Home » حکومت اور اپوزیشن کی محاذ آرائی

حکومت اور اپوزیشن کی محاذ آرائی

by ONENEWS

حکومت اور اپوزیشن کی محاذ آرائی

داخلی وسیاسی امور و معاملات اور بیرونی موضوعات پر لکھنے والے کسی بھی صحافی یا شخص کو اپنے مخالفین کا نا قد تو ضرور ہونا چاہئے،لیکن اس کے قلم کی سیاہی سے تعصب، بْعد اور بْغض کی بْو ہرگزنہیں آنی چاہئے،کیونکہ نہ تو یہ طرز عمل اس کے شایان شان ہو سکتاہے اور نہ ہی یہ رویہ اسے زیب دیتاہے۔ اسی طرح کسی صحافی اور لکھنے والے کو کسی ادارے یا اس کے سربراہ کے پبلک ریلیشنز آفیسر کا کردار ہی نہیں نبھانا چاہئے، یعنی اگر تنقید کرنی ہو تو وہ بھی حق بجانب اور اگر تعریف کرنا مقصود ہو تو وہ بھی جواز مہیا کیے بغیر نہیں ہونی چاہئے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ لندن میں روبہ صحت ہونے کے بعد میاں محمد نواز شریف وطن واپس تشریف لا کر حکومت سے لڑتے، لیکن انہوں نے تو پاکستان کی بجائے لندن کو اپنا مسکن بنا لیا ہے تو ان کی مرضی، ورنہ نیلسن منڈیلا بھی تو 27سال جیلوں میں گزارنے کے باوجود اقتدار اور اپنا حق لینے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مَیں نے کبھی چیزوں کو تعصب کی عینک لگا کر نہیں دیکھا،بلکہ محدب عدسے سے چیزوں کا بغور مطالعہ ضرور کیا اور پورے محاکمے کے بعد ہی قلم اٹھایا ہے۔ اس وقت حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان جاری محاذ آرائی،بلکہ سر پھٹول اپنے نقطہ عروج کو چھو رہی ہے۔ ترازو کے دونوں پلڑے برابر ہیں۔ پے در پے جارحانہ حملے ہو رہے ہیں۔ اینٹ کا جواب ترکی بہ ترکی نہیں،بلکہ سادہ لفظوں میں پتھروں سے دیا جا رہا ہے، لیکن اہم سوال یہ ہے کہ ہم دنیا کو پیغام کیا دینا چاہ رہے ہیں؟…… ہمارے نزدیک مصروف کار فریقین میں کسی ایک کو بھی حسن عمل کا سرٹیفکیٹ دینا ممکن نہیں اوریہ صورت آج کی نہیں،بلکہ ماضی ئ قریب و بعید کے حکومتی اور اپوزیشن عناصر کے بارے میں بھی ہمیشہ رہی ہے۔

ہم آج سے چند ماہ پہلے بستر علالت پر محو استراحت میاں محمد نواز شریف کو دیکھتے تھے تو ان کے لئے ہمارے ہی نہیں،بلکہ ہر صاحب دل کے دل میں ہمدردی کے جذبات پیدا ہونا فطری امر تھا،یہی وجہ ہے کہ اسی ہمدردی اور احساس کی وجہ سے انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی۔ کچھ عرصہ میاں صاحب لندن کے ہسپتالوں میں زیر علاج رہے۔

آج کل کی صورتِ حال کے تناظر میں وہ ویڈیو لنک خطابات سے مسلم لیگ کے متوالوں کے نہ صرف لہوکو گرما رہے ہیں،بلکہ مخالفین پر گرج برس بھی رہے ہیں اور اپنے زندہ ہونے کا احساس بھی دلا رہے ہیں۔ہمارے لئے کسی بھی فریق کو حسن ِ عمل کا سرٹیفکیٹ دینا مشکل ہی نہیں، نا ممکن ہے اور وجہ محض اس کی یہی ہے کہ نہ تو میاں محمد نواز شریف کے عہد اقتدار میں ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں کھودی جا سکیں اور نہ ہی وزیراعظم عمران خان گزشتہ دو سوا دو سال میں آئندہ تاریخ کے صفحات پر اپنی گرانقدر خدمات اور عوامی امنگوں و آرزوؤں اور آدرشوں کے حوالے سے اپنے نقش چھوڑنے میں کامیاب ہو سکے۔ہمارے لئے یہ کہنا قرین انصاف ہے کہ میاں محمد نواز شریف کی نسبت تو نوجوان بلاول زرداری محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں اور وہ تنقید کرتے وقت اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔

جمعہ کے روز بھی انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ کے جلسہ میں میاں محمد نواز شریف کی جانب سے نام لے کر کسی شخصیت کو ہدف تنقید بنانے کا سن کر بڑا دھچکا لگا، نیز یہ کہ فوجی قیادت کانام لینا میاں محمد نواز شریف کا ذاتی فیصلہ ہے۔ اس بیانیہ سے بلاول زرداری میاں صاحب کے مقابلے پر ایک پختہ کار سیاست دان محسوس ہوتے ہیں۔انہوں نے اپنے والد گرامی کی طرح کسی مقتدار ادارے کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات بھی کبھی نہیں کی۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment