Home » جگنی کے خالق عالم لوہارکی ان سُنی یادیں

جگنی کے خالق عالم لوہارکی ان سُنی یادیں

by ONENEWS


تصویر: ریڈیوپاکستان

منظر ہے سال 1977 کا،برطانیہ کے شاہی محل میں ملکہ الزبتھ چمکیلا بھڑکیلا لاچہ کرتا پہنے مسکراتے چہرے والے ایک شخص کو ” ملکہ تیری سلورجوبلی گھرگھرلوک مناندے نی، جتھے گورے کالے رل کے گیت خوشی دے گاندے نی” گاتے سن رہی تھیں ۔

ہاتھ میں پکڑے چمٹے اور اپنی آوازوانداز سے پنجابی زبان سے یکسرانجان حاظرین کو تالیاں بجانے پر مجبور کردینے والا یہ شخص عالم لوہار تھا جسے ملکہ کی تاج پوشی کے 25 سال مکمل ہونے کی خوشی میں منائی جانے والی تقریبات کے سلسلے میں خصوصی طور پرپاکستان سے دعوت دی گئی تھی۔ “شیرِپنجاب” کہلائے جانے والے عالم نے دولت مشترکہ ممالک کے تمام گلوکاروں کے درمیان اس مقابلے میں بہترین پرفارمنس کا میڈل جیتا۔

ملکہ کے اعزاز میں گایاجانے والا عالم لوہار کا گانا ” انگلینڈ دیے سرکارے نی” سنیے

https://www.youtube.com/watch؟v=dU3Xxl80IjU

عالم لوہارمارچ 1928 کو گجرات کی تحصیل کھاریاں کے قریب ایک قصبے آچھ گوچھ میں پیدا ہوئے۔ مغل لوہارخاندان کے اس سپوت نے 8 سال کی عمرسے ہی محفلوں میں گانے کا آغازکیا اورتوجہ حاصل کرلی۔ پنجابی صوفیانہ کلام اور لوک داستانیں ان کی وجہ شہرت بنیں۔ آج اس لیجنڈری گلوکار کی 41ویں برسی پر کچھ یادیں تازہ کرتے ہیں۔

تصویر: یوٹیوب

عالم لوہار کی پہچان ان کا چمٹہ تھی ، کچن میں روٹیاں پکانے کیلئے استعمال کیے جانے والے اس آلے کو اس سے قبل کبھی موسیقی کے لازم وملزوم نہیں سمجھا گیا لیکن عالم کی گائیکی اس کے بناء ادھوری تھی۔ ان کا اول آخرساز چمٹہ ہی تھا۔

موسیقی سے دلچسپی رکھنے والوں نے “جگنی” نہ سنی ہو، ایسا ممکن نہیں۔ جگنی نے انہیں شہرت کی بلندیوں پرپہنچایا۔

جگنی سنیے اور سر دھنیے

https://www.youtube.com/watch؟v=Vb-PbEP3F-I

عالم لوہار کی “جگنی” کو بہت سارے گلوکاروں نے اپنے اپنے انداز میں گایا لیکن ویسا کمال کوئی نہ دکھاپایا۔ جگنی کو بہت س فلموں میں بھی شامل کیا گیا۔

فلم خانہ جنگی میں “جگنی” گانے والے لوہار ویڈیو میں بھی شامل تھے۔

https://www.youtube.com/watch؟v=dBzWHqZ6gCM

ساتھ ہی “ہیروارث شاہ” کو موسیقی کی 30 سے زائد اصناف میں گانا بھی عالم لوہارکا ہی خاصہ ہے۔ پنجابی سے محبت کرنے والے انہیں سرآنکھوں پربٹھاتے۔

ایک گٹھڑی اور چمٹے کے ساتھ میلوں ٹھیلوں ، تھیٹر کےبعد عالم لوہارنے تیزی سے ریڈیو ، ٹی وی اور فلم کا سفر طے کیا، لیکن مزاج ویسا ہی عاجزانہ رہا۔

تصویر: یوٹیوب

ایک ریڈیو انٹرویو میں عالم لوہارنے دلچسپ قصہ سنایا ” ہمارے گاؤں سے لوگ مزدوری کیلئے لاہور جایا کرتے تھے، وہاں سے کسی نے کہا کہ ہم نے کسی دیہاتی کو سننا ہے، انہوں نے میرا بتایا اور مجھے میوہ منڈی میں موسیقی کے پروگرام میں مدعو کرلیا۔ پرفارمنس کے بعد جب مجھ سے کسی نے پوچھا، توےپرریکارڈنگ کرواؤ گے؟ جواب میں ، میں نے کہا وہ گرم توے تو نہیں ہوتے،ویسے تومیں لوہارہوں تو توے بنا لیتا ہوں”۔ پوچھنے والے کا اشارہ گراموفون کے ریکارڈ کی جانب تھا جو دکھنے میں توے جیسا ہی ہوتا ہے۔

وہ دلچسپ انٹرویو اور گھڑے کی تال پر یوسف کا قصہ یہاں سنیے۔

https://www.youtube.com/watch؟v=i8j_IxXjj5Y

عالم لوہار نے صرف 15 سال کی عمر میں اپنا پہلا کلام ریکارڈ کروایا۔ اس کے بعدریڈیوپاکستان جاپہنچے اور پھرپیچھے مڑ کرنہ دیکھا۔

میاں محمد بخش، بابا بلھے شاہ، خواجہ غلام فرید، بابا بلھے شاہ، شاہ حسین اور سلطان باہوکا کلام گانے والے عالم لوہار نے نعت خوانی، کافی، سیف الملوک، ماہیے،بولیاں، قصے( مرزا صاحباں، ہیر رانجھا، سسی پنوں، قصی یوسف اور دیگر) کو بھی ایسے پیش کیا کہ سننے والے کھوجاتے۔

سیف الملوک

https://www.youtube.com/watch؟v=OGw5oKrmxvI

ان کے گائے نغموں میں “اے دھرتی پنج دریا دی”، “واجاں ماریاں” “مونڈھامار کے ہلا گئی” ، “دل والا دکھڑا” ، “بول مٹی دیا باویا” ، “جس دن میرا ویاہ” ، “میں نیل کرائیاں نیلکاں ” سمیت تمام قصے آج بھی پسندیدہ ترین ہیں۔

مصطفیٰ قریشی اور سلطان راہی کی فلم ” بائیکاٹ” میں عالم لوہار کا گیت ” مونڈھا مار کے ہلا گئی جے مینوں “ان کے زبردست مکالموں کے ساتھ سنیے جب الٹراماڈرن لڑکیاں ان کے کندھے سے ٹکراتے ہوئے گزریں تو ان پرکیا گزری۔

https://www.youtube.com/watch؟v=Sy9Y_l0sSwE

صوفی گیتوں سے دلچسپی رکھنے والے عالم لوہارکا سدا بہار گیت ” میں ویکھدا ای رہ گیا” سنیے

https://www.youtube.com/watch؟v=RLXFTNrMY54

یہ لیجنڈری گلوکار 3 جولائی 1979 کو مانگا منڈی کے قریب ٹریفک حادثے میں اس دنیا کو الوداع کہہ گیا۔

تصویر: وکی پیڈیاکامنز

عالم لوہار کی تدفین لالہ موسیٰ میں ہوئی۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ایک سڑک بھی ان کے نام سے منسوب کی، انہیں بعد ازمرگ تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازاگیا۔

والد کے فن کو ان کے بیٹے فوک گلوکارعارف لوہار نے بخوبی زندہ رکھا ہواہے۔

.



Source link

You may also like

Leave a Comment