0

جے میں ویکھاں عملاں ولےّ

جے میں ویکھاں عملاں ولےّ

میدان سیاست ہویا کھیل کامیابی کے لئے صحیح ٹائمنگ سے ہر سیاستدان اور ہر کھلاڑی کا آگاہ ہونا ضروری ہے۔ بہت اچھا قدم غلط وقت پر اٹھایا جائے تو وہ فائدے کی بجائے نقصان کا باعث ہو سکتا ہے اسی طرح وقت اچھا ہو اور اقدام غلط ہو تو وہ بھی تباہ کن نتائج دے سکتا ہے۔

ایک قدم اٹھا تھا غلط راہ شوق میں

منزل تمام عمر مجھے ڈھونڈتی رہی

اب سوچیں کہ اگر ایک غلط قدم سے منزل دور ہو جاتی ہے تو پے در پے غلط اقدامات کے نتائج کیا نکلیں گے؟ جب بھی کوئی نئی حکومت تشکیل پاتی ہے تو کچھ عرصہ تک اس سے آس امید وابستہ رہتی ہے۔ اس کی غلطیوں سے یہ کہہ کر در گزر کیا جاتا ہے کہ ”ابھی نئے ہیں“ اپنے تو جڑے ہی رہتے ہیں حلیف بھی ساتھ کھڑے رہتے ہیں اور عوام چھے کی دعا مانگتے ہوئے امید زندہ رکھتے ہیں۔ یہ ”ہنی مون پیریڈ“ کہلاتا ہے۔ جب یہ وقت گزر جاتا ہے تو رعایت ختم ہو جاتی ہے، چیزوں کو میرٹ پر دیکھا جانے لگتا ہے۔ اچھے اقدام کو اچھا اور برے کو برا کہا جانے لگتا ہے۔ مخالفین اعتراضات اٹھانے لگتے ہیں اور جو اپنے ہیں وہ دفاع سے پہلو تہی کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کے بعد خوفناک مرحلے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ عوام میں مایوسی پھیل جاتی ہے۔ مخالفین حملہ آور ہو جاتے ہیں اور حلیف بیگانے بیگانے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اپنی صفوں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ اسی کو اختتام کا آغاز بھی کہا جاتا ہے۔ ہمارے موجودہ حکمرانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کا ہنی مون پیریڈ بھی عوام کے لئے ”عدت کا موسم“ دکھائی دینے لگا۔ حالانکہ تمام مقتدر قوتیں ان کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی تھیں۔ ایک پیج پر کھڑے اور موجود ہونے کا بھرپور تاثر موجود تھا۔ عدلیہ اور مقتدرہ کا بھرپور تعاون حاصل تھا۔ اپوزیشن کو عدلیہ اور بعض اداروں (نیب وغیرہ) کی کارروائیوں کی وجہ سے اپنی پڑی تھی۔ بظاہر رکاوٹ کوئی نہیں تھی۔ کام کرنے کی مکمل آزادی تھی۔ عوام کی بہبود، معیشت کے استحکام ملک کی خوشحالی اور ترقی کیلئے میدان کھلا تھا۔ انتخابی دور کی تقاریر بتاتی تھیں کہ پروگرام بھی موجود ہے اور وژن بھی غیر ملکی اعلیٰ تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے خوشحال ماہرین کی ٹیم موجود ہونے کا دعویٰ بھی بار بار کیا جاتا رہا۔ لیکن اس کے باوجود اگر کچھ نہیں ہوا بلکہ پہلے سے ہوابھی غارت کر دیا گیا ہے تو اس قوم کی بدقسمتی قرار دے کر آنکھیں موند لینا کوئی عقلمندی نہیں۔ عوامی سطح پر اسے حکمرانوں کی نالائقی اور نا اہلی قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے ایک شاعر نے بابا بلھے شاہ کے کلام میں اس طرح گرہ لگائی ہے۔

جے میں ویکھاں عملاں ولے، کچھ نہیں ”تیرے“ پلے

جے ویکھاں تقریراں ولے بلے بلے بلے بلے (بیٹ)

وقت یوں بھی کروٹ لیتا ہے کہ جس کی تقریر پر لوگ سر دھنتے تھے اب اسی کی تقریر ”گاٹے فٹ“ ہونے لگی ہے۔ قومی اسمبلی میں کسی ہوٹنگ اور شور شرابے کے بغیر 75 منٹ تک پر امن ماحول (تقریباً دوستانہ ماحول) میں خطاب کا ایک لفظ پکڑ میں آ گیا ہے۔ امریکی فوجی چھاپہ مار کارروائی کے دوران ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے کپتان نے ”ہلاک کر دیا“ کے بعد ”شہید کر دیا“ کے الفاظ کا اضافہ کر دیا۔ اس پر مسلسل لے دے ہو رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف نے اسامہ کو دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد قرار دے دیا۔ پیپلزپارٹی تو پہلے ہی اسے دہشت گرد کہتی ہے البتہ سخت سیاسی مخالفت کے باوجود مولانا فضل الرحمن کی جماعت جے یو آئی نے اسامہ کے لئے لفظ شہید کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کپتان نے مولانا فضل الرحمن کے موقف کی تائید کر دی ہے۔ چلیں کسی بہانے کپتان کو جے یو آئی کی صفوں میں پذیرائی تو حاصل ہوئی۔ لیکن یہ پذیرائی سیاسی طور پر کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ امریکہ سمیت عالمی قوتوں کو یہ لفظ ہضم کرنا مشکل ہو گا اور خان کے لئے انہیں یہ باور کرانا مشکل تر ہو گا کہ ”زبان پھسل گئی تھی ہماری پالیسی یہ نہیں ہے“ اندرون ملک جو وقت تبدیل ہو رہا ہے تو اس میں اپوزیشن کا کوئی عمل دخل نہیں یہ خود حکمرانی اقدامات کا فطری نتیجہ ہے۔

یہ جو روپیہ سستا اور باقی ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے تو اس سے عوام حقیقی معنوں میں پریشان ہیں۔ وہ اپوزیشن لیڈروں اور جماعتوں سے متاثر نہیں ہو رہے بلکہ حکمران جماعت اور اس کے رہنماؤں سے مایوس اور متنفر ہو رہے ہیں۔ ابھی زندہ باد کی آوازیں مردہ باد میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ خود حکمران جماعت کے اندر سے اٹھنے والی آوازیں حکمرانوں کی رہی سہی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ بائیس ماہ کی حکمرانی سے عوام میں یہ تاثر مستحکم ہو گیا ہے کہ یہ حکومت نا کام ہو چکی ہے۔ انتظامی ناکامی کا اس سے اندازہ لگائیں کہ دنیا بھر میں تیل سستا ہوا۔ ہمارے ہاں بھی نرخ کم کئے گئے مگر اس کے خوشگوار اثرات دیگر ضروریات زندگی پر نظر نہ آئے۔ تیل مزید سستا کیا گیا تو سرے سے ملنا ہی مشکل ہو گیا۔ چینی کا معاملہ چھیڑا گیا تو وہ مہنگی ہو گئی۔ آٹے پر توجہ دینے کا دعویٰ کیا گیا تو وہ پہلے غائب پھر مہنگا ہو گیا۔ بجلی تو خود کئی بار مہنگی کی جا چکی۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت چڑھی تو اپنے ہاں اچانک 25 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا۔ حالانکہ حکومت پٹرول پر 47 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے جبکہ ڈیزل پر 51 روپے فی لیٹر ٹیکس لے رہی ہے ان ٹیکسوں میں ذرا کمی کرکے عوام پر پڑنے والا بوجھ بھی کچھ کم کیا جا سکتا تھا۔ پٹرول ڈیزل اور مٹی کے تیل کے ساتھ ساتھ ایل پی جی کے نرخ بھی بڑھا دیئے گئے ہیں۔

اب اس طرح بقول شخصے حکومت نے پٹرول کے اتنے زیادہ نرخ بڑھا کر قیمتوں کو ”اڑن گیئر“ لگا دیا ہے۔ اب مہنگائی کا سونامی آئے گا۔ شہریوں کے استعمال کی کوئی چیز نہیں بچے گی کہ جس کے نرخ نہ بڑھائے جائیں گے۔ کپتان کی ٹیم میں ایک بڑی تعداد غیر منتخب مشیروں کی ہے۔ ان کا ہاتھ عوام کی نبض پر نہیں ہوتا۔ لطیفہ یہ ہے کہ بقول وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری بھی مشیر زیادہ با اختیار ہیں۔ عوام کے منتخب وزیر بے معنی و بے اختیار اور لاتعلق ہوتے جا رہے ہیں جبکہ بیورو کریسی حاوی ہوتی جا رہی ہے ، بیورو کریسی حسابی کتابی، اعداد و شمار کی اسیر ہوتی ہے۔ اسے سیاسی نفع نقصان سے کوئی غرض نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ وہ غیر مقبول فیصلے کرتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ منتخب کپتان انہی کے فیصلوں کو لاگو کرتے جا رہے ہیں۔

اس کے نتائج بیورو کریسی نہیں، سیاسی قیادت کو بھگتنا ہوں گے اور یہ نتائج سامنے آنا شروع بھی ہو گئے ہیں۔ راجہ ریاض، خواجہ شیراز، ندیم افضل چن سمیت حکمران جماعت کے کتنے ہی رہنما چیخنا شروع ہو گئے ہیں بلکہ یار لوگوں کے خیال میں وہ ادھر ادھر دیکھنا بھی شروع ہو گئے ہیں۔ حکومتی تسبیح کا ایک دانہ گرنے کی دیر ہے پھر معاملات سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ اب اگر شہباز شریف بلاول زرداری یا پرویز الٰہی خوش ہونا چاہیں تو ان کا حق بنتا ہے لیکن حقیقت ابھی اتنی ہے کہ حکمران جماعت غیر مقبولیت کے گڑھے میں گرتی ضرور جا رہی ہے مگر ابھی مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے لئے میدان صاف نہیں ہے۔ انہیں ابھی سیاست میں خاصا طویل سفر طے کرنا ہے۔ ابھی بعض مقتدر حلقوں کے تحفظات موجود ہیں۔ حکمران بلا شبہ اپنا ہنی مون پیریڈ برباد کر کے عوامی غیض و غضب کا شکار ہونے کے تمام لوازمات فراہم کئے جا رہے ہیں اور ان کا ڈھلوان کا سفر شروع ہو چکا ہے مگر انہیں آئینی مدت پوری کرنے کا پورا موقع ملنا چاہئے۔ یہی جمہوریت کا تقاضا ہے اور عوامی حکمرانی کی بقا کے لئے ناگزیر بھی، اچانک ہونے والے حادثات بالآخر نقصان ہی پہنچاتے ہیں۔

مزید :

رائےکالم





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں