Home » حکومت کا ریپ کے مجرمان کونامرد بنانے کاآرڈیننس لانے کافیصلہ

حکومت کا ریپ کے مجرمان کونامرد بنانے کاآرڈیننس لانے کافیصلہ

by ONENEWS

وفاقی حکومت نے ریپ کے مجرمان کیخلاف سخت قوانین پر مبنی آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کہتے ہیں کہ زیادتی کے مجرموں کو نامزد کرکے ان کی کمیکل کاسٹریشن (نا مرد بنایا جانا) کی جائے گی۔ وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے بھی اینٹی ریپ آرڈیننس 2020ء کی منظوری دیدی۔

وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ حکومت نے ریپ کے مجرمان کو نامرد کرنے کیلئے آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ان کا کہنا ہے کہ زنا بالجبر کے مجرموں کیلئے سخت قوانین بنائے جارہے ہیں، ریپ کے مجرموں کو نامرد کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ کیمیکل کاسٹریشن مخصوص مدت یا زندگی بھر کیلئے ہوسکے گی، کئی ممالک میں جنسی مجرموں کو نامرد بنائے جانے کے قوانین  موجود ہیں، ریپ کے مجرموں کا ڈیٹا بیس بھی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سیکس اوفینڈرز رجسٹری نادرا کے ریکارڈ کا حصہ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں : کشمور میں خاتون اور بچی کا 2 ہفتے تک گینگ ریپ

بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ 10 سے 25 برس قید کے علاوہ تا عمر قید اور موت کی سزائیں ہوں گی، پارلیمنٹ کا سیشن نہ ہونے کی وجہ سے آرڈیننس جاری کیا جائے گا۔

فوٹو: پی آئی ڈی

وفاقی کابینہ کا اجلاس

اس سے قبل وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں بڑے فیصلے کئے گئے۔ اجلاس نے ریپ کے مجرموں کو مردانہ خصوصیات سے محروم کرنے کیلئے قانون میں ترمیم اور ریپ آرڈیننس 2020ء کی اصولی منظوری دے دی۔

وزیراعظم نے کہا کہ معاملہ سنگین نوعیت کا ہے، قانون سازی میں تاخیر نہیں کریںگے، ایسے جرائم کسی بھی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کئے جاتے، خواتین پولیسنگ، فاسٹ ٹریک مقدمات اور گواہوں کا تحفظ بنیادی حصہ ہوگا۔

مزید جانیے : بچوں کاریپ اورویڈیو، مجرم کو 3مرتبہ سزائے موت کا حکم

وفاقی وزراء فیصل واوڈا، اعظم سواتی اور نور الحق قادری نے ریپ کے مجرموں کو سرعام پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کردیا۔

وزیراعظم نے کہا ابتدائی طور پر کاسٹریشن قانون کی طرف جانا ہوگا، قانون سازی واضح اور شفاف ہوگی، سخت سے سخت اطلاق بھی یقینی بنایا جائے گا تاکہ متاثرہ خواتین یا بچے بلا خوف و خطر اپنی شکایات درج کرا سکیں، ان کی شناخت کا تحفط کیا جائے گا۔

وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے ٹویٹر پیغام میں دونوں قوانین کی کابینہ سے منظوری کی تصدیق کردی۔

اجلاس میں کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر سست روی کا معاملہ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر امین الحق نے اٹھایا۔ وزیراعظم نے جمعرات کو خصوصی اجلاس بلالیا۔

وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے بیوروکریسی سے شکایت بھی اجلاس میں رکھیں، انہوں نے حکومتی معاملات میں رکاوٹیں ڈالنے والے افسران کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 16 نومبر جبکہ کابینہ کی توانائی کمیٹی کے 19 نومبر کے اجلاسوں میں کئے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔

وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے قیام کی اصولی منظوری دیدی، یہ زونز طور پر کراچی، لاہور، پشاور، اسلام آباد، کوئٹہ اور ہری پور میں قائم کئے جائیں گے۔

You may also like

Leave a Comment