Home » جگت باز سیاسی کلچر کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں

جگت باز سیاسی کلچر کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں

by ONENEWS

جگت باز سیاسی کلچر، کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں

سٹیج ڈراموں کے جگت باز تو تماشائیوں کی نظر میں اپنی اہمیت کھو چکے اس لئے تھیٹروں پر اب زیادہ تر رقاصاؤں کے ذریعے شائقین کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ البتہ جگت بازی کی یہ روایت اب سیاست میں آ گئی ہے۔ جب سے سیاسی جماعتوں نے ترجمانوں کی فوج ظفر موج رکھنے کی روایت ڈالی ہے،گویا جگتوں کا جمعہ بازار لگ گیا ہے۔ صرف جگتیں ہی نہیں ایسی ایسی حرکتیں بھی سرزد ہو رہی ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایک خاتون نے دوسری خاتون کو باکسنگ کے لئے رنگ میں اترنے کا چیلنج دیا ہے، سیاست نے یہ دن بھی دیکھنے تھے کہ ایک حکومتی ترجمان خاتون ملک کی ایک اہم اپوزیشن لیڈر کو باکسنگ فائٹ کا چیلنج دے رہی ہیں کیا یہ ضروری ہے کہ لوگ جو کہیں آپ اس کی رو میں بہہ جائیں۔ اگر کسی منچلے نے یہ پوچھ لیا کہ آپ مریم نواز سے باکسنگ فائٹ کا چیلنج قبول کرتی ہیں تو کیا اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں میں قبول کرتی ہوں، برائلر مرغیوں کی میرے سامنے کیا حیثیت  ہے۔

کیا ایسا سوال کرنے والے کو یہ جواب دینا مناسب نہیں تھا کہ ایسی باتیں نہ کریں جو ہمارا کام نہیں وہ ہم کیسے کر سکتی ہیں۔ ماشاء اللہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان خاصی ڈیل ڈول والی خاتون ہیں،مگر ہیں تو خاتون اور وہ بھی ایک سیاستدان جو ایک اعلیٰ حکومتی منصب پر فائز ہیں کیا انہیں یہ باتیں زیب دیتی ہیں، کیا انسانوں کے لئے برائلر مرغیوں کی اصطلاح استعمال کرنا مناسب ہے، کیا یہ کافی نہیں کہ آپ مریم نواز کو راجکماری کہتی ہیں، کل کلاں آپ کبڈی کے کسی ٹورنامنٹ کا افتتاح کرنے جاتی ہیں یا کسی دنگل میں مہمانِ خصوصی بنتی ہیں اور وہاں کوئی شرارتی رپورٹر یہ پوچھ لیتا ہے کہ آپ مریم نواز سے کشی کا چیلنج قبول کریں گی اور آپ جھٹ سے یہ کہتی ہیں کہ ہاں قبول کروں گی، ایک ہی جھٹکے میں انہیں چت کر دوں گی تو کیا اس بیانئے سے آپ کی سیاسی فتح ہو جائے گی۔ ایک حکومتی ترجمان کی حیثیت سے تو ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ایسے سوالوں اور ایسی باتیں کرنے والوں کی سرزنش کریں، چہ جائیکہ وہ اپنی طرف سے دو مزید لگا کے اس بیانئے کو آگے بڑھائیں۔

صرف ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ہی اس سارے جگت باز کلچر کی خالق نہیں، بلکہ حکومتی اور اپوزیشن کے ترجمانوں میں ایک دوڑ لگی ہوئی ہے، جس طرح امان اللہ مرحوم اور ببوبرال میں جگتوں کا مقابلہ جاری رہتا تھا اور زیادہ تر مقدس رشتوں کی پامالی کو ان جگتوں کی بنیاد بنایا جاتا تھا، اسی طرح اب مدلل تنقید کی بجائے سیاسی جگت بازی کا کلچر عام ہو گیا ہے۔ آئے روز ایک دوسرے کی پگڑی اچھالی جاتی ہے، بھد اڑائی جاتی ہے۔ وہ شائستگی اور بردباری جو کسی دور میں پاکستانی سیاست کا خاصہ ہوتی تھی، اب خواب و خیال بن گئی ہے، اچھے اچھے سینئر سیاستدان اور وزیر و مشیر اس لہر میں بہہ گئے ہیں۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ خواجہ آصف نے ”کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے“ کا جملہ استعمال کرکے اسمبلی کے اندر سے ناشائستہ زبان کو عام کیا تھا، وہ اب چاروں طرف پھیل گئی ہے، اسمبلی کے اندر ایک دوسرے پرایسے شخصی حملے کئے جاتے ہیں کہ کئی بار سپیکر کو الفاظ حذف کرانے پڑتے ہیں۔ ذومعنی جملوں کے ذریعے کردار کشی کی جاتی ہے اور عوام جب براہ راست ٹی وی پر دیکھ رہے ہوتے ہیں تو دانتوں میں زبان دبا کے رہ جاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ سیاست میں بونوں کا راج ہے، جنہیں یہ تک معلوم نہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ کیمرے اور ٹی وی سکرین پر آنے کے خبط نے ہمارے سیاستدانوں کو بھی اسٹیج کے جگت باز فنکاروں کی طرح اس جنون میں مبتلا کر دیا ہے کہ ایسی جگت مارو کہ بریکنگ نیوز بن جائے اور اگلے دن اخبارات کی شہ سرخیوں میں جگہ پائے۔ بدقسمتی سے ہمارے آج کے سیاستدانوں نے عوام کو تھیٹروں کے تماشائی سمجھ لیا ہے جو اچھے جملے، اچھی جگت پر خوش ہوتے ہیں اور اسی بنیاد پر پارٹی کی حمایت شروع کر دیتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے کسی رہنما سے اس کا ذکر کرو تو وہ یہ ماننے کو تیار نہیں ہوگا کہ سارا کیا دھرا حکومت کے ترجمانوں اور وزیروں و مشیروں کا ہے، وہ سارا الزام مسلم لیگ (ن) اور پیپلزاپرٹی پر لگائے گا۔ آج کل تو ان کے پاس بہت سا مصالحہ موجود ہے۔ وہ مریم نواز کی تقریروں کا حوالہ دیتے ہیں، جن میں وزیراعظم عمران خان پر مختلف ناموں کے فتوے لگائے جاتے ہیں۔ بندہ ایماندار ہے، تابعدار ہے، مودب ہے، کہہ کر تابعدار خان، ایماندار خان اور مودب خان کے نام دیئے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات غلط ہے، مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان لفظوں میں غیر شائسگی یا گھٹیا پن کا کوئی عنصر موجود ہے۔ ویسے یہ لفظ بہت کاٹ دار ہیں، اگر انہیں ایک خاص پس منظر میں دیکھا جائے۔ اب ان کا توڑ کرنے کے لئے غالباً ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، مریم نواز کو راجکماری کہتی ہیں۔چلو یہ بھی کوئی معیوب لفظ نہیں لیکن جب آپ یہ کہتی ہیں برائلر مرغیاں میرا مقابلہ نہیں کر سکتیں تو پھر معاملہ معیار اور اقدار سے بہت نیچے گر جاتا ہے، اسے کسی بھی طرح سیاست کی زبان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انسانوں کے لئے جانوروں کے نام استعمال کرنا ویسے بھی ایک پھکڑپن سمجھا جاتا ہے۔ سیاسی مخالفت چاہے جتنی بھی ہو، بات دلیل سے ہونی چاہیے، کیونکہ پوری قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہوتی ہے اور میڈیا کے ذریعے آپ کی ہر بات گھر گھر پہنچتی ہے۔وقتی طور پر چینلوں کی بریکنگ نیوز بن جاتی ہے، لیکن اس کی وجہ سے معاشرے میں بگاڑ کا جو کلچر پروان چڑھتا ہے وہ ایک بہت بڑی قیمت ہے۔

سیاستدانوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ وہ اسٹیج ڈراموں کے کردار نہیں، بلکہ قوم کی رہنمائی کرنے والا طبقہ ہیں۔ ان پر اگر مسخرے پن کا لیبل لگ جائے تو ساری زندگی اسے اتارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کی بات میں اگر سنجیدگی، متانت، بصیرت اور سچائی نہیں تو پھر ان کا سیاست میں کردار سوائے ایکسڑا اداکار کے اور کچھ نہیں۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں میں ایسے ان گنت پیرا شوٹرز آ گئے ہیں جن کی کوئی سیاسی ساکھ ہے اور نہ انہیں اس بات کی فکر ہے کہ عوام کیا سوچیں گے۔ انہیں بھانڈوں کی طرح جگتیں لگا کے اپنے لیڈر کو خوش کرنا ہوتا ہے۔ بدقسمتی یہ بھی ہے کہ خود ان کے لیڈر بھی انہیں نہیں روکتے،بلکہ شاباش دیتے ہیں۔ کیا آج کے پھبتیوں اور جگتوں بھرے سیاسی کلچر کو دیکھ کر کوئی یہ توقع رکھ سکتا ہے کہ اس کے ذریعے ملک میں حقیقی جمہوریت پروان چڑھے گی؟اخلاقی زوال نے آج ہمارا یہ حال کر دیا ہے کہ پارلیمنٹ کے اجلاس تک نہیں ہو پاتے، کیونکہ ان میں ایک دوسرے پر ایسے ذاتی اور رکیک حملے کئے جاتے ہیں کہ انتشار پھیل جاتا ہے اور سپیکر کے پاس اجلاس ملتوی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment