Home » حکومت اپوزیشن ڈیڈ لاک اور حالات کا جبر

حکومت اپوزیشن ڈیڈ لاک اور حالات کا جبر

by ONENEWS

حکومت اپوزیشن ڈیڈ لاک اور حالات کا جبر

تاریخ موجودہ دور کو کس نام سے یاد کرے گی، اس بارے میں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ پہلے تو ایسی کوئی مثال ہی موجود نہیں …… نہ تو  کبھی پہلے کورونا کی وبا آئی اور نہ اس کے دوران کوئی حکومت مخالف تحریک چلی۔ اب قصہ کچھ یوں ہے کہ پی ڈی ایم، جو حکومت مخالف محاذ ہے، آج پشاور میں جلسہ کرنے پر تلا ہوا ہے، جس کی صوبائی حکومت نے اجازت نہیں دی۔ آخر وقت پر شاید اجازت دے بھی دی جائے لیکن جو کشیدہ فضا بن چکی ہے، اس میں اپوزیشن کو مفت میں فائدہ مل رہا ہے، وہ اپنے جلسوں کو جاری رکھنے کا اس طرح اعلان کر رہی ہے، جیسے وہ ملک و قوم کے لئے امرت دھارا ہوں۔ حکومت کے پاس سوائے اس کے اور کوئی دلیل یا جواب نہیں کہ ان جلسوں کی وجہ سے کورونا مزید پھیل سکتا ہے۔ اپوزیشن غالباً یہ طے کر چکی ہے کہ موجودہ فضا کو بھی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے استعمال کرنا ہے۔ سیاسی فائدہ اٹھانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ حکومت سے ایسے کام کروائے جائیں جو اس کی بوکھلاہٹ اور بے چینی کو ظاہر کریں۔

اگر حکومت یہ تہیہ کر لیتی ہے کہ کورونا کی وجہ سے سیاسی جلسوں کی اجازت نہیں دینی اور اس کے لئے ریاستی طاقت کا استعمال بھی کرنا ہے تو کسی نے بھی اس کشیدگی کے عالم میں اسے یہ شاباش نہیں دینی کہ اس نے کورونا کو روکنے کے لئے  بڑا اچھا فیصلہ کیا، بلکہ ہر طرف سے یہ آواز ہی آنی ہے کہ حکومت اپوزیشن کی تحریک سے خوفزدہ ہو کر جمہوریت کش اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اپوزیشن اس کورونا دور کو بھی اپنے لئے ایک موقع بنانا چاہتی ہے۔ اسے اس بات کی قطعاً پروا نہیں کہ کورونا پھیلا تو کتنے لوگ مریں گے، اسے تو اس بات سے غرض ہے کہ دباؤ ڈال کر حکومت سے ایسے الٹے سیدھے کام کروائے جائیں جو اس کی کمزوری کو ظاہر کریں۔

اصول بھی ہے روایت اور قانون قاعدہ بھی کہ کوئی بھی تنظیم کسی جلسے کے لئے انتظامیہ سے اجازت لیتی ہے، عموماً اجازت مل جاتی ہے، اگر نہ ملے تو دونوں میں گفت و شنید کے بعد کوئی راستہ نکال لیا جاتا ہے۔ اس وقت چونکہ صورت حال ایسی نہیں کہ حکومت کسی نظریہ ضرورت کے تحت جلسوں کی اجازت دیدے، اس لئے شدید ڈیڈ لاک پیدا ہونے کا امکان ہے جو کسی بڑے سانحے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ حکومتی حلقے شاید یہ سمجھتے تھے کہ کورونا پھیلنے کی خبروں سے اپوزیشن پر عوامی دباؤ بڑھے گا اور وہ خود ہی اپنے جلسوں کا شیڈول ملتوی کر دے گی۔ لیکن اپوزیشن ایسا کوئی دباؤ قبول کرنے پر تیار نہیں، بلکہ یہ طعنہ سننے کو بھی تیار ہے کہ عوام کی جانوں پر سیاست کر رہی ہے۔ اب دعا تو یہی کرنی چاہئے کہ حماقت در حماقت کی اس فضا میں سب کچھ خیریت سے گزرے۔ حکومت کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے جو سیاسی کشیدگی کو پُر تشدد احتجاج میں بدل دے اور اپوزیشن کے جلسوں سے کورونا اتنا نہ پھیل جائے کہ کنٹرول ہی میں نہ رہے۔

اپوزیشن کی سوچ غالباً یہ ہے کہ تحریک کا جو ٹیمپو بن چکا ہے اور کامیاب جلسوں کی وجہ سے جو سیاسی دباؤ بڑھا ہے، اگر کورونا کی وجہ سے جلسے روک دیئے گئے تو پھر نجانے کب ایسا ٹیمپو بنے؟ کورونا کا تو پتہ نہیں کب ختم ہو، اس کی وجہ سے حکومت کو اگر ریلیف مل گیا تو وہ شاید اپنی مدت پوری کر جائے۔ اس لئے تحریک کا سلسلہ نہ روکا جائے اور یہ ہر قیمت پر شیڈول کے مطابق جاری رہے مسئلہ یہ بھی ہے کہ عوام خود بھی ہوش کے ناخن نہیں لے رہے۔ وہ جلسوں میں جوق در جوق چلے آتے ہیں۔ پی ڈی ایم کے جلسے تو رہے ایک طرف مسلم لیگ (ن) اپنے جلسے بھی روکنے کے لئے تیار نہیں اور مریم نواز 26 نومبر کو دیپالپور میں ایک بڑا جلسہ کرنے جا رہی ہیں۔  اپوزیشن جلسے کرنا چاہتی ہے اور عوام ان میں شریک ہونا چاہتے ہیں تو حکومت ہاتھ ملنے کے سوا کر ہی کیا سکتی ہے۔

پشاور کا جلسہ ہو جائے تو اس کے بعد ساری نظریں ملتان کے جلسے پر آٹکیں گی۔ پیپلزپارٹی اس جلسے کو اپنے یوم تاسیس سے منسلک کئے ہوئے ہے حالانکہ یہ پی ڈی ایم کا شیڈول جلسہ ہے، پیپلزپارٹی والوں کی مجبوری سمجھ میں آتی ہے۔ اگر وہ 30 نومبر کو صرف اپنے یوم تاسیس کی مناسبت سے جلسہ کرتی تو شاید سید یوسف رضا گیلانی کے گھر کا پنڈال بھی نہ بھرتا، کیونکہ اس کی ملتان میں مقبولیت صرف گیلانی ہاؤس تک ہی محدود ہے، تاہم پی ڈی ایم کا جلسہ قلعہ قاسم باغ میں منعقد ہو رہا ہے، جسے بھرنے والی تحریک ہمیشہ کامیاب رہی ہے۔ یہ جلسہ اس لئے کامیاب ہوگا کہ اس میں مریم نواز بھی شریک ہوں گی۔ مسلم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت اس جلسے کی کامیابی کے لئے ملتان کا دورہ بھی کر چکی ہے اور رانا ثناء اللہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ملتان کا جلسہ حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ یہاں یہ افواہیں بھی گرم ہیں کہ انتظامیہ ملتان جلسے کی اجازت نہیں دے گی۔ کیونکہ این سی او سی کے فیصلے کی وجہ سے وہ تین سو سے زیادہ افراد کے اجتماع کی اجازت دے بھی نہیں سکتی تو کیا پشاور کی طرح ملتان میں بھی دمادم مست قلندر ہوگا؟ یا کوئی ایسا کام کیا جائے گا جو ذوالفقار علی بھٹو دور میں اپوزیشن کے ساتھ ہوا تھا کہ جلسے سے ایک دن پہلے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں پانی چھوڑ دیا گیا تھا اور جب جلسے کے منتظمین صبح اٹھ کر آئے تو قاسم باغ اسٹیڈیم دریا کا منظر پیش کر رہا تھا۔

اس صورت حال کو قابلِ رشک قرار نہیں دیا جا سکتا، یہ اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ کورونا جیسی جان لیوا بیماری کے دنوں میں ہمارے سیاست دان مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے سے قاصر ہیں۔ قصور صرف اپوزیشن کا نہیں حکومت کا بھی ہے کہ وہ ڈائیلاگ شروع ہی نہیں کر سکی۔ ایک ہی راگ الاپ رہی ہے کہ احتساب کا سلسلہ بند نہیں ہوگا، کسی کو این آر او نہیں ملے گا اگر اور کچھ نہیں تو حکومت اپنے اس مؤقف کے بارے میں ہی اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کی کوشش کر سکتی ہے۔ ماضی میں ہمیشہ حکومت نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے، کبھی یہ نہیں ہوا کہ اپوزیشن کی دعوت پر مذاکرات ہوئے ہوں۔ اب جبکہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اپوزیشن کورونا کی وجہ سے اپنی تحریک ختم یا مؤخر کرنے کو تیار نہیں تو حکومت کو دوسرے آپشن کے طور پر اپوزیشن سے رابطے کی کوئی سبیل نکالنی چاہئے۔

ڈیڈ لاک توڑنے کی ذمہ داری حکومت کے کاندھوں پر ہے۔ کم از کم اتمام حجت کے لئے ہی سہی، ایک کوشش تو ہونی چاہئے تاکہ عوام کو پتہ چلے کہ کون کورونا پر جوا کھیل رہا ہے اور سیاسی مفاد کو عوام کی جانوں پر فوقیت دیئے ہوئے ہیں …… چلتے چلتے اپوزیشن سے بھی ایک گزارش کرنی ہے کہ اگر وہ اپنی ضد پر اڑ ہی گئی ہے اور جلسے کسی صورت ملتوی کرنے کو تیار نہیں تو کم از کم ان جلسوں میں احتیاطی تدابیر ہی کو یقینی بنائے، ماسک اور سینی ٹائزر کی فراہمی کو جلسوں کے خرچے میں شامل کرے تاکہ سیاست کے جنون میں مبتلا عوام کی جانوں پر کورونا کے عذاب کو تو ٹالا جا سکے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment