Home » جیالے جہانگیر بدر کی چوتھی برسی پر!

جیالے جہانگیر بدر کی چوتھی برسی پر!

by ONENEWS

جیالے، جہانگیر بدر کی چوتھی برسی پر!

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیپلزپارٹی کے مرحوم سیکریٹری جنرل سابق وفاقی وزیر اور سینٹر جہانگیر بدر کو زبردست خراج پیش کیا اور ان کی پارٹی کے لئے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا وہ ایک نڈر، دلیر اور بہادر جیالے تھے۔ بلاول ان دنوں گلگت، بلتستان کے انتخابات کے حوالے سے وہاں موجود ہیں اور یہ بات انہوں نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہی، جہانگیر بدر کی یہ چوتھی برسی ہے، آج (اتوار) ان کے گھر پر فاتحہ خوانی کی تقریب ہے جس کا اہتمام ان کی اہلیہ رخشندہ بدر، صاحبزادوں ذوالفقار علی بدر اور جہاں زیب بدر نے کیا۔

ڈاکٹر جہانگیر بدر جو ہم سب کے لئے بادشاہ تھا کو یہ عرفیت تو ان کی والدہ نے دی تاہم مرحوم بابو مشتاق نے اسے باقاعدہ لقب کی صورت کوٹ لکھپت سنٹرل جیل میں دی، بابو مشتاق وہاں اپنے ایک مقدمہ کے حوالے سے مقید تھے اور جہانگیر بدر کو ضیاء کے مارشل لاء نے ایک سال کے لئے پہنچا دیا تھا، تعلق تو تھا ہی لیکن کہتے ہیں جیل کی دوستی مضبوط ہوتی ہے چنانچہ ان کی دوستی بھی مثالی ہو گئی اور بابو مشتاق نے ”بادشاہ“ کی عرفیت کو باقاعدہ لقب اس لئے بنایا کہ جہانگیر بدر جیل والوں کے کسی ”سلوک“ کی شکایت نہیں کرتے تھے شاید یہی وجہ تھی کہ جیل سپرنٹنڈنٹ حمید جو ان دنوں حمیدا پستول کہلاتے تھے۔ سخت گیر ہونے کے باوجود ”بادشاہ“ کے پابند نظم و نسق ہونے کے قائل تھے، چنانچہ وہ ان کی ملاقات میں رکاوٹ پیدا نہیں کرتے تھے۔ مرحوم جہانگیر بدر کی والدہ ہر ہفتے خصوصی طور پر اس کی پسند کا کھانا بڑے دیگچوں میں پکا کر لاتیں اور یہ سب نہ صرف اندر والے مل کر کھاتے بلکہ ہم جیسے دوست بھی اگر ملاقات کے لئے گئے ہوتے تو شامل ہو جاتے تھے۔

”بادشاہ“ سے ہمارا تعلق کئی حوالوں سے تھا محلے داری، عزیز داری کے علاوہ ان کی طالب علم راہنما اور ہماری جرنلسٹ کے طور پر سرگرمیاں ہمیں زیادہ قریب لے آئیں اور ہم بھی اس خاص ٹولی میں شامل تھے جو میاں اکرم، پیر عرفان اشرف عرفی اور احسان سہیل جیسے دوستوں پر مشتمل تھی یہ سب اس کے یونیورسٹی فیلو اور سپورٹر بھی تھے اور اس کے لئے مرنے مارنے کو بھی تیار رہتے تھے۔ اس میں ہمارے ہمراز احسن بھی شامل ہو گئے تھے اور ہم ان سب کے یوں بھی مشکور ہیں کہ جب 1974ء میں روزنامہ مساوات سے برطرفیوں کے خلاف تحریک جاری تھی اور عباس اطہر، شاہ جی، ہمیں مروانے پر بھی تلے ہوئے تھے تو ان دوستوں نے ہمارا شہری ہونے جیسا ساتھ دیا تھا حتیٰ کہ ایک روز روزنامہ مساوات کے باہر ہمارا احتجاجی جلسہ ”شاہ جی“ کے ایک ”بہادر“ کارکن نے الٹانے کی کوشش کی تو یہی ہمارے دوست کام آئے۔ احسان سہیل نے تو اس موصوف کو ایک کرارا تھپڑ بھی رسید کیا جو حاضرین پر رعب ڈال کر جلسہ الٹانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان جیسے مخلص دوستوں اور ساتھیوں کی محنت اور کنویسنگ کے باوجود جہانگیر بدر دو بار یونیورسٹی یونین کا صدارتی الیکشن جیت نہ سکے۔

یہ باتیں تو اپنی جگہ ان کے ساتھ اتنا اتنا دیرینہ اور خصوصی تعلق تھا کہ شروع کریں تو داستاں ختم نہ ہو گی ہم تو ان کو اسی حوالے سے خراج پیش کرتے ہیں کہ وہ واقعی بادشاہ تھا خالد قیوم اور  بہت سے ساتھیوں کو ان کی وہ مجالس یاد ہوں گی جو ان کی وحدت روڈ والی رہائش پر ہوتی تھیں لکھتے لکھتے جو واقعہ یاد آیا اور وہ بتانا تھا کہ جہانگیر بدر کی شادی 18 اپریل 77ء اور ولیمہ  19 اپریل 77ء کو ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان قومی اتحاد نے بھٹو حکومت کے خلاف تحریک شروع کر رکھی تھی، یوں جہانگیر بدر کے دوستوں، ان کی اہلیہ اور اہل خانہ کو یہ پیریڈ بہت اچھی طرح یاد ہے۔ ہم قارئین کو وہ قصہ بتاتے ہیں جب ذوالفقار علی بھٹو مقدمہ قتل میں پہلی مرتبہ گرفتار ہوئے اور ضمانت پر رہا ہو کر آئے تو پیپلزپارٹی والوں نے ان کا استقبال کیا مظاہرے کئے، جہانگیر بدر غالباً صوبائی سیکریٹری جنرل تھے اس دوران کچھ ایسا حادثہ ہوا کہ مولانا شاہ احمد نورانی، ظفر علی روڈ سے گزر رہے تھے، ان کا سامنا جیالوں سے ہو گیا اور نعرہ بازی ہوئی۔ الزام عائد ہوا کہ حضرت نورانی کی دستار مبارک سے چھیڑ چھاڑ کی گئی اس الزام میں جو مقدمہ درج ہوا، اس میں جہانگیر بدر کو نامزد کر کے گرفتار کر لیا گیا اور پھر تیزی سے سمری ملٹری کورٹ میں پیش کر کے ایک سال قید اور پانچ کوڑوں کی سزا سنا کر سنٹرل جیل کورٹ لکھپت بھیج دیا گیا۔

ایک تو خوشی کی خبر تھی جو مرحوم کو ان کی والدہ نے اسی اسیری کے دوران دی کہ اللہ نے ان کو اولاد نرینہ عطا کی ہے، یہ جو ہمارے برخوردار ذوالفقار علی بدر ہیں۔ یہ دنیا میں تشریف لائے تھے اور چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی محبت میں ان کا نام ذوالفقار علی بدر رکھا گیا تھا، دوسری گزارش کوڑوں والے واقعہ سے متعلق ہے کہ پیپلزپارٹی کے جیالے بڑے سرگرم تھے۔ جنرل ضیاء الحق نصیحت کے لئے کوڑوں پر بھروسہ کرتے تھے انہوں نے خصوصی ہدایت کی کہ لاہور میں کسی راہنما کو کوڑے لگوائے جائیں۔ تب جہانگیر بدر ہی ایسے راہنما تھے جو سزا بھگت رہے تھے چنانچہ ایک روز سنٹرل جیل میں ایک میجر صاحب تشریف لائے اور انہوں نے جیل سپرٹننڈنٹ حمید کو احکام سے آگاہ کیا اور کہا کہ جہانگیر بدر کی کوڑوں والی سزا پر عمل کیا جائے تب ذوالفقار علی بھٹو بھی ضمانت کی منسوخی کے بعد سنٹرل جیل آ چکے تھے اور ان کو کوٹھری سے وہ میدان واضح نظر آتا تھا جہاں کوڑے لگائے جانا مقصود تھا۔

سپرنٹنڈنٹ جیل نے میجر صاحب پر واضح کیا کہ بدر کو کوڑے نہیں لگائے جا سکتے کہ ان کی سزا کنفرم نہیں ہوئی اور اپیل باقی ہے ان دو افسروں کے درمیان تکرار ہوئی تو میجر صاحب نے کہا ”آپ بدر کو بلائیں تو سہی،  جب بدر آئے اور آمنا سامنا ہوا تو دونوں بغل گیر ہو گئے کہ یونیورسٹی کے کلاس فیلوز تھے بہر حال کوڑے لگنا تھے لگ گئے یہ الگ بات ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی ”مہربانی“ سے تکلیف کتنی ہوئی اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ اگلی ملاقات پر جب حاجی صاحبہ (بدر کی والدہ) اور ہم لوگ ملنے گئے تو اصرار کر کے وہ حصہ دیکھا جہاں کوڑے لگے تھے بدر ٹھیک ٹھاک نظر آئے تھے۔ یادیں ا ور باتیں تو بہت ہیں ان کے دوستوں کے ساتھ تعلق کے حوالے بھی ہیں، لیکن جگہ کی قلت آڑے ہے اللہ مرحوم کے درجات بلند کرے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment