Home » حکیم الامت رحمتہ اللہ علیہ

حکیم الامت رحمتہ اللہ علیہ

by ONENEWS

حکیم الامت رحمتہ اللہ علیہ

حضرت علامہ محمد اقبالؒ  نے مسلما نوں میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس لینے کی تحریک پیدا کی۔ یہ سب آپ نے اُس وقت کیا جب مسلمانان برصغیر کو اس مدد و رہنمائی کی اشد ضرورت تھی اور ان کے مستقبل پر مایوسیوں کے سائے منڈلا رہے تھے۔ اْس کڑے وقت میں علامہ اقبالؒ نے اپنی دانائی و حکیمانہ شاعری سے اُمت کے مردہ جسم میں ایسی روح پھونکی کہ پورے ہندوستان کے مسلمان یک زبان ہو کر اپنے حقوق کے لئے کھڑے ہو گئے…… پھر لاکھوں جانوں کی قربانیوں کے بعد مملکت خداداد پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک اسلامی فلاحی ریاست بن کر اُبھرا۔ پاکستان کی آزادی، ایران، ترکی اور مصر کا انقلاب سب علامہ اقبال کی فکر کے مرہونِ منت ہیں۔ اقبال نے خاص طور پر اُمت مسلمہ کے نوجوانوں کو مخاطب کر کے ان کو شاہین سے تشبیہ دی،جو درحقیقت لقب سے بڑھ کر ایک فلسفہ ئ بیداری تھا۔ اقبال کی شب و روز اور لمحہ لمحہ کی سعی و کاوش تھی کہ اُمت کا ہر نوجوان اس کی حقیقت کو سمجھ کر فلسفہ ئ  خودی سے روشناس ہو جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی شاعری ہر دور کے مسلمانوں کے لئے بیداری کا پیغام ِ ہے۔ کٹھن و نا اُمیدی کے دور میں مسلمانوں کے لئے اْمید کی کرن روشن کرنے اور شکستہ بدن و زخمی دل پر مرہم کا کام کرنے کا سہرا صرف حکیم الامت علامہ اقبال ہی کا خاصہ تھا۔ آپ نے اپنی شاعری میں قرآن حکیم کی تشریح کا وہ رنگ پیش کیا، جو ہمیں  کسی اور شاعر کی شاعری میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔آپ نے اُمت کی اصلاح کے لئے جو راستہ متعین کیا، اُس کی منزل کا ہر راستہ قرآن حکیم تک جا کر کھلتا ہے۔ اقبال کے حوالے سے ناقدین نے ایک تجزیہ، یہ بھی کیا ہے کہ اکثر شاعر وں کے قول و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے، مگر اقبال کی خوبی یہ ہے اْن کی دینی تربیت میں اْن کے والد شیخ نور محمد کی تربیت کا رنگ کوٹ کوٹ کر رچا بسا تھا۔ آپ کے والد ِ محترم نے دینی حوالے سے اقبال کی جو تربیت کی اُس کی جھلک اُن کی شاعری میں بدرجہ اتم دیکھنے کو ملتی ہے، اس لئے ان کے قول و فعل میں یکسانیت، دین سے وفا شعاری، درویشی، بزرگی وحکمت نے اُمت کو ایسی راہ پر گامزن کیا کہ جس کی ہر آن میں عشق محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کی صدائیں مو جزن ہیں۔یہ اقبال کا ہی کمال تھا کہ انہوں نے ہندوؤں کی مکاری کو بھانپ کر اس حقیقت کو قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے سامنے آشکار کر دیا اور ان سے مسلمانان پاک و ہند کی راہنمائی و مدد کی درخواست کی۔اس بات پر علامہ اقبال ؒ کا جتنا احسان مانا جائے،اتنا کم ہے کہ انہوں نے گھپ اندھیروں میں حق کی روشنی پھیلائی۔ صدشکر اس خالق ِ باری تعالیٰ کا کہ اگر وہ قائداعظم و اقبال کو نہ بھیجتے تو آج پاکستان کا خواب کبھی شرمندہئ تعبیر نہ ہو پاتا۔

مگر افسوس صد افسوس کہ ہمارے اسلاف نے پاکستان حاصل کر کے قائد و اقبال کے خواب اور جدوجہد کو تو پورا کر دیا، مگر اُن کے فلسفے کے مطابق پاکستان کی تعمیر کے بعد تکمیل کے مراحل ابھی تک ہماری کوتاہ نظری کا شکار ہیں،کیونکہ ہم نے پاکستان کی حقیقی اساس پر اُس طرح کام نہیں کیا، جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ وہ مسلمانان پاک و ہند کے لئے ایک ایسی اسلامی، فلاحی و ریاست کا قیام چاہتے تھے، جس میں مسلمان عین اسلامی اْصولوں کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں۔ ایسی ریاست کا خواب کہ جس کو اقوام عالم میں ایک اسلامی جمہوری ریاست کے طور پر جانا جائے، جس میں عدل و انصاف، تہذیب وتمدن، معاشرتی قدریں اور اسلام کی عملی تصویر پیش کی جا سکے۔وہ ریاست جہاں اقبال کی اُمیدوں کا مرکز اُمت کے وہ نوجوان تھے، جن سے جہالت و غلامی کے گھور اندھیروں میں چراغ سحری کا کام لیا جا سکے،لیکن آج کا نوجوان اپنی اصل  سے بہت دور جا چکا ہے، فکر اُمت تو بہت دور کی بات، یہاں تو اپنے والدین و عزیز و اقارب کی فکر سے بھی عاری یہ نوجوان گلی کوچوں کی زینت بنا فلسفہ اقبال کا منہ چڑھا رہا ہے۔پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا کرنے اور ستاروں پر کمند ڈالنے کی بجائے کسی کرگس کی طرح گوشت نوچنے میں مصروف ہے، تاہم اس کی ذمہ داری تو اربابِ اختیار پر ہی ہے، کیونکہ جیسا بیج بویا جائے گا، فصل بھی ویسی ہی ہو گی۔ اقبال کے شاہینوں کی تعلیم و تربیت، دین سے ہم آہنگی، اخلاق و اخلاص کا درس جو اقبال نے دیا،اُس سے درست معنوں میں متعارف کروانا وقت کا اہم تقاضہ ہے۔

اس ماہ کی منا سبت سے ہمیں اس بات کا اعادہ کرنا ہو گا کہ ہم اقبال کی سوچ و فکر کو سمجھیں، قوم کے ہر نوجوان کو خودی کا فلسفہ سمجھائیں، نظام تعلیم میں اقبال کے فلسفہ ئ  خودی کو ایک مکمل پیکیج کے طور پر رائج کریں اور اس مملکت خدا داد کا ہر شعبہئ زندگی اسلام کے درخشاں نظام کے مطابق ڈھالیں۔ اب جبکہ حکیم الا مت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کو ہم سے بچھڑے تقریباً اَسی سال سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے، ہمیں اپنی روش کو من حیث القوم بدلنا ہو گا۔ ہمیں  اپنی ستر سال کی کارکردگی پر نادم ہونا چاہئے کہ ہم نے وطن عزیز کو اقبال و قائد کی فکر سے دور رکھا، سودی نظام، افراط و تفریق، مغرب کی فکر میں ڈوبا نظام تعلیم، طرز معاشرت، تمدن، بودوباش سب اسلام کی نفی ہے۔ اب ناقدین کی طرف سے کہا یہ جاتا ہے کہ اقبال کے ہاں مغربی تہذیب سے متعلق مخالفانہ تنقید ملتی ہے، مگر یہ سوچ بھی اقبال کے متعلق ادھورے مطالعہ کا ہی نتیجہ ہے،کیونکہ اقبال نے مغربی تہذیب کے صرف اُن پہلوؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے،جو اسلام کی زد ہیں۔ آج ہمیں اقبال کی اسلام سے محبت، فلسفے اور صوفیانہ  فہم و تدبر پر غورو فکر کی ضرورت ہے:

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے

دھر میں عشق محمد سے اُجالا کر دے

اقبال کی فکر کا نچوڑ ہمیں اس ایک شعر میں ملتا ہے، جو انہیں سمجھنے کے لئے کافی ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment