Home » حکمرانوں کے لئے احتیاط لازم ہے

حکمرانوں کے لئے احتیاط لازم ہے

by ONENEWS

حکمرانوں کے لئے احتیاط لازم ہے

ہم ایک محکمے کے افسر سے ملنے ان کے دفتر پہنچے صاحب ہمیں دیکھتے ہی اپنی کرسی سے اُٹھے، تپاک سے ملے چائے  بسکٹ سے تواضع کی ہم اپنی شہرت  پر اترانے لگے کہ محکمے کا بڑا افسر کتنی گرمجوشی سے ہمارا استقبال کرتا ہے، یعنی ’مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے‘ ہم صاحب سے گفتگو کرتے رہے ساتھ کچھ اور لوگ بھی اپنے مسائل لے کر آگئے صاحب بڑی محبت سے ملے کچھ اور افراد آئے صاحب نے بڑا تعاون کیا پھر اور ایسے ہی جو شخص آتا صاحب چائے پلاتے یا چائے کا پوچھتے تو میں نے سوچا صاحب نے صرف ہم ہی کو پذیرائی نہیں بخشی، بلکہ وہ تو ہر آنے جانے والے کو عزت سے نوازرہے ہیں۔

آج کل آن لائن مشاعروں کا بڑا زور ہے یہ آن لائن مشاعرے کرونا کی دین ہیں ایک شاعرہ نے ہمارے ایک دوست کو کوئی مشاعرہ پڑھتے دیکھا تو انہوں نے اسے اپنے واٹس ایپ ادبی گروپ میں ایڈ کرلیا صرف ہمارا دوست ہی نہیں موصوفہ جو شاعر ہتھے چڑھے اسے اپنے گروپ میں ایڈ کر لیتی ہیں گروپ میں نئے آنے والے مہمان کی بابت گروپ ممبران نے پوچھا تو خاتون نے کہا کہ ہمارے شاعر دوست ہیں ہمارے دوست اپنے بارے شاعرہ کے یہ الفاظ پڑھ کر پھولے نہ سمائے اور جگہ جگہ بڑے فخر سے اس کا تذکرہ بھی کرنے لگے کہ شاعرہ نے ہمیں دوست کہہ دیا اتفاق سے اسی گروپ میں ہمیں بھی ایڈ کرلیا گیا گروپ کا حصہ بننے کے بعد ہم پر یہ آشکار ہوا کہ موصوفہ نے صرف ہمارے دوست کو ہی اپنی دوستی کے قابل نہیں سمجھا، بلکہ وہ تو تقریبا دیگر افراد کو بھی اپنی دوستی سے تعبیر کرتی ہیں وائس میسج میں گروپ کے تمام ممبران سے مخاطب ہوتے فرماتی ہیں گروپ کے تمام دوستوں کا شکریہ جنہوں نے میری غزل کو سراہا یا کامیاب مشاعرے پر داد دی ان واٹس ایپ گروپس میں اب صرف خواتین ہی بن ٹھن کر اپنی غزل کے ساتھ تصاویرنہیں لگاتیں،

بلکہ مرد حضرات بھی سج دھج کر تصاویر بنواتے ہیں کہیں تصویر کسی کو آئینہ دکھا دے تو فوٹو شاپ کی جادوگری سے کام لیا جاتا ہے پھر کوئی شاعر کتنا ہی کہنہ مشق کیوں نہ ہو اسے ایسا چاہا اور سراہا نہیں جاتا اور شاعرہ کی غزل کا ایک مصرع شملہ تو دوسرا مری جارہا ہوتا ہے پھر بھی اسے ڈھیروں داد سے نوازا جاتا ہے ویسے تو ہم نے بڑے نامور ملکی شہرت کی حامل شخصیات کو شاعرات کے سامنے سرنگوں دیکھا ہے ہماری ایک ادبی شاگردہ ہم سے ملنے آئی تو انہیں ایک ایسی شخصیت کا فون آگیا جس شخصیت سے ملنے کے ہم بھی خواہا ں تھے ایک بار انہوں نے ہمیں ملاقات کی اجازت بھی مرحمت فرمائی، لیکن اس حادثے کے بعد ہم نے اس شخصیت سے ملنے کا شوق دبا دیا۔ایک شاعرہ کو کتاب چھپوانے کا شوق تڑپانے لگا آفرین ہے اس پر اس نے عورت ہوتے مردانہ وار کوششیں کی اور کتنے ہی شاعروں سے شاعری لکھوا کر کتاب مکمل کرلی ایک روز وہ مجھے اپنی کوئی غزل سناتے ایک لفظ پر آکر اٹک گئی لفظ ایسا مشکل بھی نہ تھا اور شاعرہ نے دو ایم اے بھی کررکھے ہیں کبھی وہ اس لفظ کو صالیب تو کبھی صولیب پڑھتی اسے پریشان ہوتے دیکھا تو میں نے کہا غالباً یہ صلیب ہے۔ یہی نہیں ہمارے ایک جاننے والے صاحب نے تو تین ایم اے کررکھے ہیں اور نہ جانے کون کون سی ڈگریاں لے رکھی ہیں لیکن کسی کی غزل پڑھتے ہوئے وہ تیرہ شبی کو ’13‘  شبی پڑھ گئے میں نے عرض کیا یہ تیرہ شبی ہے فرمانے لگے اچھا یہ 13 شبی نہیں؟ میں نے سوچا تین ایم اے کرکے یہ 13شبی پڑھ رہے ہیں اور اگر چار کرلیتے تو شائد چودہ شبی پڑھتے۔

قارئین کرام حادثات ادبی بھی ہوتے ہیں جیسے کوئی حادثاتی شاعر بن جائے یا حادثاتی شاعرہ بن جائے فرق اتنا ہے شاعر اگر حادثاتی بنتا ہے تو وہ حادثہ صدمے والا ہوتاہے، لیکن شاعرہ جب حادثاتی شاعرہ بنتی ہے تو وہ حسین حادثہ ہوتا جیسے وہ کسی شاعر کے ہاتھ لگ گئی شاعر صاحب نے اپنا سارا کلام اس پر نچھاور کر دیا بقول فراز:

اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کئے

ہم نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا

آج کے شعراء فیس بک۔ واٹس گروپس میں دوسرے شاعر کو داد اس لئے دیتے ہیں کہ انہیں وصول بھی کرنی ہوتی ہے وہ کسی بھی شعر پر کوئی یک سطری تبصرہ تک نہیں کرسکتے۔ صرف واہ۔بہت خوب۔ عمدہ،شاندار کے الفاظ لکھ دئیے جاتے ہیں، کیونکہ انہیں شعری فہم ہی نہیں شاعری میں لفظوں کا حسن انتخاب کیا ہوتا ہے ردیف قافیہ کسے کہتے ہیں ندرت خیال اور مضمون آفرینی کیا ہے تشبیہات، استعارات۔ تلمیح کا انہیں کچھ پتہ نہیں شاعری میں محاوروں کا استعمال کیا حسن پیدا کرتا کوئی خبر نہیں رمز و ایمائیت سے شاعری میں کیا رعنائیاں پیدا ہوتی ہیں کچھ غرض نہیں انہیں کیا پتہ کہ رمز و ایمائیت کو فن کی بنیاد قرار دیا گیا ہے شاعر فلسفیانہ میلان طبع کی طرف کیسے آمادہ ہوتا ہے جدت پسندی کیا ہے شاعرانہ عظمتیں کیا ہوتی ہیں شاعری میں انوکھے احساسات نئے خیالات کے ساتھ خوبصورت تراکیب میں کیسے بیان ہوتے انہیں اس سے کچھ مطلب نہیں بس قافیہ پیمائی کرنی ہے،میں تو ان شاعروں کی قافیہ پیمائی سے بھی ناخوش نہیں کہ شاعری کے دعویداروں کو تو یہ تک معلوم نہیں کہ قافیوں کے اندر بھی قافیے ہوتے ہیں

میں نے اپنے ایک دوست سے ماسٹر مدن کا ذکر کیا کہ کیسے ایک چودہ سالہ لڑکا موسیقی کے پہاڑ سر کر لیتا ہے ٹھمریاں، پنجابی گیت اردو غزل گوربانی زبان میں جو گایا امر ہوگیا۔کئی گانے والوں کے لاتعداد گانوں، غزلوں اور ٹھمریوں کے سامنے ایک 14 سالہ بچہ استاد کامل بن کر ابھرا جو اپنی پندرہویں سالگرہ بھی نہ منا سکا اور 5 جون 1942ء کو اس جہان فانی سے کوچ کر گیا ماسٹر مدن نے دس گیارہ برس کی عمر میں غزل گائیکی کے اُستادوں سے خراجِ تحسین وصول کیا اس بچے کی بے پناہ شہرت سے گھبرا کر مبینہ طور پر اسے ایک ہم عصر حاسد نے زہر دے دیا تھا، جس میں کندن لال سہگل کا نام بھی آتا ہے۔ مہاتما گاندھی ماسٹر مدن کو تحائف بھی دے چکے ہیں نواب۔ شہنشاہ۔راجے مہارجے سب ماسٹر مدن کے قدردان اور معترف تھے ہمارا تینتیس چونتیس سالہ دوست ہماری بات سن کر بولا بس ہمیں فکر معاش سے فرصت نہ ملی ورنہ ہم بھی کچھ کرتے ہمارے دوست کو یہ معلوم نہیں کہ یہ تو پروردگار کی دین ہے، یعنی آج کا شاعر یا گلوکار ہونے کا دعویدار ماسٹر مدن جیسی غیر معمولی صلاحیتوں کی حامل شخصیت کو سراہتا نہیں، بلکہ کہتا ہے ہم بھی ایسے کارنامے سرانجام دسے سکتے تھے۔ ایسے ہی چند ماہ پہلے تک علم عروض کو سمجھنے کے لئے مارے مارے پھرنے والے ہمارے ایک دوست اب خود اعلان کرتے پھرتے ہیں کسی کو عروض کا علم سیکھنا ہے تو آجائے یہاں مجھے احمد فراز یاد آگئے ہم جدہ میں وفاقی وزیر فواد چودھری کے انکل سابق وفاقی وزیر چوہدری شہباز کے مہمان تھے جہا ں ہم نے احمد فراز کے ساتھ مشاعرہ پڑھنے کی عزت حاصل کی چودھری شہباز صاحب کی جانب سے دئیے گئے

عشائیے میں احمد فراز سے بات چیت کی جو انٹرویو کی شکل اختیار کر گئی، جس میں ہم نے احمد فراز سے بہت سے سوالات کئے میں نے احمد فراز سے پوچھا جناب یہ علم عروض کیا ہے تو انہوں نے فرمایا یہ شاعر کی طبع سلیم ہے۔سبحان اللہ کیا خوبصورت جواب تھا سچ ہے شاعر عروض کا محتاج نہیں ہوتا شاعرکو دم فکر سخن جب شعر ہوتا ہے تو وہ شعر کے تمام تقاضوں کو نبھاتا ہوا ہوتا ہے میر و غالب سے لے کر فیض فراز تک عروض کہاں زیر بحث آیا؟ان واٹس گروپس سے ایک بات تو واضح ہوئی ہے کہ ان کے بنائے جانے کے زیادہ مقاصد خالصتاً کاروباری اور نمائش ہے ادب کا سہارا لے کر ادب کے نام پر اپنے اپنے کارووبار چمکائے جاتے ہیں سستی شہرت کے لئے ہاتھ پاؤں مارے جاتے ہیں اور بس قارئین کرام اس کالم کے پہلے پیرا گراف میں ایک محکمے کے بڑے افسر کا ذکر کیا تو اس سے مجھے اپنے حکمران یاد آگئے ہیں،جو یہ سمجھتے ہیں کہ بڑے صاحب صرف انہیں ہی تکریم دیتے ہیں اور وہ بڑے صاحب کی آنکھ کا تارا بن چکے ہیں نہیں ایسا ہر گز نہیں بلکہ بڑے صاحب ہر ایک کو عزت و احترام سے نوازتے ہیں بعض اوقات بڑے صاحب کسی سے خفا بھی ہوجاتے ہیں لیکن ایسا نہیں کہ بڑے صاحب کی خفگی کو دوام مل گیا کیونکہ بڑے لوگ بڑے ہوتے ہیں ان کے دل و نظر میں بھی وسعت ہوتی ہے یہ اپنی ناراضی کو وقت کے ساتھ ختم بھی کردیتے ہیں اس لئے حکمرانوں کے لئے احتیاط لازم ہے۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment