں کی مذمت کی جارہی ہو، گویا ملبہ یا الزام ریاست یا سیکیورٹی فورسز پر ڈالنے کی کوشش کی گئی جبکہ اس واقعے کی ذمہ داری واقعہ افغانستان میں بیٹھے پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں میں سے ایک جماعت الاحرار نے قبول کی۔

دراصل اس دو رنگی اور تضادات کی حامل سیاست، صحافت اور انسانی حقوق کے جانبدارانہ دعوﺅں نے بھی بلوچستان کو مسائل سے دوچار کیے رکھا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات ہوں اور وہ خود بھی بات چیت کی طرف آئیں، بلوچستان کے لوگ قتل و غارت کی سیاست کی بجائے امن چاہتے ہیں۔

.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں